Daily Mashriq

کور کمانڈر، نئے نوٹ اور آر ایچ سی کا بند گیٹ

کور کمانڈر، نئے نوٹ اور آر ایچ سی کا بند گیٹ

رمضان المبارک کا آخری عشرہ جاری ہے چند ہی دن بعد جمعۃ الوداع اور پھر عیدالفطر ہوگی۔ اس آخری عشرے میں ہم میں سے ہر ایک کو اپنے اپنے اعمال کا اپنے ضمیر کے سامنے حساب لینے کی ضرورت ہے۔ ایک بات طے ہے کہ رمضان المبارک میں ہم کوشش کرتے ہیں کہ نیکی اور بھلائی کے کام کریں اور کرتے بھی ہیں، اس کا مطلب یہ ہوا کہ ہم کوشش کریں تو دیگر گیارہ مہینے بھی نیکی اور بھلائی کے کام کر سکتے ہیں مگر کرتے نہیں۔ رمضان کا مقدس مہینہ ہی نیکی اور بھلائی کیلئے مختص نہیں اور نہ ہی گناہ سے بچنا صرف اس ماہ ضروری ہے، یہ سعی سال بھر رہنی چاہئے۔ اصولاً تو جتنا اپنے آپ کو بدلنے کیلئے ہم رمضان میں کوشش کرتے ہیں دیگر مہینوں میں بھی اتنی ہی کوشش کرنی چاہئے۔ اگر اتنا نہیں تو اس کا نصف ہی کر لیں اس سے کم کی گنجائش نہیں۔ انسان اپنی اصلاح کی فکر کرے تو اصلاح ہو جاتی ہے اور اگر فکر نہ کرے تو بگاڑ بگڑتے بگڑتے لاعلاج مرض کی شکل اختیار کر جاتا ہے۔ ذرا سوچئے! عیدالفطر کے قریب ترین دنوں میں نئے کرنسی نوٹوں کی بڑی مانگ ہوتی ہے، سٹیٹ بینک بھی نئے نوٹ اتنا چھاپ کے رکھتی ہے کہ بینک والے گڑبڑ نہ کرلیں تو نئے نوٹ سبھی خواہشمندوں کو ملیں، سٹیٹ بینک نے ہر شہری کیلئے کوٹہ رکھ کر شناختی کارڈ نمبر پر نئے نوٹ جاری کرنے کا جو طریقۂ کار اختیار کیا ہے وہ سراہے جانے کے قابل ہے لیکن ایسا کیسے ہو سکتا ہے کہ ہمارے لوگ اس کا کوئی توڑ نہ نکال لیں، یہ ممکن ہی نہیں کہ اس کی شکایت ہمارے قارئین ہم تک نہ پہنچائیں۔ بینک والوں سے ایک شکایت یہ ملی ہے کہ بینک والے بعض صارفین کو تو نوٹ ختم ہونے کا کہہ کر سرے سے انکار کرتے رہے، ممکن ہے بعد میں اجراء کر بھی دیا ہو۔ دوسرا یہ کہ بینک کے بعض برانچز نے پورے اوقات کار میں نئے کرنسی نوٹوں کا اجراء نہیں کیا۔ اب اصل بات پر آتے ہیں کہ توڑ کیسے نکالا گیا، بڑا آسان طریقہ کار اختیار کیا گیا، اس طرح کہ سانپ بھی مر جائے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے۔ صارفین کو نوٹوں کا اجراء بھی ہوا، ٹھپہ ان کے شناختی کارڈ پر لگا اور کہا گیا کہ دس دس کے دو پیکٹ لے لو ایک روک لیا۔ اس طرح نجانے کتنے پیکٹ بچا لئے گئے اور اپنوں کو خوش کر دیا۔ اب آپ بتائیں سٹیٹ بنک والے کیسے پکڑیں ان کو، اس کا بھی طریقہ ہمارے قارئین نے بتا دیا۔ ان کا کہنا ہے کہ سٹیٹ بنک کریم اور اوبر کی طرز کا ایک ایپ بنوائے جس میں صارفین نئے نوٹوں کی وصولی سے لیکر شکایات یہاں تک کہ بینک کے عملے کے روئیے کے بارے میں بھی آگاہ کریں اور اس کی روشنی میں ایکشن لیا جائے۔ لگتا ہے کہ ہمارے بعض قارئین کو محولہ شکایات کے علاوہ بینک کے عملے کے رویئے سے بھی شکایت تھی۔ بعض ملازمین ہوتے ہی ایسے ہیں کہ بینک کام بھی ڈھنگ سے کرنے والے نہیں ہوتے، یہاں تو نئے نوٹ دیتے ہوئے عملہ کا رویہ نامناسب ہونا ناممکن نہیں، بہرحال سٹیٹ بنک کے حکام کو ہمارے قارئین کی تجویز ضرور نوٹ کرنی چاہئے کم ازکم میں یہ رسید ضرور دے سکتی ہوں کہ مجھے تین کے تین گڈیاں مل گئیں اور ایک اضافی بھی میرے سٹاف ممبر کی مہربانی سے ملی۔ ان کو اگر تین گڈیاں مل جاتیں تو مجھے بھی ایک اور ملنی تھیں، کم ازکم مجھے شکایت نہیں لیکن میرے قارئین کی شکایت مجھ سے زیادہ اہم اور قابل توجہ ہے کہ وہ عوام اور نقارۂ خدا ہیں جو چیزوں، مسائل ومشکلات، نااہلی، کام چوری اور فرائض سے غفلت ہر چیز پر گرفت کرتے ہیں اور یہ ان کا حق ہے اور متعلقہ حکام کی توجہ دلانا میری ذمہ داری۔شیرگڑھ مردان سے مجاہد فیروز کا برقی پیغام اس شکایت پر مبنی ہے کہ آر ایچ سی شیرگڑھ جب بی ایچ یو تھا تو اس کے دو بیرونی دروازے تھے جب اس کو آر ایچ سی کا درجہ دیا گیا تو اس کا ایک گیٹ بند کر کے صرف مارکیٹ والا گیٹ کھلا رکھا گیا جس کی وجہ سے مریضوں اور لواحقین کو آمد ورفت میں مشکلات کا سامنا ہے۔ سرکاری ہسپتالوں کا گیٹ بھی اب کاروباری لوگوں کی مرضی سے کھلنے لگا ہے اور کاروباری مفاد پر بند ہونے کی مثال لیڈی ریڈنگ ہسپتال پشاور کی ہے جسے عدالتی جدوجہد کے ذریعے کھلوایا گیا۔ کسی بھی عمارت کا دروازہ سہولت اور آسانی دیکھ کر ہی بنایا جاتا ہے مگر جہاں مفادات اور ملی بھگت ہو وہاں اس قسم کی سینہ زوری ہوتی ہے۔ آر ایچ سی شیرگڑھ کا بند گیٹ کھلوانے کا وزیرصحت اور سیکرٹری صحت سے خصوصی گزارش ہے، وہ اور کچھ نہیں کر سکتے تو کم ازکم ایک بند دروازہ ہی مریضوں کی سہولت کیلئے کھلوا دیں اور اگر معاملے کا نوٹس لیکر تحقیقات کروائیں تو زیادہ بہتر ہوگا۔آج کچھ تاخیر کیساتھ ایک ایسا برقی پیغام شامل کالم ہے جسے پڑھتے ہوئے میری آنکھوں میں چمک آگئی۔ محمد عدنان نے جنوبی وزیرستان سے بڑے جذباتی انداز میں لکھا ہے کہ میں کسی ایسے سکول میں داخلہ لینا چاہتا ہوں جس کی فیس وغیرہ نہ ہو مجھے جلدی جواب دیں۔ لکھنے کو اس پر پورا کالم لکھا جا سکتا ہے لیکن اس بچے کے الفاظ اتنے مؤثر ہیں کہ میں تفصیل میں جا کر اس کا اثر کھونا نہیں چاہتی۔ ان کا پتہ مکمل نہیں اسلئے فون نمبر لکھ رہی ہوں، 0305-5952959 میرے خیال میں کورکمانڈر پشاور سے خصوصی گزارش کی جاسکتی ہے کہ وہ اس بچے کا داخلہ آرمی سکول میں کروا کر اس کو بہترین تعلیم دلوانے کا قومی فریضہ نبھائیں۔میں سمجھتی ہوں کہ یہ ایک ایسی قومی ذمہ داری اور صاحب ثروت لوگوں کا فریضہ ہے جسے انجام دینے میں اُن کو اسلئے بھی سبقت لینی چاہیئے کہ یہ بچہ ایک ایسے علاقے سے تعلق رکھتا ہے جہاں کے بچوں کو تعلیم وشعور کی سب سے زیادہ ضرورت ہے میرے خیال میں یہ بچہ بہت ذہین اور باشعور ہے تبھی تو اُس نے اخبار میں یہ نمبر دیکھ کر رابطہ کیا۔

اس نمبر 03379750639 پر میسج کرسکتے ہیں۔

متعلقہ خبریں