Daily Mashriq


سول ملٹری تعلقات اور جنرل باجوہ سے وابستہ توقعات

سول ملٹری تعلقات اور جنرل باجوہ سے وابستہ توقعات

اگست یا ستمبر میں انہی صفحات میں لکھے گئے کالم میں عرض کیا تھا کہ آرمی چیف نے اپنی عزت ، شہرت اور وقار کو قائم رکھنا ہے تو مدت پوری ہونے پر گھر چلے جائیں۔یہ وہ وقت تھا جب کئی چینلوں کے اینکرز اور کالم نگار حکومت پر دبائو ڈالے ہوئے تھے کہ جنرل راحیل کوایکسٹینشن دی جائے۔کوئی آپریشن ضرب عضب کا حوالہ دے کر یہ کہہ رہا تھا کہ جنرل راحیل کے جانے سے سارے کئے کرائے پر پانی پھر جائے گا۔ کوئی کراچی آپریشن کی دہائیاں دے کر خوں ریزی دوبارہ شروع ہونے کے امکانات ظاہر کر کے حکومت کو ڈرانے کی کوشش کر رہا تھا اور کوئی اس لئے ایکسٹینشن کی مالا جپ رہا تھا کہ اگر توسیع مل گئی تو اسے فوج کی گڈ بک میں جگہ مل جائے گی۔

اس ہاہاکار میں راقم نے دوٹوک انداز میں لکھا تھا کہ ایکسٹینشن سے جنرل کے گھرانے کی نیک نامی متاثر ہوگی۔اور یہ بھی کہ ان کے ایکسٹینشن لینے سے کسی اور کی حق تلفی ہوگی لہٰذا کچھ بھی ہو جنرل راحیل کو مدت ملازمت میں توسیع نہیں لینی چاہئے۔یہ الگ بات کہ جب میں جنرل راحیل کی ریٹائرمنٹ کے بارے میں سوچتا تھا تو مجھے ہول اٹھتے تھے کہ اتنا شاندار آرمی چیف گھر چلا گیا توپاکستان کا کیا بنے گا؟اسی خیال کے زیر اثر مجھے بسا اوقات لگتا کہ نواز شریف سر پرائز دیتے ہوئے اچانک جنرل راحیل کی ایکسٹینشن کا اعلان کر دیں گے لیکن نواز شریف نے جب یہ فیصلہ کر لیا کہ نیا آرمی چیف آئے گا تو مجھے یہ ماننا پڑا کہ اس فیصلے میں بصیرت ہے اور ہم سب نے یہ کیوں فرض کر لیا ہے کہ پاک فوج میں جنرل راحیل جیسے لوگوں کی کمی ہے۔ ایک سے بڑھ کے ایک شاندار جرنیل ہماری فوج کے پاس موجود ہے اور نیا آرمی چیف بھی ملک کے ساتھ اتنا ہی مخلص ہوگا جتنے مخلص جنرل راحیل تھے۔

جنرل باجوہ کے بارے میں اب تک جو پڑھا اور سنا اس سے یہ امید بندھی ہے کہ ان کے تین سالہ دور میں سول اور ملٹری تعلقات بہتر ہوں گے اور کسی شرارت کرنے والے کو پاکستان کے مستقبل سے نہیں کھیلنے دیا جائے گا۔ جنرل باجوہ اس حوالے سے ایک نئی تاریخ رقم کر سکتے ہیں اگر ان کے پیش نظر مندرجہ ذیل امور رہیں۔

اول یہ کہ جمہوریت بہت اچھا نظام نہ سہی لیکن فی زمانہ ہمارے پاس اور کوئی چوائس نہیں۔یہ بھی کہ دنیا کے ترقی یافتہ ملکوں نے جمہوریت ہی کے زیر سایہ ترقی کی ہے اس لئے جمہوریت کو پھلنے پھولنے کا موقع دیا جائے۔ہمارے سامنے پڑوسی ملک بھارت کی مثال ہے جس کی جمہوریت نے سوا ارب آبادی کا بوجھ اٹھایا ہوا ہے۔

