Daily Mashriq


سی پیک میںروس سمیت دنیا کی دلچسپی !

سی پیک میںروس سمیت دنیا کی دلچسپی !

اکیسویں صدی کے اس ترقی یافتہ دور میں قوموں کی بقا کا راز مضبوط معیشت اور جدید معاشی ذرائع پر منحصر ہے۔معیشت مضبوط ہو تو نہ صرف دفاع مضبوط ہوتا ہے بلکہ دنیا کا ہر ملک ایسے ممالک کے ساتھ تعلقات بنانے پر فخر محسوس کرتاہے۔پاکستان کو اللہ نے نہ صرف محل وقوع کے لحاظ سے دنیا کا بہترین مقام بخشا ہے،بلکہ بہت سی نعمتوں سے بھی نوازا ہے۔بدقسمتی سے 70 سال گزرنے کے بعد ہم نے اللہ کی ان نعمتوں سے مستفید ہونے کے لیے انگڑائی نہیں لی،ورنہ اب تک پاکستان دنیا کے صف اول کے ترقی یافتہ ملکوں میں شمار ہوتا۔ یہ حقیقت ہے کہ گوادر پورٹ اور سی پیک پاکستان کی قسمت بدلنے کے لیے اللہ تعالیٰ کا بہترین تحفہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ چین، روس، برطانیہ ، ایران،ترکی،سعودی عرب،افغانستان،وسطی ایشیائی اور یورپی ممالک تک پاکستان کے ساتھ اقتصادی تعلقات مضبوط کرنے کے لیے کوششیں کررہے ہیں۔سب سے اہم بات روس کا باقاعدہ سی پیک کے ذریعے گوادر پورٹ اور گرم پانیوں کے استعمال میں دلچسپی ہے۔روس دنیا کا رقبے کے لحاظ سے سب سے بڑا ملک ہے۔یہ ایسا ملک ہے جس نے چودہویں صدی سے لے کر دونوں عالمی جنگوں سمیت سالہا سال تک دنیا کے ساتھ جنگیں لڑی ہیں۔لیکن حیران کن طور پر روس آج بھی دنیا میں مضبوط معاشی اور دفاعی ملک کے طور پراپنا وجود برقرار رکھے ہوئے ہے۔بلکہ حالیہ چند سالوں سے ایک مرتبہ پھر روس دنیا میں سپرپاور کے طور پرابھر رہاہے۔یہی وجہ ہے کہ امریکہ بھی روس کے ساتھ چھ دہائیوں سے سرد جنگ رکھنے کے باوجود بالآخر خوشگوار تعلقات بنانے کی سعی کررہاہے۔بلکہ یہ کہنا زیادہ مناسب ہے کہ اس وقت دنیا دونئے بلاک میں تقسیم ہونے جارہی ہے،جس کی ایک طرف روس ،چائنا،پاکستان اور دیگر ایشیائی ممالک ہیں اور دوسری طرف یورپی اور دیگر مغربی ممالک ہیں۔ طاقت کے اس بڑھتے ہوئے نشے میں دنیا ایک بار پھر عالمی جنگ اور تباہی کے دہانے پرجا پہنچی ہے۔ان حالات میں خطے کے دو مضبوط ممالک چین اور روس کا پاکستان کے ساتھ اقتصادی ودفاعی اتحاد دنیا بھر میں پاکستان کی اہمیت کو اجاگر کرتاہے۔

