Daily Mashriq


فاٹا میں مزدوروں کی حالتِ زار

فاٹا میں مزدوروں کی حالتِ زار

اگر برصغیر پاک وہند کے ماضی میں جھانکا جائے تو کئی دہائیوں تک فیڈرلی ایڈمینسٹریٹڈ ایریاز (فاٹا) کے مکینوں کا تصور تند خُو اور اپنے رسم ورواج کے پابند قبائلیوں کے طور پر موجود رہا ۔ یہ لوگ انگریز سامراجی نظام کے بنائے گئے فرنٹئیر کرائمز ایکٹ (ایف سی آر ) 1901ء کے تحت زندگی گزارنے پر مجبور تھے۔ کچھ عرصے بعد فاٹا کے مکینوں کی شبیہ مذہبی شدت پسند اورجنگجو قبائلیوں کے طور پر سامنے آئی جو آپس کی لڑائیوں میںالجھتے رہتے تھے۔ ان تمام تصورات سے ہٹ کر ہمارے ذہنوں میںفاٹا کے مکینوں کا تصورعام لوگوں کے طور پر سامنے نہیں آیا جو دوسرے لوگوں کی طرح زندگی کی جدوجہد میں مصروف ہیں، ذریعہ معاش کی تلاش میں سرگرداںہیں اور بہتر مستقبل کے خواب دیکھتے ہیں۔ حال ہی میں ذرائع ابلاغ میں یہ خبر سامنے آئی ہے کہ مہمند ایجنسی میں مزدوروں کو کان کنی سے اس لئے روک دیا گیا کیونکہ وہ ایف سی آر کی اجتماعی ذمہ داری کی شق کے تحت اپنے علاقے میںامن و امان قائم رکھنے میں ناکام ہو گئے تھے۔ اس سے ہمیں ایف۔سی ۔آر کے تحت فاٹا میں کئے جانے والے مظالم کی ایک جھلک نظر آتی ہے۔ ایک تخمینے کے مطابق فاٹا میں تقریباً 30,000 مزدور کان کنی سے وابستہ ہیں جن میں سے آدھے سے زیادہ مزدور سنگِ مرمر کی کانوں میں کام کرتے ہیں جبکہ 500 مزدور سنگِ مرمر کی فیکٹریوں میں کام کرکے اپنا اور بچوں کا پیٹ پالتے ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر فیکٹریاں مہمند ایجنسی کے علاقے صافی میں قائم ہیں جہاں پر مزدورو ں پر مذکورہ پابندی عائد کی گئی ہے۔ ان علاقوں میں روزی کمانے کے ذرائع پہلے ہی کافی کم تھے جبکہ رہی سہی کسر ملٹری آپریشن نے پوری کردی ہے۔ فوڈ اینڈ ایگری کلچر آرگنائزیشن کے تعاون سے فاٹا سیکرٹریٹ کے ری کنسٹرکشن اینڈ ری ہیبلیٹیشن یونٹ کی جانب سے 2015ء میں کئے جانے والے ایک سروے کے مطابق خیبر ایجنسی کی تحصیل باڑہ میں آپریشن کی وجہ سے نقل مکانی کرنے کے بعد واپس آنے والے افراد میں سے 95 فیصد لوگوں کا ذریعہ معاش مکمل طور پر تباہ ہو چکا ہے جبکہ 93 فیصد لوگ ایسے ہیں جو نقل مکانی کے اخراجات کی مد میں لئے جانے والے قرضوں کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں اور اس وقت قرض واپس کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔اس علاقے کا سب سے بڑا ذریعہ معاش زراعت ہوتا تھا جو کہ اب مکمل طور پر تباہ ہوچکا ہے۔ 2013ء میں خیبر پختونخوا کے گورنر نے فاٹا کے مزدوروں کی معاشی حالت میں بہتری لانے کے لئے فاٹا میں ورکرز ویلفیئر فنڈ 1971ء کا اطلاق کرنے کی تجویز دی تھی لیکن اس تجویز پر کوئی پیش رفت نہیں ہوسکی۔ فاٹا کی آفیشل ویب سائٹ کے مطابق 158 ایسے قوانین ہیں جن کا دائرہ کار فاٹا تک وسیع کیا گیا لیکن ان میں سے صرف دو قوانین، 'دا مائن ایکٹ 1923ء ( جس کا اطلاق خیبر پختونخواکے قبائلی علاقوں پر ہوتا ہے ) ' اور' ایپملائمنٹ آف چلڈرن ایکٹ1991ء ' ہی مزدوروں سے متعلق ہیں۔پچھلے ستر سالوں میںفاٹا کو ایف۔سی ۔آر جیسے کالے قانون کے تحت چلانے اور فاٹا کی عوام کو پولیٹیکل ایجنٹس کے رحم و کرم پر چھوڑنے کی ہمیں بہت بھاری قیمت چکانی پڑی ہے۔ یہی وجوہات ہیں جو فاٹا کو شدت پسندی اور دہشت گردی کا گڑھ بنانے کاسبب بنی ہیں ۔ مشکل حالات میں زندگی گزارنے کی وجہ سے فاٹا کے مکین اب سیاسی طور پر باشعور ہو چکے ہیں اور اس وقت بنیادی شہری حقوق کی فراہمی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ نومبر 2015ء میں فاٹا کے ایم این ایز کی جانب سے پارلیمنٹ میں آئین کے آرٹیکل 247میں ترمیم کا بل جمع کروانے کے بعد حکومت کی جانب سے 'فاٹا ریفارمز کمیٹی' تشکیل دی گئی تھی جس نے اگست 2016ء میں جمع کروائی گئی اپنی تجاویز میں پانچ سال کے عرصے میں فاٹا کی ایجنسیوں میں اقتدار کی منتقلی، جرگہ سسٹم کی بحالی 'ایف سی آر کی بجائے ٹرائبل ایریاز رواج ایکٹ کے نفاذ سمیت بہت سے دیگر اقدامات کو شامل کیا ہے۔ اگرچہ قرائن سے صاف ظاہر ہے کہ حکومت سٹیٹس کو میں کوئی تبدیلی نہیں چاہتی لیکن جہاں تک فاٹا میں اصلاحات کی بات کی جائے تو فاٹا کی عوام اور نمائندگان فاٹا کے خیبر پختونخوا کے ساتھ الحاق پر متفق دکھائی دیتے ہیں۔ لیکن ایف۔سی۔ آر کی موجودگی میں فاٹا کا الحاق خیبر پختونخوا سے کیا جانا کیسے ممکن ہے ؟ پارلیمنٹ کی کمیٹی کی جانب سے پیش کی جانے والی رپورٹ میں مزدوروں کے حقوق کے بارے میں کوئی بات نہیں کی گئی جبکہ مذکورہ تجاویز سے یہ واضح ہے کہ علاقے میں جرگہ سسٹم کی بحالی کے بعد فاٹا میں جرگہ اراکین اورملک حکومت کریں گے جس سے غریب طبقے اور مزدوروں کے حالات مزید ابتری کا شکار ہو جائیں گے۔

یہی وجہ ہے کہ فاٹا ریفارمز کمیٹی کی جانب سے پیش کی جانے والی اس رپورٹ پر بہت سے حلقوں کی جانب سے تنقید کی گئی ہے۔ فاٹا کے متعلق مرکزی سیاسی منظر نامے پر ہونے والی بحث سے ملک کے دیگر علاقوں میں کام کرنے والی مزدور تنظیموں کو یہ موقع ملا ہے کہ وہ ملک کے ہر کونے میں مزدوروں کو یکساں حقوق دینے کے لئے اپنی آواز بلند کریں ۔مزدوروں کو مساوی حقوق مہیا کرنے کے ساتھ ساتھ ہمیں اپنے نصاب اور عمومی گفتگو سے ''قبائلی'' کا لفظ بھی نکالنا ہو گا۔ پاکستان کے میدانوں، پہاڑوں، وادیوں اور گھاٹیوں میں بسنے والے تمام لوگ صرف اور صرف پاکستانی ہیں۔

(بشکریہ: ڈان،ترجمہ: اکرام الاحد)

متعلقہ خبریں