Daily Mashriq


خالصتان تحریک کے سربراہ کا فرار اور پاکستان پر الزام

خالصتان تحریک کے سربراہ کا فرار اور پاکستان پر الزام

بھارتی ریاست پنجاب میں مسلح حملہ آوروں کا سخت سیکورٹی کی جیل پر دھاوا اورخالصتان تحریک کے سربراہ ہرمیندر سنگھ منٹو اور دیگر4ملزمان کو چھڑا کر اپنے ساتھ لے جانا معمول کا واقعہ نہیں بلکہ سکھوں کی علیحدگی پسند تنظیم کے سربراہ کی رہائی پوری منصوبہ بندی سے عمل میں لائی گئی ہوگی جس کے بعد بھارت میں سکھ علیحدگی پسند تنظیم کا دوبارہ فعال ہونا عجب نہ ہوگا۔حکام کے مطابق ہرمیندر سنگھ منٹو علیحدگی پسند سکھ تنظیم خالصتان لبریشن فورس کے سربراہ ہیں۔ حملہ آوروں نے پولیس کی وردیاں پہن رکھی تھیں اور ان کی تعداد 10تھی، واقعہ ضلع پٹیالیہ میں پیش آیا، حکام کے مطابق کاروں میں سوار حملہ آوروں نے نابھا جیل کے مرکزی دروازے پر محافظ کو چاقو کے وار سے زخمی کیا اور اندھا دھند فائرنگ کے بعد اپنے ساتھیوں کو چھڑا کر لے گئے، حملہ آورں سے فائرنگ کے تبادلے میں دو اہلکار زخمی بھی ہوئے، یہ گزشتہ ایک ماہ کے اندر بھارت میں جیل توڑنے کا دوسرا بڑا واقعہ ہے۔ بھارتی اخبار ٹائمز آف انڈیا نے زرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ منٹو کے پاکستان فرار ہونے کا خدشہ ہے کیوں کہ اس وقت پاک بھارت سرحد پر کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے اور سرحد پر فائرنگ کا تبادلہ تسلسل سے جاری ہے، دوسری جانب بھارتی پنجاب کے نائب وزیراعلیٰ سکھبیر سنگھ بادل نے الزام عائد کیا ہے کہ خالصتان تحریک کے رہنما ہرمیندر سنگھ منٹو کے جیل سے فرار ہونے کے واقعے میں پاکستان ملوث ہوسکتا ہے، بھارتی میڈیا کے مطابق پنجاب کے نائب وزیراعلیٰ نے ہرزہ سرائی کرتے ہوئے کہاکہ لائن آف کنٹرول پر فوج کی جانب سے سرجیکل اسٹرائیک کے بعد پڑوسی ملک نے دہشتگردی کو پھر سے شروع کردیا ہے۔بھارت کاخالصتان تحریک کے سربراہ ہرمندر سنگھ منٹو اور دیگر چار ملزمان کا جیل سے چھڑا کر لے جانے کے واقعے کو بھی پاکستان پر دھرنا ان الزامات کا تسلسل ہے جو بھارت اس طرح کے واقعات میں پاکستان ہی کا ہاتھ دیکھنے کا عادی ہے۔ حال ہی میں مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی فوجی چھائونی پر جس طرح سے حملہ ہوا اور اب جیل سے با آسانی ملزمان کو چھڑا کر لے جانے کا واقعہ اس امر کا غماز ہے کہ یا تو بھارت کے سیکورٹی نظام میں در اندازی ہوئی ہے یا پھر سیکورٹی کا عملہ اس قابل بھی نہ تھا کہ وہ حملہ آوروں کی مزاحمت کر پاتا۔ بہر حال صورتحال جو بھی تھی یہ بھارت کا اندرونی معاملہ ہے۔ سکھوں کی تنظیم خالصتان بھارتی پنجاب میں جدوجہد کی اپنی تاریخ رکھتی ہے جو نہ صرف بھارت ہی میں سر گرم عمل ہے بلکہ خالصتان تحریک برطانیہ سمیت یورپی ممالک میں رہنے والے سکھوں کی پوری ہمدردیاں رکھتی ہے۔ جہاں تک اس طرح کے واقعات کے رونما ہونے پر پاکستان پر الزام دھرنے کا سوال ہے یہ بھارت کی پرانی عادت ہے ۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اگر دیکھا جائے تو اس کا موقع بھارت نے از خود سکھوں کو فراہم کیا ہے۔ کیونکہ اس وقت بھارتی فوج کی ساری توجہ کنٹرول لائن پر کشیدگی میں اضافہ پر ہے جس سے فائدہ اٹھاتے ہوئے خالصتان تحریک کا آزادی کی دبی ہوئی خواہش کو ایک مرتبہ پھر شدت کے ساتھ سامنے لانا اور اپنے مقصد میں کامیابی کی امید لئے میدان عمل میں نکلنا فطری امر ہوگا۔ بھارتی قیادت کی طرف سے اس واقعے پر پاکستان کو مطعون کرنا چور کی داڑھی میں تنکے والا معاملہ ہے۔ بھارت ایک جانب پاکستان میں سرجیکل سٹرائیک اور کنٹرول لائن پر بلا اشتعال فائرنگ کرکے پاکستان کی سول آبادی کو نشانہ بنانے سے باز نہیں آتا مگر دوسری جانب اس قدر غفلت کا ارتکاب کہ خود ان کے اندر کی ایک علیحدگی پسند تنظیم کامیاب سرجیکل سٹرائیک کے ذریعے اپنے رہنما کو با آسانی جیل سے رہا کروا کے لے گئی۔ حیرت انگیز طور پر اس واقعے میں جیل کے محافظ کو محض چاقو کے وار سے زخمی کیاگیا نہ کوئی شدید زخمی ہوا اور نہ ہی کوئی ہلاک ہوا نہ جیل کی دیوار ٹوٹی اور نہ ہی کوئی بڑا مقابلہ ہوا۔ ایسا لگتا ہے کہ یہ کارروائی نہایت خاموشی سے مکمل کی گئی ہو۔ بھارت کو چاہئے کہ وہ پاکستان پر الزام تراشی کی بجائے اپنے داخلی مسائل پر توجہ دے اور کنٹرول لائن پر دبائو بڑھانے اور بلا اشتعال فائرنگ کی بجائے اگر اپنے اندر علیحدگی پسندی کی پلتی پینتی تنظیموں کو قابو میں کرنے پر توجہ دے تو ان کو پاکستان پر انگشت نمائی کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ علاوہ ازیں مقبوضہ کشمیر میں مظالم کا سلسلہ بند کرے اور جو قوت و طاقت وہ مقبوضہ کشمیر میں مظالم کے لئے بروئے کار لانے میں مصروف ہے ان وسائل و طاقت کا استعمال اپنے عوام کی فلاح کے لئے کرے۔ بھارت کے لئے بہتر یہی ہوگا کہ وہ کشمیر کے عوام کو حق خود ارادیت دے اور سکھوں سے بات چیت کے ذریعے ان کے تحفظات دور کرے۔بھارت جب تک اپنی پالیسی میں تبدیلی نہیں لاتا اور پڑوسیوں کے ساتھ اچھے ہمسایوں کی طرح رہنا سیکھ کر اپنے داخلی مسائل کا حل تلاش کرنے کے لئے یکسو نہ ہو اس طرح کے مسائل سے چھٹکارا ممکن نہیں۔

متعلقہ خبریں