روس کے ساتھ پاکستان کے تعلقات اب تک اتنے اچھے نہیں رہے۔کیوں کہ روس شروع سے انڈیا کا حامی رہا ہے۔71 کی جنگ میں بھی روس نے انڈیا کو سپوٹ کیا۔1977 میں افغانستان میں روسی قبضے کے اہداف پاکستان تک تھے،تبھی پاکستان نے روس کے خلاف ایکشن لیتے ہوئے روس افغان جنگ میں مداخلت کی۔روس کے ساتھ ذوالفقار علی بھٹو دور حکومت میں تعلقات کافی بہتر ہوئے اور بھٹو پہلے وزیراعظم تھے جنہوں نے روس کا دورہ کیااور روس نے کراچی میں بہت بڑی سٹیل مل لگائی۔بعدازاں سوویت یونین کی شکست کے بعد تعلقات میں بہتری آئی،لیکن عوامی دباؤ اور نائن الیون کی وجہ سے تعلقات زیادہ بڑھ نہیں سکے۔گوادر پورٹ کے بعد ان تعلقات میں ایک مرتبہ پھراضافہ ہوا ہے۔چنانچہ انڈیا کے روس کو منع کرنے کے باوجود پہلی مرتبہ ستمبر2016میں پاکستان نے روس کے ساتھ مل کر جنگیں مشقیں کیں۔اس کے علاوہ حال ہی میں روسی خفیہ ایجنسی کے سربراہ نے پہلی مرتبہ پاکستان کا دورہ کیا اوراعلیٰ عسکری حکام سے ملاقات کرکے سی پیک میں شمولیت پر مذاکرات کیے، روس نے سی پیک اور بجلی ایسے منصوبوں میں پانچ ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی بھی پیشکش کی ۔ پاکستان نے باقاعدہ گوادرپورٹ اور سی پیک میں شمولیت کی درخواست قبول کرکے روس کو اور زیادہ قریب کرلیا ہے۔یہی وجہ ہے کہ سی پیک اور گوادر پورٹ کے افتتاح کے بعد بھارتی سازشوں میں تیزی آگئی ہے۔پاکستان کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے دیے گئے اس تاریخی موقع سے بھرپور فائدہ اٹھانا چاہئے اور دشمنوں پر کڑی نظر رکھنی چاہئے ۔نہ صرف روس بلکہ دنیا کے جو ممالک بھی پاکستان کے ساتھ برابری کی بنیاد پر تعلقات رکھنا چاہیں پاکستان کو آگے بڑھ کر ان کو خوش آمدید کہنا چاہئے۔لیکن اس ضمن میں پاکستان کی سالمیت کو بہر صورت مقدم رکھنا چاہئے۔ پاکستان کو اپنے پڑوسی ممالک کے ساتھ برابری کی سطح پر تعلقات رکھنا ایک حد تک بہت ضروری ہے،لیکن اس ضرورت کو اگر کوئی پاکستان کی کمزوری سمجھے تو اسے بھرپور طریقے سے سبق سکھانے کے لیے پاکستان کو ہمیشہ تیار رہنا چاہئے۔دوسری طرف پاکستان کو روس سے تعلقات بناتے وقت روس کا ماضی سامنے رکھنا چاہئے،کیونکہ پہلی جنگ عظیم اور دوسری جنگ عظیم میں روس نے اپنے ہی اتحادیوں کے خلاف جنگ لڑ کران کے ممالک پر قبضہ کرلیا تھا۔روس اور دنیا کو سی پیک میں شامل کرنے اور دشمنوں پر نظر رکھنے کیلئے مضبوط خارجہ پالیسی اورسول و عسکری اداروں میں مضبوط قسم کی ریلیشن بہت ضروری ہے۔جنرل راحیل شریف اور بعض مخلص لوگوں کی فراست کی وجہ سے گو تناؤ کوزیادہ آگے نہیں بڑھنے دیا گیااور نیشنل ایکشن پلان ایسے منصوبوں پر مل کر کام کیا جارہاہے۔سی پیک اور گوادر پورٹ کی کامیابی میں معمولی سا تناؤ بھی خطرناک ثابت ہوسکتاہے۔اس لیے پاکستان کے تمام اداروں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوکرسی پیک میں دلچسپی لینے والے ملکوں کو ہینڈل کرنا چاہئے۔اگر پوری قوم یوں ہی متحد ہوکر سی پیک اور گوادر پورٹ کے لیے کام کرتی رہی تو ان شاء اللہ ایک دن پاکستان دنیا بھر میں نہ صرف صف ِاول کا ترقی یافتہ ملک بن جائے گا، بلکہ پاکستان دنیا کی ضرورت بن جائے گا!

متعلقہ خبریں