Daily Mashriq

صحافت میڈیا منیجری نہیں ہوتی

صحافت میڈیا منیجری نہیں ہوتی

جب سے سوشل میڈیا استعمال کر رہا ہوں میں اپنے فالورز اور دوستوں کو یہی سمجھانے کی کوشش کرتا ہوں کہ غیرجانبداری نام کی کوئی چیز نہیں ہوتی، اخبار نویس بھی گوشت پوست کے انسان ہی ہوتے ہیں، سردگرم محسوس کرتے ہیں۔ سماجی ماحول کے اثرات اور وہ سب کچھ جو دوسروں کو محسوس ہوتا ہے، مثال کے طور پر میرے بہت سارے دوست کبھی میرے عقیدے کو لیکر فکرمند ہو جاتے ہیں اور کبھی سیاسی رجحانات کو، اصولی طور پر انہیں فکرمند ہونے کی ضرورت نہیں، لیکن ہر انسان کی طرح میرا ذاتی معاملہ ہے، میرے عقیدے یا سیاسی رجحانات کا قلم مزدوری سے کوئی تعلق نہیں جو لکھتا عرض کرتا ہوں اس کے بارے کامل آگاہی کے بغیر عرض کرنے سے گریز کرتا ہوں، ایک جمہوریت پسند نے زمین زادے کی حیثیت سے ہمیشہ ان سطور میں جمہوری قوتوں کی تائید کی، ان کی غلطیوں پر گرفت بھی۔ یہ سوال اپنی جگہ درست ہے کہ کیا اس ملک میں کبھی حقیقی عوامی جمہوریت تھی؟۔ ایک طالب کی حیثیت سے جواب یہ ہوگا کہ ذوالفقار علی بھٹو کا دور چند خرابیوں کے باوجود قدرے جمہوری تھا۔ 35یا 36سال تو اس ملک میں فوجی آمروں نے حکومت کی۔ ہمارے یہاں آج بھی ایسے لوگ بہت ہیں جو ان چار فوجی ادوار کی محبت میں ہلکان ہوئے جاتے ہیں۔ کیا یہ ملک کسی فتح کے نتیجے میں معرض وجود میں آیا؟۔ جی نہیں تقسیم ہند کے اسباب یکسر مختلف ہیں، تقسیم کے حوالے سے ریاستوں (پاک،بھارت) کا سرکاری بیانیہ سوفیصد درست نہیں ہے، دونوں طرف تقسیم کے حوالے سے تلخ سوالات ہوئے اور آج بھی ہوتے ہیں مگر جواب ریاکاری کے سوا کچھ نہیں۔ وجہ، تاریخ نویسی کے آزاد ادارہ کا نہ ہونا ہے۔ یہ ظلم محض تقسیم کی تاریخ کے حوالے سے ہی نہیں ظلم تاریخ کے حوالے سے بھی صاف دکھائی دیتا ہے۔ قرآن غور وفکر کی دعوت دیتا ہے اور ہم تاریخ کو مقدمات کی طرح پیش کرکے کہتے ہیں جو لکھا ہے وہ من وعن مان لیجئے۔ یہی صورت دونوں طرف پڑھائی جانے والی درسی کتب کی ہے۔ ایمانداری سے فیصلہ کیجئے ان نصاب ہائے تعلیم نے ہمیں کتنے عالم دیئے؟۔ یہاں ایک وضاحت کردوں عالم بنیادی طور پر محقق کو کہتے ہیں جس کی تحقیق انسانیت کی رہنمائی، فکری ارتقا اور ایجادات میں معاون ہو، ہمارے یہاں تو مسجد کا پیش نماز بھی حضرت علامہ سے کم کہلانے میں توہین محسوس کرتا ہے۔

