Daily Mashriq


پولیس میں ناکام تجربات

پولیس میں ناکام تجربات

خیبر پختونخوا میں تبدیلی کے نام پر بعض اس طرح کے اقدامات بھی کئے جانے لگے ہیں جس سے تبدیلی از خود مشکوک ہو جاتی ہے۔ حال ہی میں خیبر پختونخوا پولیس میں سٹی پٹرول کے نام سے ایک نئی پولیس فورس متعارف کرائی گئی لیکن یہ نہیں بتایاگیا کہ اسی دور حکومت میں متعارف کردہ مدد گار اور ایمرجنسی رسپانس فورس ختم کردی گئی۔ انسداد دہشت گردی پولیس بھی جب متعارف کرائی گئی تو ابتدائی دنوں میں سٹی پٹرول کی طرح بندوق لگائی گاڑیاں سڑکوں پر آئیں مگر اب کہیں نظر نہیں آتیں۔ مدد گار فورس کے جوان موٹر سائیکلوں پر سڑکوں پر نظر آئیں مگر اس کے بعد ان موٹر سائیکل سواروں اور ان کی موٹر سائیکلوں کا کہیں نام و نشان بھی دکھائی نہیں دیا۔سٹی پٹرول کی گاڑیاں بھلی ضرور لگتی ہیں لیکن ان کے مستقبل کا بھی ہر بننے والی فورس سے مختلف نہ ہونے کا خدشہ ہے۔ سٹی پٹرول کی ایک گاڑی سے تو رشوت کی وصولی کی بھی شکایت سامنے آئی تھی۔ سٹی پٹرول کی طرح حیات آباد میں سیف حیات آباد کے تحت جو فورس متعارف کرائی گئی ہے حکومتی دعوئوں کے برعکس وہ بھی فی الحال دو چار گاڑیوں تک ہی محدود دکھائی دے رہی ہے۔سوال یہ پیدا ہوتاہے کہ اس طرح کے تجربات کی آخر ضرورت کیا ہے۔ اگر حکومت کے پاس وسائل نہیں تو اس نمائش اور دعوئوں کی ضرورت ہی کیا ہے ا ور اگر وسائل موجود ہیں تو اس سے استفادے کا اس طرح کا طریقہ کیوں اختیار کیا جا رہاہے کہ وسائل کابھی ضیاع ہو رہا ہے اور عوام کو تحفظ کی فراہمی کا بنیادی مقصد بھی پورا نہیں ہو رہا۔ مدد گار فورس اور ایمرجنسی رسپانس فورس کو پولیس میں ضم کرکے سٹی پٹرول کے نام سے جو فورس قائم کی گئی ہے اگر اس کو وسائل اور فنڈز کی فراہمی پر توجہ نہ دی گئی یا پھر اگر اس فورس کو بھی وقتی طور پر گاڑیاں دے کر عوام کو تسلی دی گئی ہے تو اس کاحشر بھی پہلے والوں سے مختلف نہ ہوگا۔ توقع کی جانی چاہئے کہ صوبے میں پولیس فورس کو واقعی مثالی پولیس بنانے پر توجہ دی جائے گی اور جتنی فورسز کو متعارف کراکے ختم ہونے کی نوبت آنے دی گئی ہے ان کو فعال اور بحال کردیا جائے گا۔ سیف حیات آباد کے نام سے جو فورس قائم کی گئی ہے اس کو دعوئوں کے مطابق عملی شکل دی جائے گی۔ اگر پولیس ہی کو اپنے فرائض کی انجام دہی کے قابل بنایا جائے تو ان نت نئے تجربات کی ضرورت ہی باقی نہ رہے گی۔

چترال میں ٹمبر مافیا کو لگام دی جائے

صوبائی کابینہ کے فیصلے کی آڑ میں چترال کے سرحدی علاقے ارندو سمیت دیگر علاقوں میں جنگلات کی بے دریغ کٹائی پر متعلقہ حکام کی چپ سادھ لینے سے ملی بھگت کا شبہ ہوتا ہے۔ غیر قانونی طور پر کٹی ہوئی قیمتی دیو دار لکڑی مافیا کے لئے ہمیشہ سے منافع بخش کاروبار رہا ہے۔ چترال میں مافیا کے سرپرست عناصر اور ان کی سرگرمیاں کسی سے پوشیدہ نہیں۔ ہر دور میں ان سے اعراض برتنے کے باعث چترال قیمتی جنگلات سے تیزی سے محروم ہو رہا ہے۔ ضلع ناظم چترال کی جانب سے اس سنگین صورتحال کو تحریری طور پر صوبائی حکومت کے علم میں لانے اور فوری اقدامات کی درخواست پر کسی کی کانوں پر جوں تک نہ ریگنا بلا وجہ نہیں۔ اس قدر بھی اندھیر نگری نہیں ہونی چاہئے کہ ایک منتخب نمائندے کی نشاندہی کو پس پشت ڈال دیا جائے۔ چترال کے جنگلات عوام کی ملکیت ہیں اگر حکومت ان کا تحفظ کرنے میں دلچسپی نہیں رکھتی تو ضلع کے لوگوں کو آگے آنا چاہئے۔ تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان اور وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک ایک طرف صوبے میں لاکھوں رقبے پر جنگلات لگانے پر کروڑوں اربوں روپے خرچ کر رہے ہیں مگر دوسری جانب ٹمبر مافیا کو جنگلات صاف کرنے کی کھلی چھٹی عملی طور پر دکھائی دیتی ہے۔ بہتر ہوگا کہ مذکورہ عمائدین اس شکایت کا سختی سے نوٹس لیں۔ ٹمبر مافیا کو لگام دی جائے اور محکمہ جنگلات کے ملوث عناصر کے خلاف تحقیقات کی جائیں۔

گیس کی لوڈشیڈنگ

صوبائی دارالحکومت پشاور سمیت صوبہ بھر میں گیس کی لوڈشیڈنگ اور پریشر کی کمی کی شکایات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ بعض علاقوں میں نوبت یہاں تک آگئی ہے کہ لوگوں کو ایک وقت کا کھانا پکانے کے لئے بھی گیس میسر نہیں۔ گیس پریشر کی کمی کی شکایت عام ہے ۔بعض عاقبت نا اندیش عناصر نے گیس پریشر کو بڑھانے کے لئے لائن پرپمپ لگا کر پریشر حاصل کرنے کا خطرناک طریقہ اپنا رکھا ہے جو نہ صرف دیگر صارفین کی حق تلفی کاباعث ہے بلکہ کسی بھی وقت کسی بڑے حادثے کا موجب بھی بن سکتا ہے۔ سوئی ناردرن گیس کے حکام کو جہاں گیس پریشر کو موزوں حد تک لانے کی سعی کرنی چاہئے وہاں غیر قانونی پریشرپمپ فروخت کرنے والوں اور استعمال کرنے والوں کے خلاف بھی قانونی کارروائی کی ضرورت ہے۔

متعلقہ خبریں