شریف فیملی ایک روایتی فیملی ہے اور پاکستان کے ساتھ مخلص ہے اس لئے اس کے بارے میں یہ سوچنا کہ یہ پاکستان کے ساتھ غداری یا بے وفائی کرے گی ایک احمقانہ خیال ہے اور جو لوگ اس قسم کا پراپیگنڈہ کر رہے ہیں ،ان سے جنرل باجوہ کو فاصلہ رکھنا ہوگا تاکہ کسی کے دل میں یہ خیال نہ آئے کہ ایسے لوگوں کو فوج کی حمایت حاصل ہے۔جنرل باجوہ کو یہ بات بھی اپنے پیش نظر رکھنا ہوگی کہ فوج ایک مقدس ادارہ ہے ۔جنرل باجوہ کی توجہ صرف فوج کا مورال بڑھانے پر رہنی چاہئے کیونکہ اس فوج کو بیک وقت کئی چیلنجز درپیش ہیں۔

دوم یہ کہ آنے والا وقت جنگوں کا نہیں بلکہ معاشی برتری کا ہے۔ آنے والے وقتوں میں جو ملک معاشی طور پر مضبوط ہوگا اسی کا سکہ چلے گا۔ ہمارے سامنے چین کی مثال ہے جو امریکہ کے ساتھ بھی جنگ لڑنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ چاہے تو ایک ہی ہلے میں تائیوان پر قبضہ کر لے لیکن اس نے بہترین جنگی صلاحیت حاصل کرنے کے بعد اپنی ساری توجہ خود کو معاشی طور پر طاقتور بنانے پر مرکوز کر رکھی ہے۔ سی پیک میں وہ آگے چل کر چاہے گا کہ بھارت کو بھی اس منصوبے میں شامل کیا جائے کیونکہ ہندوستان ایک بہت بڑی منڈی ہے جس سے خود کو الگ نہیں رکھا جا سکتا۔

سوم یہ کہ ہمیں بھارت پر ایک بڑی فوقیت حاصل ہے ۔ ہم محض بیس کروڑ ہیں اور بھارت کے مقابلے میں بہت جلد بڑی معیشت بن سکتے ہیں۔ہمارے ہاں قدرتی وسائل کی فراوانی ہے جن سے ہم چین کی مدد سے استفادہ کر کے بھارت کو معاشی میدان میں تاریخی شکست سے دوچار کر سکتے ہیں۔ خود کو اس منزل پر پہنچا سکتے ہیں کہ ہر بھارتی پاکستان کے قریب آنے کی تمنا کرے اور ایسی معاشی چکا چوند ہو کہ ہمارے ساتھ عام بھارتی بھی آواز سے آواز ملا کر کشمیر کی آزادی کی صدا لگائے۔

یہ بات طے سمجھئے کہ کشمیر بندوق کے زور پر آزاد نہیں ہوگا۔ دونوں ملک ایٹمی طاقتیں ہیں اور دونوں ہی جانتے ہیں کہ ایک بڑی جنگ لڑنے کا نتیجہ کیا نکلے گا سو جو حکومت پانچ سال کا مینڈیٹ لے کر آئی ہے اسے یکسو ہو کر کام کرنے کا موقع دیا جائے اور اس کی معاشی پالیسیوں کے راستے میں روڑے نہ اٹکائے جائیں۔ یہ ہمارا ملک ہے کوئی بچوں کے کھیل کا میدان نہیں اس لئے جنرل باجوہ پر لازم ہے کہ وہ ان عناصر سے فوج کی ساکھ بچائیں جو ٹی وی ٹاک شوز میں کھلے عام یہ تاثر دیتے ہیں کہ وہ جی ایچ کیو کے لوگ ہیں اوراندر کی خبر رکھتے ہیں۔ ایسے عناصر ملک کے وفادار ہیں نہ فوج کے اس لئے انہیں شٹ اپ کال نہ دی گئی تو نہ جانے کب تک قوم کی منزل کھوٹی کریں گے۔ ایک نئی شروعات بہتر اور باوقار پاکستان کی ضمانت بن سکتی ہے۔

متعلقہ خبریں