Daily Mashriq


بھارتی جیل سے ''آزادخالصتان'' کے لیڈر کا فرار

بھارتی جیل سے ''آزادخالصتان'' کے لیڈر کا فرار

آزادی کی تحریک کے دوران برصغیر میں سکھوں کے اکالی دل کے لیڈر ماسٹرتاراسنگھ اگر انڈین نیشنل کانگریس کا ساتھ نہ دیتے توآج برصغیر پاک و ہند کا نقشہ مختلف ہوتا۔ گورداسپور کا ضلع جہاں ہندوؤں کی اکثریت نہیں تھی شاید پاکستان میں شمار ہوتا اور بھارت کو کشمیر جانے والا (اس وقت) واحد راستہ نہ ملتا لیکن سکھوں نے انڈین نیشنل کانگریس کا ساتھ دیا۔ ریڈ کلف ایوارڈ میں گورداسپور کو بھارت کا حصہ قرار دیا گیا ۔ اور مشرقی پنجاب کو بھارت کا حصہ تسلیم کیا گیا۔ اس احسان کا بدلہ بھارتیوں کے شاونسٹ ذہنیت رکھنے والوں نے یہ دیا کہ سکھوں کوبھی مجبور ' بے بس اور مفلوک الحال اقلیت میں بدل دیا۔ مسلمانوں کی طرح ان پر بھی ملازمتوں کے دروازے بند کر دیے گئے اور من حیث القوم انہیں توہین و تضحیک کا نشانہ بنایا گیا۔ ان کے صوبے کو تقسیم کر دیا گیا تاکہ ان کی اکثریت مختصر علاقے تک محدود ہو جائے۔ سکھ پاکستانیوں کی طرح بہادر اور کھرے لوگ ہیں۔ تقریباً بیس سال وہ بھارتیوں کے مظالم اور ناانصافیاں برداشت کرتے رہے اور 1970ء کے لگ بھگ انہوں نے بھارت سے آزادی کے لیے کئی تنظیمیں قائم کیں۔ اور بھارت کے خلاف مسلح جدوجہد شروع کر دی۔ یہ جدوجہد کئی سال تک جاری رہی سکھ آزادی پسند مارے جاتے رہے۔ آخر 1984ء میں بھارت نے سکھ آزادی پسندوں کو کچلنے کے لیے امرتسر میں سکھوں کے ننکانہ صاحب (پاکستان) میں گوردوارہ پنجہ صاحب کے بعد انتہائی متبرک گوردوارہ پر فوج کشی کر دی۔ یہ گوردوارہ دنیا میں گولڈن ٹمپل کے نام سے مشہور ہے۔ اس وقت یہاں سکھوں کے آزادی پسند لیڈر سنت بھنڈارا نوالہ مورچہ زن تھے۔ بھارتی فوج نے گولڈن ٹمپل میں سکھوں کا قتلِ عام کیا۔ ہزاروں خواتین ' بچے ' عبادت گزار اور جنگجو قتل کر دیے۔ لیکن سکھوں کی آزاد وطن ''خالصتان'' کے لیے جدوجہد ختم نہیں ہوئی۔ اس وقت بھارت میں انجہانی مسزاندرا گاندھی وزیر اعظم تھیں۔ بھارت کی قومی پریڈ کی سلامی لیتے ہوئے بھارتی فوج کے ایک سکھ دستے نے ان پر فائر کھول دیا اور انہیں ہلاک کر دیا۔ سکھ تحریکوں نے اعلان کیا کہ یہ سنت بھنڈارا نوالہ کا انتقام ہے۔ معروف بھارتی کالم نگار اور سابق رکن راجیہ سبھا کلدیپ نائر نے ایک کالم میں لکھا ہے کہ اگلی ہی رات اور دن کے دوران نئی دہلی میں دس ہزار سکھوں کو قتل کیا گیا۔یہ سب باتیں اس خبر کے باعث یاد آ رہی ہیں جس کے مطابق بھارتی پنجاب کی ایک جیل سے ''آزاد خالصتان'' تحریک کے لیڈر ہرمندر سنگھ منٹو کو بھارتی میڈیا کے مطابق بیس حملہ آوروں نے جیل پر حملہ کرکے آزاد کروا لیا ہے اور وہاں کے ایک صوبائی وزیر سکھ بیر سنگھ بادل اس کارروائی کا الزام پاکستان پر لگا رہے ہیں۔ سکھ بیر سنگھ بادل نے بھارت کے نیشنل سیکورٹی ایڈوائزراجیت ڈودل سے بھی اس بارے میں رابطہ کیا ہے۔ جہاں تک اس واردات کا تعلق ہے خود بھارتی میڈیا کے مطابق ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ آیا آزاد خالصتان کے لیڈر کو آزاد کرانے کے لیے یہ کارروائی کی گئی تھی یا یہ کارروائی اُن چار قتل کے ملزموں کو آزاد کرانے کے لیے کی گئی تھی جو اس کے نتیجے میں ہرمندر سنگھ منٹو کے علاوہ فرار ہوئے ہیں۔ جو تفصیلات شائع ہوئی ہیں ان سے یہ کسی خفیہ کار تربیت یافتہ دستے کی کارروائی نہیں لگتی ماسوائے اس کے کہ حملہ آور جیل کے اندرونی نظام سے واقف تھے یا ان کے پاس جیل کا نقشہ تھا ۔ بلکہ اس سے زیادہ یہ کارروائی جیل کی سیکورٹی کے ناقص ہونے کو ثابت کرتی ہے۔ حملہ آوروں نے جیل کے واحد گارڈ کو چاقو کے وار کرکے زخمی کیا۔حملہ آور گاڑیوں میں سوار ہو کر آئے تھے جنہیں جیل کے دروازے تک پہنچنے تک کسی نے نہیں روکا۔ کہا جاتا ہے کہ جیل سے کل چھ لوگ فرار ہوئے جن میں چار ایک ہی قتل کے ملزم تھے۔ پانچویں ہرمندر سنگھ منٹو تھے اور چھٹے کے بارے میں خبر میں کچھ نہیں بتایا گیا۔ ہرمندر سنگھ منٹو 2014ء میں گرفتار ہوئے تھے ان پر دس سے زیادہ دہشت گردی اور بغاوت پر اکسانے کے الزامات کے تحت مقدمات چل رہے تھے۔ ایسا قیدی جس جیل میں ہو اس کے دروازے پر محض ایک گارڈ تعینات ہو ۔ اور سیکورٹی پر مامور عملہ اس قدر غیر مستعد ہو کہ حملہ آوروں کے ایک سو راؤنڈ فائر کرنے کے جواب میں کچھ نہ کر سکا ہو، یہ بات سمجھ میں نہیں آتی۔(کیا پتہ یہ بھی خانہ ساز اور سکرپٹ کے مطابق واردات ہو)۔ حملہ خواہ قتل کے چار ملزموں کو چھڑانے کے لیے کیاگیا خواہ ہرمندر سنگھ منٹو کی رہائی کے لیے اس میں جیل کے اندر سے معاونت نظر آتی ہے۔ یہ کہنا کہ حملہ آوروں کے پاس جیل کا نقشہ تھا محض مفروضہ ہے جب کہ جیل میں داخل ہو کر مخصوص قیدیوں تک رسائی اور ان کو چھڑوانا ایک حقیقت ہے۔ اس اندازے کو اس بات سے بھی تقویت ملتی ہے کہ خالصتان تحریک اب سکھوں کے خون میں رچ بس چکی ہے اور وہ اس کی کامیابی کے آرزومند ہیں۔ جہاں کہیں بھی ہوں اس سے تعاون کرنا ان کے لیے اعزاز کی بات ہے۔ ہرمندر سنگھ منٹو کے جیل سے فرار کے باعث آزاد خالصتان تحریک میں کتنی فعالیت پیدا ہوتی ہے اس کا اندازہ کرنا مشکل ہے تاہم اس نے بھارت کے سکھوں کے افتخار میں ضرور اضافہ کیا ہے اور ان کے ساتھ ساتھ بھارت میں چلنے والی ان سترہ تحریکوں کا حوصلہ بھی بڑھایا ہے جو بھارت کے مختلف حصوں میں آزاد ہونے کے لیے مسلح جدوجہد کر رہی ہیں۔ آزاد خالصتان اور بھارت سے آزادی حاصل کرنے والی دوسری تحریکوں میں فعالیت مقبوضہ کشمیرمیں کشمیری عوام کی چار ماہ سے زیادہ مستقل مزاج تحریک کی مرہون منت ہے۔ اس خبر کے بعد بھارت کی نریندر مودی کی حکومت پر ممکن ہے جنگ بازی کا دباؤ بڑھے گا لیکن بھارتی حکمران جانتے ہیں کہ جنگ کا نتیجہ بھارت کے لیے تباہ کن ہو سکتا ہے۔ اس لیے یہ اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ صوبائی وزیر سکھ بیر سنگھ کے ہرمند سنگھ کے جیل سے فرار ہونے کا الزام پاکستان پر لگانے کے باوجود بھارتی حکومت یہ لائن اختیار کرنے سے اجتناب کرے گی۔ 

متعلقہ خبریں