Daily Mashriq


وہ غم ہیں کہ شرمندۂ اظہار ہوئے ہیں

وہ غم ہیں کہ شرمندۂ اظہار ہوئے ہیں

ملک کے نہایت معتبر دانشور' صحافی اور کالم نگار جناب ہارون الرشید اپنے 24نومبر کے کالم ناتمام میں یوں رقمطراز ہیں ''جہاں تک لکھنے والے کا تعلق ہے چینی مفکر کا قول ہی مجھے قول فیصل لگتا ہے : اس کی اپنی مرضی ہے۔بادشاہ بنے یا بھکاری' جولائی 2012ء میں کالم نگاروں کے انتخاب کی ذمہ داری سونپی گئی تو یہ بات ذہن میں تھی۔ سب سے پہلے جناب اظہار الحق سے گزارش کی' دل شاد ہے کہ تمام تر توقعات سے بڑھ کر نکلے۔ اپنے ہم عصروں کے محاسن پر آدمی کم ہی غور کرتا ہے۔ ان میں سے کئی ایک کو ناچیز خود سے بہتر پاتا ہے۔ معلومات میں' انداز تحریر میں' اظہار الحق حیران کئے رکھتے ہیں۔ اگر تھوڑی سی زیادہ توجہ سیاست کو دیں۔'' جہاں تک جناب ہارون الرشید کا تعلق ہے تو میرے نزدیک مستند ہے ان کا فرمایا ہوا۔ خود میری عادت ہے کہ جتنے اخبار میرے پاس آتے ہیں سب سے پہلے میں سرخیوں پر نہ صرف توجہ دیتا ہوں بلکہ سرخ روشنائی والے قلم سے اہم خبروں کو نشان زد بھی کرتا چلا جاتا ہوں کیونکہ ایک تو کالم لکھنا پڑتا ہے اور گاہے اداریہ اور شذرات بھی سپرد قلم کرنا پڑتے ہیں۔ تاہم اس کے بعد جملہ اخباروں کے کالموں پر سرسری نگاہ ڈال کر مطالعہ کی غرض سے ترجیحات کا تعین بھی لازمی ہوتا ہے۔ خاص طور پر بعض اہم کالم نگاروں کی تحریریں پڑھنا اس لئے خود پر فرض کر رکھی ہیں کہ ان کے اسلوب' زبان و بیان' انداز تحریر سے حظ بھی اٹھاتا ہوں اور انہیں اپنے لئے مشعل راہ بھی گردانتاہوں۔ انہی میں ہارون الرشید اور محمد اظہار الحق سرفہرست ٹھہرتے ہیں۔ علامہ اقبال نے کہا تھا

الفاظ و معانی میں تفاوت نہیں لیکن

ملا کی اذاں اور مجاہد کی اذاں اور

کالم نگاروں میں کم کم ہی ملا ہوں گے البتہ بعض ایسے مجاہد ضرور ہیں جو بقول جناب ہارون الرشید ''اخبار نویس بھی عام آدمی ہوتا ہے۔ اگر وہ عام نہ رہے خاص ہو جائے تو اس کے پائوں زمین پر نہیں رہتے۔ تعصبات کی شدت میں' خود تنقیدی سے محروم ہو کر خودشکنی کی دنیا میں وہ داخل ہوتا ہے۔ پاکستان کے صحافتی کارزار میں کیسے کیسے دیوتا تھے' رفتہ رفتہ جو بونے ہوگئے۔ حیرت ہوتی ہے کہ کوئی عبرت حاصل نہیں کرتا''۔ جناب اظہار الحق کے بیشتر کالم جو ان کی زیر نظر مجموعہ تلخ نوائی کا حصہ ہیں' میں وقتاً فوقتاً پڑھ چکا ہوں۔ تاہم کتاب کا مطالعہ کرتے وقت کئی ایسے کالم بھی سامنے آئے جو بوجوہ اس سے پہلے میرے مطالعے میں نہیں آئے۔ ان کے ایک کالم ''پہاڑ سربن کا'' نے ماضی کی حسین یادوں سے میرا رشتہ جوڑ دیا۔

