Daily Mashriq


ٹیکس نادہندگان کیخلاف خصوصی مہم سنجیدہ ہونی چاہئے

ٹیکس نادہندگان کیخلاف خصوصی مہم سنجیدہ ہونی چاہئے

فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) ملک بھر میں ٹیکس نادہندگان سے ریکوری کیلئے جاری کوششیں اور نادہندگان کو رعایت دینے اور ٹیکس کی ادائیگی کیساتھ غیرقانونی دولت اور جائیدادوں کو قانونی بنانے کا عمل تنقید کے باوجود احسن قدم ہے، تاہم ایمنسٹی سکیم کو نتیجہ خیز بنانے کیلئے ایف بی آر کے نظام کو بھی سہل بنانے پر توجہ کی ضرورت ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ملکی محصولات اور آمدنی کے ضمن میں ایف بی آر بنیادی کردار کا حامل ادارہ ہے لیکن اس پر افسوس کا اظہار ہی کیا جا سکتا ہے کہ ایف بی آر کبھی بھی ریوینو اکھٹا کرنے کے ہدف کو پانے کی صلاحیت کا حامل ثابت نہیں ہوا ہے، ایف بی آر کے قوانین سہل سادہ اور ٹیکس دہندگان کیلئے آسان ہونے کی بجائے جس قسم کی پیچیدگی کا باعث ہیں ٹیکس نادہندگی کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے۔ اس ملک کا عام آدمی اور سرکاری ملازمین ہی ٹیکس دیتے ہیں بااثر افراد سے ٹیکس وصولی کا تو رواج تک نہیں جب تک اس قسم کی صورتحال رہتی ہے اس وقت تک ملکی خزانے میں محصولات کی مد میں وہ رقم آنہیں سکتی جو آنی چاہئے۔ ٹیکس نادہندگان کوئی پوشیدہ مخلوق نہیں اور نہ ہی نامعلوم ہیں اور اگر ان کے حوالے سے درست معلومات دستیاب نہ ہوں تو اس کیلئے کوشش کی جاسکتی ہے لیکن اس کے باوجود ایف بی آر کی وہ مساعی نظر نہیں آتی جو ٹیکس وصولی کیلئے درکار ہیں۔ بہرحال اب جو خصوصی مہم چلائی جارہی ہے توقع کی جا رہی ہے کہ ایف بی آر کے حکام اس مہم کو مؤثر بنا کر نہ صرف ریونیو کا مطلوبہ ہدف حاصل کریں گے بلکہ اس میں اضافہ کر کے ملکی خزانے کو سہارا دینے کی اپنی بنیادی ذمہ داری بطریق احسن نبھائیںگے۔ توقع کی جانی چاہئے کہ اس ضمن میں جلد ہی نظر آنے والے اقدامات سامنے آئیں گے اور ایمنسٹی کے خاتمے کے بعد ٹیکس نادہندگان کیخلاف نہ صرف گھیرا تنگ کیا جائے گا بلکہ ٹیکس رقم کی وصولی کر کے قومی خزانے میں جمع کرنے کو بھی یقینی بنایا جائے گا۔

ون ویلنگ کی روک تھام نہ ہو سکی

ون ویلنگ کرنے والے نوجوانوں کی ہونے والی ہلاکتیں کسی المیہ سے کم نہیں لیکن اس کے باوجود ان کیخلاف مؤثر کارروائی نظر نہیں آئی بغیر نمبر پلیٹ کی موٹر سائیکلوں کیخلاف مہم کے باوجود بھی اس کی روک تھام نظر نہیں آتی بغیر نمبر پلیٹس موٹر سائیکلوں پر عوام کو لوٹنے کی وارداتیں نئی بات نہیں، بغیر شناخت کے ان موٹر سائیکلوں کا سیکورٹی رسک ہونا بھی بعید نہیں مگر اس کے باوجود یہ امر سمجھ سے بالاتر ہے کہ یہ موٹر سائیکلیں کینٹ سے بھی گزرتی ہیں۔ ٹریفک پولیس اور ٹریفک وارڈنز کی بھی فوج سڑکوں پر کھڑی ہوتی ہے۔ کسٹم اور ایکسائز کا عملہ بھی سڑکوں پر گنڈاماروں سے سازباز کرتے دیکھا جاتا ہے مگر ان موٹر سائیکل سواروں سے پوچھنے والا کوئی نہیں۔ منچلے موٹر سائیکل سوار کھلے عام ون ویلنگ بھی کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ سکولوں اور کالجوں میں چھٹیوں کے دنوں میں کم سن اور نوجوان طالب علم بھی ون ویلنگ سے دل بہلاتے ہیں اور حادثات کا شکار ہوتے ہیں۔ بعض علاقوں میں رات گئے منچلوں کی جانب سے موٹر سائیکل ریس اور ون ویلنگ کے مظاہرے سے شہریوں کا رمضان کے اس مبارک مہینے میں سکون غارت ہوتا ہے۔ گنڈامار موٹر سائیکل سوار تو کسی قاعدے قانون کو خاطر میں نہیں لاتے۔ مگر ٹریفک کی اصلاح کیلئے مختلف تجربات کرنے والوں کو یہ لوگ دکھائی نہیں دیتے جس کی بناء پر یہ مسئلہ سنگین صورت اختیار کرتا جا رہا ہے۔ ٹریفک وارڈنز کو ان افراد کیخلاف فوری کارروائی کی ہدایت کی جانی چاہئے تاکہ ان کا کام بھی نظر آئے اور شہر میں دندناتے پھرنے والے عناصر کو بھی لگام دی جاسکے۔ اُمید ہے کہ پولیس حکام اس مسئلے کا سنجیدگی سے نوٹس لیں گے اور اس مشکل سے عوام کو نجات دلانے میں اپنا کردار ادا کریں گے۔ والدین کو بھی چاہئے کہ وہ اپنے بچوں کو ون ویلنگ اور موٹر سائیکل ریس لگانے سے روکنے میں اپنا کردار ادا کریں۔ توقع کی جانی چاہئے کہ ان معاملات کا سختی سے نوٹس لیا جائے گا اور ون ویلنگ کرنے والے نوجوانوں کیخلاف نہ صرف قانونی کارروائی کی جائے گی بلکہ پولیس حکام اُن کے گھر جاکر اُن کے والدین کی بھی اپنے بچوں کو اس خطرناک مشغلے کو ترک کرانے کی طرف توجہ دلائیں گے کیونکہ والدین کو سرے سے علم ہی نہیں ہوتا کہ اُن کے بچے موٹر سائیکل لیکر اس قسم کا خطرناک کھیل کھیل رہے ہوتے ہیں۔ والدین کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے بچوں پر نظر رکھیں اور اُن کو اس خطرناک کھیل سے روکیں۔

متعلقہ خبریں