آزاد تاریخ نویسی خاصے کا کام ہے جان جوکھم میں ڈالے بنا یہ ممکن نہیں۔ سہل پسندی اور سستی وفاداری کی فصلیں بونے، کاٹنے اور فروخت کرتے رہنے والے کیا جانے کہ انسانی شعور اور سماج کے ارتقائی سفر کی بنیادی ضرورتیں کیا ہیں، ایک اخبار نویس کیلئے اہم ترین بات یہ ہوتی ہے کہ کسی بھی واقعہ کے حوالے سے ہر دو پہلوؤں کو مدنظر رکھے۔ تصویر کے دونوں رخ سامنے ہوں تو پوری بات سمجھ میں آتی ہے۔ یہاں ساعت بھر کیلئے رُک کر ہم اس بات پر غور کر لیتے ہیں کہ آخر ایسا کیا ہوا کہ پچھلے پندرہ اٹھارہ برس کے دوران اخبار نویسوں نے تحقیق سے ہاتھ اُٹھا کر پریس ریلیزوں سے خبر تراشنے اور تجزیہ کرنے کو ذمہ داری سمجھ لیا؟۔چار دہائیوں کے تجربے اور مشاہدے نے یہ بات سمجھا دی ہے کہ لوگ پروپیگنڈے کو سچائی کے مقابلہ میں جلد ہی قبول کرتے ہیں، درجنوں مثالیں عرض کرسکتا ہوں مگر بے فائدہ ہوںگی کیونکہ اس وقت عمومی تاثر یہ ہے کہ کرپشن سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ ہم دعویٰ تو بت شکنی بلکہ یوں کہیں کہ بت شکنوں کے وارث ہونے کا کرتے ہیں لیکن ہم میں سے ہر شخص نے اپنا اپنا الگ سے بت بنا رکھا ہے، سیاسی، عسکری، مذہبی بت جونہی ان میں سے کسی پر حرف آتا دکھائی دے چلا اُٹھتے ہیں، سماج ایسے رویوں سے پروان نہیں چڑھتے، کھلے دل سے ایک دوسرے کی بات سُننا ہوگی۔ مثال کے طور پر مجھ قلم مزدور کیلئے بہت مشکل ہے کہ کسی بھی معاملے پر ریاستی بیانیہ کو حرف آخر سمجھ لوں، سرکاری مؤقف حکومت وقت اور اس کے اداروں کے مفادات سے عبارت ہوتا ہے۔ اس طرح دوسرے فریق کی بات بھی حتمی قرار نہیں پاسکتی۔ اخبار نویس کیلئے لازم ہے کہ وہ دونوں کے مؤقف کو سامنے رکھ کر آزاد ذرائع سے سچائی کو تلاش کرے اور پھر خبر وتجزیہ کیلئے لفظ جوڑے۔ ہم سبھی لوگوں کو خوش نہیں رکھ سکتے، لوگ تو خالق سے سوفیصد خوش نہیں ہوتے۔ اچھا ویسے مجھ طالب علم نے کبھی پیپلزپارٹی اور اے این پی کیلئے اپنی ہمدردی کو چھپایا ہرگز نہیں، البتہ یہ کوشش کی کہ قلم مزدوری کرتے وقت ذاتی محبت کے اثرات ظاہر نہ ہوں۔ بدقسمتی سے ایک پوری نسل پیپلزپارٹی کو مجرم سمجھتی ہے تو کیا اس کی خوشنودی کیلئے ہاں میں ہاں ملائی جائے۔ اس ملک میں لاتعداد لوگ خان عبدالغفارخان، ولی خان، جی ایم سید، غوث بخش بزنجو اور دوسرے مرحوم بزرگوں کو ریاستی بیانئے کے مؤجب غدار سمجھتی ہے۔ تو کیا انہیں غدار لکھا جائے؟ سمجھنے والی بات یہ ہے کہ حکومت وقت کی پالیسیوں سے اختلاف زیادہ بڑا جرم ہے یا آئین شکنی؟۔ سیاسیات وصحافت اور تاریخ کے اس طالب علم کے نزدیک آئین شکنی بڑا جرم ہے۔ جن ماہ وسال میں مندرجہ بالا مرحوم بزرگوں کو غدار بنا کر پیش کیا گیا ان ماہ وسال کے دوران میڈیا کتنا آزاد تھا؟ المیہ یہ ہے کہ ریاستی بیانیہ فروخت کرنے کیلئے سب سے زیادہ فرنچائزیں مسلکی بنیادوں پر قائم جماعتوں نے لیں۔ اس پر ستم یہ کہ ریاست نے انگنت بار مذہب کو ہتھیار بنا کر مقصد حاصل کیا۔ اس نکتہ کو سمجھنے کیلئے فیض آباد دھرنے کے حوالے سے سپریم کورٹ کا فیصلہ بغور پڑھنے کی ضرورت ہے۔ حرف آخر یہ ہے کہ اخبار نویس کو اپنے فرائض داد وخوف ہر دو سے آزاد ہوکر سرانجام دینا چاہئیں۔ صحافت سماج کی رہنمائی کیلئے ہوتی ہے، میڈیا منیجری کیلئے نہیں، دستور سب پر مقدم ہے۔ اس سے انحراف کرنے والے عوام اور ملک کے دوست نہیں ہوسکتے۔

متعلقہ خبریں