Daily Mashriq


ریاست مدینہ اور اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات

ریاست مدینہ اور اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات

چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل ڈاکٹر قبلہ ایاز نے کہا کہ نجی سود کے خاتمے کیلئے قانون سازی کا مرحلہ مکمل ہوگیا اور اب قتل کے فتوے دینے والوں کے خلاف سزائیں بڑھائیں گے، ریاست مدینہ کیلئے اسلامی نظریاتی کونسل سفارشات دیگی،اراکین کونسل پارلیمنٹ جائینگے، ماضی میں نظریاتی کونسل کو نظرانداز کیا گیا، اسلامی نظریاتی کونسل کے مشاورتی ادارے کے طور پر فعال ہونے سے ملک میں مذہبی منافرت اور افرا تفری دور ہوگی۔ ڈاکٹر قبلہ ایاز نے کہاکہ اجلاس میں اس بات پر تمام علمانے اتفاق کیا کہ کسی کو واجب القتل قرار دینا یا کسی کو کافر کہنا کسی فرد یا گروہ کاکام نہیں اور اس حوالے سے تعزیرات پاکستان میں جو سزا ہے اس کو مزید سخت کیاجائے گا۔اسلامی نظریاتی کونسل ایک اہم ادارہ ہے جو مختلف معاملات کے حوالے سے اپنا نقطہ نظر حکومت کو پیش کرتی رہتی ہے لیکن اس پر عمل درآمداور اس ضمن میں قانون سازی چونکہ حکومت کی صوابدیدہے اس لئے کم ہی کونسل کی سفارشات کودقعت ملتی ہے۔ اگر ہم مملکت خداداد پاکستان کوواقعی اور حقیقی معنوں میں مدینے کی ریاست بنانے کے خواہاں ہیں تو پھر ہمارے وزیر مذہبی امور کو وزیراعظم کو نفاذ شریعت کا مشورہ دینا چاہیئے۔ وزیر موصوف کو یہ سمجھانے کی ضرورت نہیں کہ مدینے کی ریاست سطحی قسم کے اقدامات اور دعوئوں کی متقاضی نہیں بلکہ شریعت واضح طور پر ایک قانون اورضابطہ حیات ہے۔ اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات کی روشنی میں اگر قانون میں تبدیلیاں لائی جاتی ہیں قانون سازی ہوتی ہے اور اقدامات نظر آتے ہیں تو یہ بھی احسن اور امورمملکت میں اسلامی قوانین کی رعایت کے ضمن میں اہم قدم ہوگا۔ ہم سمجھتے ہیں کہ نجی سود کے خاتمے کے ضمن میں قانون سازی کے مرحلے کی تکمیل ایک سطحی اور جزوی قسم کی سعی ہے حکومت اور اسلامی نظریاتی کونسل بشمول وزارت مذہبی امور کو ملک کے سود پر مبنی بینکاری نظام کی تبدیلی کیلئے علمائے کرام اور بعض دینی تنظیموں کی اس ضمن میں علمی وشات سے رہنمائی کیلئے سود کی لعنت کے خاتمے کی طرف بڑھنے اور اقدامات کی ضرورت ہے۔ ایسا کرنے میں رکاوٹوں اور مشکلات کا تو اندازہ ہے لیکن بلاسود بنکاری اور اسلامک بینکنگ کا کامیاب تجربہ کی صورت میں ایک حوصلہ افزاء متبادل موجود ہے ایک معروف اسلامی بینک کی اس ضمن میں حالیہ سال کی کارکردگی اس بات کا مظہر ہے کہ اسلامی بینکاری نظام سودی بینکاری سے بہتر اور منافع بخش بھی ہے اور عوام کا رجحان بھی اس طرف ہے۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ اس نظام میں مالک کائنات سے جنگ نہیں اطاعت وفرمانبرداری ہے جو ہر مسلمان اور ریاست مدینہ دونوں کو مطلوب ہے ۔ ہم سمجھتے ہیں کہ فرقہ واریت اور قتل کے فتوئوں کے باعث ہمارا ملک جس صورتحال سے گزر رہا ہے اور ان دنوں بھی گزر رہا ہے اس پراسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات پر مبنی قانون سازی کی توضرورت سے انکار نہیں۔ حکومت اگر اس ضمن میں معاشرتی ہم آہنگی اور خواہ مخواہ نازک معاملات کو اچھالنے کی بجائے کسی بھی نازک معاملے پر اگر علماء کی ایسی کونسل تشکیل دے جو وقتاً فوقتاًسامنے آنے والے معاملات ومسائل پراپنی رائے دے اور حکومت وپبلک کی رہنمائی کے ساتھ ساتھ معاملات کو بھڑکانے اور ہوا دینے کی روک تھام میں کردار ادا کرے تو بہتر ہوگا اس کیلئے ضروری ہوگا کہ وزارت مذہبی امور کی ذمہ داری کسی ایسے فرد کی ہونی چاہیئے جس پر کسی خاص مکتبہ فکر کی چھاپ نہ لگی ہو مذہبی منافرت کی روک تھام کیلئے ضروری ہوگا کہ سارے مسالک اور فرقوں کیلئے قابل قبول افراد سے حکومت رہنمائی لے اور ان کو ذمہ داری بھی دے ۔ ماضی میں اسلامی نظریاتی کونسل کو نظر اندازکرنے کی دیگر وجوہات کے علاوہ ایک وجہ یہ بھی تھی کہ اس کی قیادت سیاسی بنیادوں پر مخصوص عناصر کے حوالے ہوتی رہی اور کونسل جدید مسائل ومعاملات میں حکومت کی رہنمائی اورقانون سازی کے مشورے دینے کی بجائے ایسی سفارشات دیتی رہی جس سے معاشرے میں نئی بحث شروع ہوتی رہی تاہم موجودہ چیئر مین کی سربراہی میں کونسل سے اس قسم کی توقع نہیں لیکن بہرحال اس کی کارکردگی کا انحصار حکومت کو دیئے جانے والے مشوروں اور سفارشات اور ان پروزارت مذہبی امور اور وزارت پارلیمانی امور کی ان پر عملدرآمد پر ٹھوس پیش رفت ممکن بنانے پر ہوگا۔ہمیں تکفیر ی فتوئوں پر تعزیرات پاکستان میں موجود سزا کو سخت بنانے سے تواتفاق ہے لیکن حالیہ دنوں میں جو گالم گلوچ اور فتوئوں پر مبنی عناصر سامنے آئے ان سے وزیر مذہبی امور کی طرف سے دبائو پر مبنی معاہدے کو کیا قرار دیا جائے۔ قوانین میں بہتری کی ضرورت اپنی جگہ مگر ان پر عملدرآمد اصل بات ہوگی۔ فی الوقت جو قوانین رائج ہیں حکومت اگر اس کے تحت محولہ عناصر کو سزائیں دینے کی ہمت کر سکے تو یہ ایک اچھی ابتداء ہوگی جب تک حکومت عزم وحوصلے کے ساتھ اس قسم کے عناصر کا مقابلہ اور قانون کے سختی سے نفاذ میں کامیاب نہیں ہوگی ریاست مدینہ کے تقاضے پورے نہیں ہوں گے جس میں بلا امتیاز عہدہ وقوت سبھی پر قانون کا یکساں لاگو ہونا ضروری ہے۔

متعلقہ خبریں