Daily Mashriq


آج انسان کو محبت کی ضرورت ہے بہت

آج انسان کو محبت کی ضرورت ہے بہت

کبھی آپ نے فری سٹا ئل ریسلنگ دیکھی ہے۔ خوب لاتیں مکے چلتے ہیں اور بعض اوقات تو ڈنڈے اور کرسیاں بھی چلنے لگتی ہیں، ایسی کشتیوں میں ہڈیاں پسلیاں توڑنے اور تڑوانے کے علاوہ نوبت خون خرابہ تک پہنچ جاتی ہے۔ ان میں سے کچھ کشتیاں ایسی بھی ہوتی ہیں جنہیں نوراکشتی کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ جس میں یہ بات پہلے سے طے ہوتی ہے کہ کس نے مار کھانی ہے اور کیسے مار کھانی ہے۔ لڑائی مارکٹائی اور ایکشن سے بھرپور نورا کشیوں کو سکرپٹڈ کشتیاں بھی کہتے ہیں جو محض تماشائیوں کی دلچسپی کو مدنظر رکھ کر لڑی اور فلمائی جاتی ہیں اور ان میں جارحانہ پن اس لئے ڈالا جاتا ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ بزنس کر سکیں۔ جس طرح عمران خان پاکستان کرکٹ ٹیم کی کپتانی کرتے کرتے میدان سیاست میں کودے اور جاں فشاں جہدمسلسل کے بعد مملکت خداد کی وزارت عظمی کے مسند نشین بن کر

جب آئیگا عمران، سب کی جان،بنے گا نیا پاکستان

کے گن الاپنے والوں کو نت نئے خواب دکھانے لگے۔ اس طرح امریکہ میں ریسلنگ رنگ میں داؤ پیچ آزمانے والے شہ زور پہلوانوں میں ایک یا ایک سے زیادہ ریسلرز ایسے بھی دیکھے گئے جو میدان سیاست میں کود کر ریسلنگ رنگ کی مقبولیت کو کیش کرنے لگے اور یوں وہ امریکہ کے عنان اقتدار کے حصہ دار بن گئے یا اس منصب تک جا پہنچے جس پر پہنچنا ہر کس وناکس کی بات نہیں۔ اس سلسلہ میں ہم ٹرمینیٹر جیسی سائنس فکشن فلم سیریز کے ہیرو آرنلڈ شیوارزنیگر کا نام پیش کرسکتے ہیں جو باڈی بلڈر ہونے کے علاوہ مقبول عام ریسلر کے حوالے سے بھی جانے جاتے تھے اور عملی سیاست میں آنے کے بعد کیلی فورنیا کے گورنر کے منصب تک جا پہنچے۔ آپ امریکہ کے موجودہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے متعلق تو جانتے ہی ہوں گے کہ وہ بھی ریسلنگ رنگ سے نکل کر امریکہ کے میدان سیاست میں کودنے اور اپنے حریفوں کو چاروں شانے چت گرانے کے بعد ایران جیسے ملک کو نیست ونابود کرنے کی بڑکیں مارنے لگے۔ بڑکیں مارنا ریسلنگ رنگ کے پہلوانوں کا پرانا وطیرہ رہا ہے جس کا مقصد اپنے حریف کو نیچا دکھانا اس کی شہرت کو نقصان پہنچانا اس کی کردارکشی کرنا یا اس کو ڈرانا دھمکانا ہوتا ہے اور بعض اوقات بڑکیں مارنے والے’’دبکے کو دباؤ اور اگر وہ نہ دبے تو خود دب جاؤ‘‘ کا مظاہرہ بھی کرنے لگتے ہیں جنہیں ریسلنگ کے اکھاڑوں کے داؤپیچ ہی سے تعبیر کیا جاسکتا ہے۔ فری سٹائل کشتیوں کے ماہر ریسلرز میں ہم نے ایسے پہلوان بھی دیکھے ہیں جو دبکے کو دباؤ اور اگر وہ نہ دبے تو خود دب جاؤ کے مفروضے پر عمل کرتے ہوئے اپنے مدمقابل سے ہندوؤںکی طرح ہاتھ جوڑ کر معافی مانگنے لگتے ہیں اور موقع پاتے ہی اس پر ایسا داؤ استعمال کرتے ہیں کہ اسے چاروں شانے نہ سہی اوندھے منہ پیوند زمین کر دیتے ہیں۔ ہاتھ جوڑ کر رام رام کرنے کا مظاہرہ ہم نے بھارت میں ہونے والے حالیہ الیکشن کے دوران بی جے پی کے سربراہ نریندر مودی کے ہاں بھی دیکھا۔ وہ بغل میں چھری دبائے مسلمانوں کے خون ناحق سے رنگے ہاتھ جوڑ کر رام رام کر رہے تھے۔ وہ ہاتھ جوڑ کر بھارت میں بود وباش کرنیوالے اپنے اپنے انداز میں دین اسلام کے پیران طریقت کی درگاہوں پر بھی حاضر ہوئے اور ان سے ووٹ کی بھیک طلب کرتے رہے۔ وہ جو کہتے ہیں ناکہ جنگ اور محبت میں سب کچھ جائز ہے وہ اپنے چہرے کو محبتوں اور عاجزی کے ماسک میں چھپائے دردر گھومے جسکے نتیجے میں بھارتی جنتا نے ان کی پارٹی کو واضح اکثریت سے جتوا کر بھارت سرکار کا سنگھاسن ان کے نام کردیا۔ مودی سرکار کی اس جیت پر ہم ٹک ٹک دیدم، دم نہ کشیدم کے مصداق تکتے رہ گئے اور مرتے کچھ نہ کرتے کے مصداق بے اختیار ہوکر انہیں مبارک باد دیتے ہوئے بدھائی ہوبدھائی ہو، مودی سرکار کا راگ الاپنے لگے، انہوں نے بھاری اکثریت سے سیٹیں جیت کر ثابت کر دکھایا کہ کتنی نفرت، کھوٹ اور کدورت ہے ہندو دھرم کے پروردہ بچوں، بوڑھوں اور جوانوں کے من میں وہاں کی مسلم سکھ عیسائی اور دیگر مذاہب کی اقلیتوں کیخلاف، نریندر مودی نے اپنے دور حکومت میں اقلیتوں کی بیخ کنی کرنے میں جو کردار ادا کیا اسکی بازگشت ساری دنیا میں سنی جاسکتی ہے۔ بی جے پی نے نہتے اور مظلوم کشمیریوں پر جو ظلم روا رکھا تھا اس کا شاخسانہ انہیں

