Daily Mashriq


مشرقیات

مشرقیات

حضرت مالک بن ضعیم کہتے ہیں کہ مجھ سے حضرت حکم بن نوح نے میرے والد ابو مالک کے بارے میں کہا کہ ایک رات آپ کے والد اول سے آخر تک روتے ہی رہے جس میں نہ کوئی سجدہ کیا نہ رکوع کیا جب صبح ہوئی تو ہم نے کہا کہ اے ابو مالک! پوری رات میں آپ نے نہ نماز پڑھی نہ دعا کی تو وہ رونے لگے کہا کہ اگر مخلوقات یہ جان لیں کہ کل وہ کس چیز کا سامنا کرنے والے ہیں تو کسی عیش کی چیز میں ان کو کوئی لذت نہ ملے۔

خدا کی قسم! میں نے جب رات کو اس کی ہولناکی اور اس کی تاریکی کی شدت دیکھی تو قیامت اور اس کی شدت و ہولناکی یاد آگئی جہاں ہر نفس اپنے آپ میں مشغول ہوگا نہ کوئی باپ بیٹے کے کام آئے گا اور نہ بیٹا باپ کے کچھ کام آئے گا یہ کہہ کروہ بے ہوش ہوگئے اور مسلسل کانپتے رہے پھر جب کچھ سکون ہوا تو ان کو اٹھا کر لے گئے۔

امام ابوحنیفہ کاخوف الٰہی بھی بے مثال تھا۔ آپ کے شاگرد رشید امام یزید بن الکمیت کہتے ہیں کہ ایک دفعہ علی بن الحسین الموذن نے عشاء کی نماز میں سورہ ''زلزال'' پڑھی۔ امام ابوحنیفہ بھی پیچھے تھے۔ جب لوگ نماز پڑھ کر چلے گئے تو میں نے امام ابو حنیفہ کو دیکھا کہ آپ کسی بات میں متفکر ہیں اور سانس پھول رہا ہے۔ کہتے ہیں کہ میں نے دل میں کہا کہ مجھے یہاں سے چلنا چاہئے تاکہ آپ کو میری وجہ سے پریشانی نہ ہو۔

کہتے ہیں کہ میں وہاں سے قندیل کو یوں ہی چھوڑ کر چلا آیا اور قندیل میںتھوڑا سا تیل تھا۔ جب میں صبح صادق کے بعد مسجد میں آیا تو دیکھا کہ امام ابو حنیفہ وہیں کھڑے ہوئے اپنی داڑھی کو پکڑ کر کہہ رہے ہیں کہ:اے وہ ذات جو ہر خیر کا بدلہ خیرسے اور ہر شر کا بدلہ شر سے دیتی ہے' نعمان ( یہ امام ابو حنیفہ کا نام ہے) کو دوزخ کی آگ سے بچا لے اور اپنی وسیع رحمت میںداخل کرلے۔

یزید بن الکمیت کہتے ہیں کہ میں نے فجر کی اذان دی اور اندر داخل ہوا تو امام صاحب نے پوچھا کہ کیا قندیل بجھاناچاہتے ہو؟ میں نے عرض کیاکہ صبح کی اذان ہوچکی ہے۔

فرمایا کہ میری جو کیفیت تم نے دیکھی ہے اس کو لوگوں سے چھپائے رکھنا۔ کہتے ہیں کہ پھر آپ نے سنت فجر دو رکعتیں پڑھیں اور اسی عشاء کے وضو سے ہمارے ساتھ فجر کی نماز ادا فرمائی۔

ان ہستیوں کو اپنی آخرت کی اس قدر فکر تھی کہ اپنی راتوں کی نیند تک تج دیتے تھے اور ساری رات اللہ کی رضا کے حصول کیلئے عبادت میں مشغول رہتے اور اپنی آخرت کی بھلائی کیلئے گریہ و زاری کرتے۔ درحقیقت آخرت کی زندگی ہی ابدی ہے۔وہاں کا آرام اور نعمتیں ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ہیں جبکہ سزا کی صورت میں ملنے والا عذاب بھی شدید اور دائمی ہے۔

اس لئے فکر آخرت ہی ترجیح ہونی چاہئے۔ ان بزرگ اکابرین کی حیات مبارکہ کو اپنے لئے رول ماڈل بنا کر ان سے رہنمائی لینی چاہئے۔

متعلقہ خبریں