کالم کے آغاز ہی میں جعفر طاہر کے حوالے سے جن خیالات کا اظہار محمد اظہار الحق نے کیا ہے یقینا آج کی نسل اس نابغہ اور قادر الکلام شاعر کے بارے میں بہت کم جانتی ہے'لکھتے ہیں ''جعفر طاہر کمال کے شاعر تھے' بسیار گو' لیکن بلند مرتبہ اور قادر الکلام' قدرت اللہ شہاب کی سرپرستی میں'' ہفت کشور'' تصنیف کی جو سات مسلم ممالک کا منظوم تذکرہ ہے۔ یہ ایک معرکہ آرا کتاب ہے جو ہماری قومی جہالت اور ناقدری کا شکار ہو کر طاق نسیاں پر دھری رہ گئی۔ جن کتابوں پر پہلے پہل آدم جی ایوارڈ ملا یہ کتاب ان میں سے ایک ہے۔ رئوف کلاسرا نے کتاب پر مربوط تبصرہ کیا ہے جبکہ ٹائٹل کے بیک پیج پر اس کا چھوٹا سا ٹکڑا موجود ہے۔ ''ان کی تحریروں میں آپ کو نئے خیالات ملتے ہیں' ایک نئی دنیا ملتی ہے۔

اظہار الحق کی قلم نے کسی کا خیال رکھا تو صرف اور صرف اپنے ضمیر' اپنے قاری اور اپنی دھرتی کے مفادات کا'' رئوف کلاسرا کی بات اس لحاظ سے قابل توجہ ٹھہرتی ہے کہ جب ہم آج کے کالم نگاروں اور تجزیہ نگاروں کے خیالات و نگارشات کا غیر جانبدارانہ تجزیہ کرتے ہیں تو ہمیں یہ مخلوق واضح طور پر دو حصوں میں بٹی ہوئی نظر آتی ہے۔ ایک وہ جن پر لفافہ جرنلزم کے الزامات لگتے اور سجتے نظر آتے ہیں اور دوسرا وہ جو بغیر منطق و استدلال کے ہر اقدام میں کیڑے تلاش کرکے سیاسی فضا کو تکدر کا نشانہ بنا رہے ہیں۔ تاہم اظہار الحق نے ہر مقام پر اپنے نام کی لاج رکھی ہے اور اپنے قلم کے جو لانیوں کو حق کے اظہار کا وسیلہ بناتے ہوئے اسم با مسمی ہونے کا حق ادا کیا ہے۔ اس ضمن میں سقوط ڈھاکہ کے عنوان سے انہوں نے جن تلخ حقائق کو نہایت سہولت کے ساتھ قاری کے سامنے رکھا ہے وہ یقینا انہی کا خاصا ہے۔ لکھتے ہیں '' سولہ دسمبر' مشرقی پاکستان کو الگ ہوئے بیالیس برس ہوگئے ہیں' ان بیالیس برسوں میں باقی ماندہ پاکستان کے دانشوروں' صحافیوں اور سیاست دانوں نے ایک لمحے کے لئے بھی سنجیدگی سے مشرقی پاکستان کو علیحدگی کے اسباب پر نہیں سوچا۔ ذہنی افلاس کا یہ عالم ہے کہ طوطے کی طرح ایک ہی رٹ لگائی جا رہی ہے وہاں ہندوئوں کا اثر تھا' عقل کے اندھوں سے کوئی پوچھے کہ یہ ہندوئوں کااثر اس وقت کہا تھا جب تحریک پاکستان چل رہی تھی۔ ہندوئوں کی حمایت تو احراری اور خاکسار کر رہے تھے اور مسلم لیگ کے لئے مولانا مودودی لے رہے تھے۔ بنگالی مسلمانوں نے تو تحریک پاکستان کی مخالفت ہی نہیں کی تھی'' شاید استاد یوسف ظفر نے ایسے ہی موقعوں کے لئے کہا تھا

اظہار غم زیست کریں کیا کہ ظفر ہم

وہ غم ہیں کہ شرمندۂ اظہار ہوئے ہیں

متعلقہ خبریں