ظلم رہے اور امن بھی ہو،کیا ممکن ہے تم ہی کہو

کے مصداق سانحہ پلواما کی صورت بھگتنا پڑا، جس کا الزام پاکستان کے سر تھوپ کر اس نے جہاں اپنی خفت مٹانے کی کوشش کی وہاں پاکستان کی سرحدوں کی خلاف ورزی کرکے منہ کی بھی کھانی پڑی، مودی کی جیت سے اندازہ ہوتا ہے کہ مسلمانوں کے علاوہ ہندوستان میں رہنے والی دیگر اقلیتوں کیخلاف نفرت کی سیاست کو ہوا دینے والے انتہا پسند ایک دہشت ناک قوت بن چکے ہیں، ایسے میں ہمیں مملکت خداداد اسلامی جمہوریہ پاکستان کے شہری ہونے کے ناطے اپنی قسمت پر ناز آنے لگا ہے، ورنہ کالی ماتا کے پجاریوں کے ہاتھوں ہمارا بھی وہی حال ہوتا جو وہاں ہندو دھرم کے انتہا پسندوں کے ہاتھوں مسلمانوں کے علاوہ دیگر اقلیتوں کیساتھ روا رکھا جا رہا ہے، ایک آزاد ملک کے شہری کی حیثیت سے ہم وزیراعظم کی آواز میں آواز ملا کر خطہ میں امن کے قیام کی تائید کرتے ہیں اور مودی کی نئی حکومت سے ظلم، بربریت اور جور وجفا سے باز رہنے کی آس لگاتے ہوئے کہتے ہیں کہ

سات صندوقوں میں بھر کر دفن کردو نفرتیں

آج انساں کو محبت کی ضرورت ہے بہت

متعلقہ خبریں