Daily Mashriq


طعنہ زن ہیں کس لئے اغیار میں دیوانہ ہوں

طعنہ زن ہیں کس لئے اغیار میں دیوانہ ہوں

اسلام سے اسلام آباد کے تعلق کی اپنی کہانی ہے اور دونوں ایک دوسرے سے اس روز سے جڑے ہوئے ہیں جب اسلام آباد کی تعمیر کیلئے پہلی اینٹ رکھی گئی تھی، بلکہ جب ابتداء میں اس کیلئے گراؤنڈ بریکنگ تقریب کا انعقاد کیا گیا تھا۔ ایوب خان نے کراچی کی بجائے پاکستان کے دارالحکومت کے قیام کا فیصلہ کیوں کیا تھا؟ اس حوالے سے اگرچہ بنیادی فلسفہ یہ تھا کہ کراچی پاکستان کے عوام کی پہنچ سے دور ہے اور مرکزی سیکرٹیریٹ اور دیگر اداروں کے مرکزی دفاتر کراچی میں ہونے کی وجہ سے عوام کیلئے رابطہ مشکل اور مہنگا ہوتا ہے، اس لئے ملک کے کسی مرکزی مقام پر دارالحکومت کے قیام کا اہتمام کیا جائے تاکہ ہر شخص کو اس کیساتھ رسائی میں آسانی ہو، دوسری وجہ شاید دفاعی بھی ہو اور اس حوالے سے تب ایوب خان اور ان کے مشیروں کے ذہن میں کیا خدشات تھے؟ اس حوالے سے کچھ کہنے کی کوشش کی بھی جائے تو اس پر سو سوال اُٹھ سکتے ہیں لیکن اتنی بات ضرور ہے کہ بہت مدت بعد (چند سال پہلے) ایک سیاسی گروہ نے زبان کے نام پر کراچی کا جو حشر کیا اور وہاں بھتے خوری، اغواء برائے تاوان اور دیگر وارداتوں نے کراچی کو جس طرح ’’نوگو ایریا‘‘ بنائے رکھا اگریہ پاکستان کا کیپٹل رہتا تو شاید آج صورتحال انتہائی خطرناک ہوتی، بہرحال جب یہ شہر آباد کیا جا رہا تھا تو اس کیلئے پوری قوم سے تجاویز طلب کی گئی تھیں کہ نئے شہر کو پاکستان کے شایان شان نام دیا جائے اور لاتعداد ناموں کی فہرست میں سے اس وقت کے حکمرانوں کو اسلام آباد سب سے زیادہ موزوں لگا کہ اسلام کے نام پر بننے والے ملک کے کیپٹل کیلئے اسلام آباد سے زیادہ خوبصورت نام اور کوئی نہیں ہوسکتا۔ تب سابقہ مشرقی پاکستان میں ڈھاکہ کو دوسرے دارالحکومت کا بھی نام دیا گیا تھا جو پہلے ہی صوبائی حکومت کا بھی کیپٹل تھا اور اس پر سابقہ مشرقی پاکستان میں کوئی اعتراض نہیں کیا گیا تھا حالانکہ مشرقی پاکستان کی سیاسی قیادت کو بوجوہ اپنی محرومیوں کے احساس کی وجہ سے اسلام آباد سے اکثر شکایتیں رہتی تھیں اور شیخ مجیب الرحمن نے اپنے چھ نکات لانچ کرنے سے پہلے ایک ایسا بیان دیا تھا جس نے سابقہ مشرقی پاکستان میں مغربی پاکستان سے نفرت کی بنیادیں رکھنے میں اہم کردار ادا کیا تھا، شیخ مجیب الرحمٰن کا یہ بیان آج بھی پاکستان کی تقسیم کے حوالے سے لکھی جانے والی تاریخ کا بھیانک حصہ ہے۔ بیان یہ تھا کہ اسلام آباد کی شاہراہوں سے مجھے مشرقی پاکستان کے پٹ سن کی بو آرہی ہے، (دراصل پٹ سن مشرقی پاکستان کے معیشت میں اہم کردار کی حامل پیداوار تھی، جس سے نہ صرف ملکی ضروریات پوری ہوتی تھیں بلکہ اسکے ایکسپورٹ سے قیمتی زرمبادلہ بھی حاصل کیا جاتا تھا) تاہم اس زمانے میں ہمارے پالیسی سازوں نے جس طرح مشرقی پاکستان کے اقتصادی استحصال کیلئے اقدامات اختیار کئے تھے ان کی وجہ سے وہاں کے عوام کو مغربی پاکستان کے بالادست حکمران طبقات کے بارے میں بہت سی (جائز اور ناجائز) شکایات تھیں اور یہ لاوا پکتے پکتے وہاں علیحدگی پسندی کے رجحان کو پروان چڑھانے کا باعث بنا جبکہ اس صورتحال سے بھارت نے بھرپور فائدہ اُٹھاکر بالآخر پاکستان کو دولخت کرنے میں کامیابی حاصل کی جبکہ یہاں پاکستان کے دولخت ہونیکی المناک داستان دہرانے کا مقصد نہیں ہے جس کے حوالے سے سجاد بابر مرحوم کا یہ شعر صورتحال کی بہتر تشریح کرتا دکھائی دے رہا ہے کہ

اپنے تاریک گریبان میں جھانکا تو کُھلا

قاتل صبح کوئی ایک نہیں سارے ہیں

سقوط ڈھاکہ کو ایک جانب رکھتے ہوئے اصل موضوع پر واپس آتے ہیں یعنی اسلام اور اسلام آباد کے تعلق پر بات کرتے ہیں، اکثر ہماری سیاست میں اس قسم کے نعرے اُبھرتے دکھائی دیتے ہیں کہ فلاں کی نظر اسلام آباد پر ہے، ابھی حال ہی میں یہ نعرہ ایک بار پھر سے سننے کو ملا ہے اور حکومت کی ایک مشیر نے مولانا فضل الرحمٰن کے بعض بیانات پر اپنے ردعمل میں کہا ہے کہ مولانا اسلام پر نظر رکھیں اسلام آباد پر نظریں نہ گاڑیں، انہوں نے دو قدم مزید آگے بڑھتے ہوئے کہا کہ جب سے مولانا سے سرکاری بنگلہ خالی کرایا گیا ہے ان کی بے چینی بڑھتی جارہی ہے، جہاں تک مولانا فضل الرحمٰن کے بیانات کا تعلق ہے اس حوالے سے ہم کچھ کہنے کی پوزیشن میں اس لئے نہیں ہیں کہ یہ ہمارا منصب ہی نہیں نہ ہی ہمارا کسی بھی سیاسی جماعت سے کوئی ایسا تعلق ہے کہ جس کی وجہ سے متعلقہ سیاسی پارٹیوں کی ترجمانی کرتے پھریں، البتہ کچھ بیانات ایسے ضرور سامنے آتے ہیں جن کا سیاسی تجزیہ کرنا لازمی ہو جاتا ہے اور موجودہ صورتحال اسی بات کی متقاضی ہے کہ اسلام آباد کو طعنہ زنی کیلئے استعمال کرنے کا جائزہ لیا جائے۔ بات چونکہ اسلام اور اسلام آباد کے ناتے کے حوالے سے ہورہی ہے تو اسلام ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ جو چیز تم اپنے لئے ناپسند کرتے ہو اسے اپنے بھائی کیلئے بھی اسی طرح ناپسندیدگی کی سند عطا کرو، گویا اسے دوسرے الفاظ میں یوں بھی سمجھا جا سکتا ہے کہ جو چیز اپنے لئے پسند کرو اپنے بھائی کو اس سے منع نہ کرو اور اس کلئے کے تحت جب اسلام آباد پر نظریں جمانے کے معاملے کو دیکھتے ہیں تو کس دور میں اور کس جماعت نے اسلام آباد پر حکمرانی کا خواب نہیں دیکھا، طنز کرنے والی محترمہ خود اپنی جماعت کا جائزہ لیکر بتائیں کہ گزشتہ 22سال سے سیاسی جدوجہد کا دعویٰ کرنے والے موجودہ حکمران کیا اسلام آباد کیلئے تگ ودو نہیں کر رہے تھے؟ تو جب آپ اسلام آباد پر حکمرانی کا خواب دیکھیں تو وہ جائز اور کوئی دوسرا دیکھے تو ناجائز؟۔

متعلقہ خبریں