Daily Mashriq


عدم اعتراف کے باوجود گیس کی لوڈ شیڈنگ

عدم اعتراف کے باوجود گیس کی لوڈ شیڈنگ

رابطہ کمیٹی کے اجلاس میں گیس کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کا اطلاق روٹی کے تندوروں پر نہ کرنے سے نانبائیوں کو روٹی کی قیمت میں اضافے کا بہانہ تو میسر نہیں آئے گا لیکن کم وزن روٹی کی فروخت کا اس اقدام سے تدارک ممکن نہیں ۔ بہرحال کمیٹی کا فیصلہ احسن ہے۔ گیس کی کمی کو پورا کرنے کے لیے نظام میں150سے200ایم ایم سی ایف ڈی ری گیسیفائیڈ لیکویفائیڈ نیچرل گیس (آر ایل این جی)شامل کرنے کا اقدام صارفین کے مسائل میں کمی لانے کا باعث ضرور ہوگا لیکن فی الوقت صارفین کو گیس کی لوڈ شیڈنگ اور کم پریشر کا سنگین مسئلہ درپیش ہے جس پر توجہ نہیں دی جارہی ہے۔ موسم سرما کے دوران ملک کے بیشتر علاقوں میں گیس کی لوڈشیڈنگ ایک معمول ہے اور کئی سالوں سے موسم سرما کے دوران گیس کی کمی شہریوں کے لیے ایک مسئلہ بن جاتا ہے۔گیس کی لوڈشیڈنگ سے جہاں صنعتی صارفین کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے وہیں گھریلو صارفین بھی پریشان نظر آتے ہیں۔گیس کی لوڈشیڈنگ کی وجہ سے گھریلو صارفین کو جہاں کھانا بنانے کے ساتھ ساتھ روز مرہ کے دیگر امور کو نمٹانے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑتا ہے وہیں اس مسئلے کی وجہ سے ہوٹلوں کی انتظامیہ کو بھی شہریوں کی طلب کو پورا کرنے میں مشکلات پیش آتی ہیں۔ہم سمجھتے ہیں کہ فی الوقت سردی میں وہ شدت نہیں آئی اور بارش بھی نہیں ہوئی اس کے باوجود گیس پر یشر میں کمی اور لوڈ شیڈنگ کی جارہی ہے۔ موسم میں شدت اور خاص طور پر برفباری کے بعد گیس پریشر اور لوڈ شیڈنگ کا مسئلہ سنگین ہو سکتا ہے جس کیلئے پیش بندی کے طور پر حکومت نے جو متبادل بندوبست کا عندیہ دیا ہے اس میں تاخیر نہیں ہونی چاہیئے تاکہ صارفین کو سہولت میسر آئے گیس کی قیمتوں میں عدم اضافے کے بعد تندوروںپر بکنے والی روٹی کاوزن معلوم کرنے پر توجہ کی ضرورت ہے تاکہ صارفین کوملنے والی کم وزنی روٹی کی شکایت کا ازالہ ہو۔

نفاذ قانون میں ناکام پولیس

یکہ توت کے ایس ایچ او پر سابق سیکورٹی اہلکار کے تھانے میں تشدد کے بعد قتل اور علاوہ ازیں ان پر لگنے والے پرانے الزامات پر پولیس حکام نے ان کے خلاف قتل کے مقدمے کے اندراج کا تو اعلان کیا ہے مگر قتل کے ملزم ایس ایچ او، ان کے گن مین اور دیگر مدد گاروں کو نہ تو گرفتار کیا گیا اور نہ ہی ان کے خلاف کوئی دیگر کارروائی سامنے آئی ۔المیہ یہ ہے کہ خیبر پختونخوا پولیس جرائم پر قانون کا سخت گیر اطلاق کر کے نہیں کرائمز رپورٹروں کی مدد سے قابو پانے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے یہی وجہ ہے کہ جب تک لوگ سراپا احتجاج نہیں ہوتے جرائم کے واقعات کی خبر بھی نہیں بنتی اور پولیس حکام بھی کارروائی کی زحمت گوارا نہیں کرتے ۔ پولیس اور میڈیا کے نمائندوں کا یہ گٹھ جوڑ حکومت کو بھی خفت سے بچانے کا ذریعہ بنتا ہے مگر اس گٹھ جوڑ کے باعث معاشرے میں جرائم کی شرح میں اضافہ ہورہا ہے۔ آئس کی لعنت گھر گھر پھیل رہی ہے۔ سٹریٹ کرائمز بے قابو ہوتی جارہی ہے قحبہ گری کی اس طرح سرپرستی کی جاتی ہے کہ دھندے میں حصہ داری کا گماں گزرتا ہے ۔ اس کے باوجود دھڑلے سے خیبر پختونخوا پولیس کومثالی پولیس قراردیا جاتا ہے جس کا تازہ کارنامہ چادر اور چاردیواری کی حرمت کی پامالی اور تھانے میں سابق سیکورٹی اہلکار کو جان سے ماردینا ہے مگر اس کے باوجودقتل کے ملزمان آزاد پھر رہے ہیں کیا پولیس کسی بااثر شخص یا اپنے پیٹی بند کے علاوہ قتل کے کسی اور ملزم سے بھی اسی طرح کا سلوک کرتی ہے۔ کیاقانون کے مطابق قتل کے ملزم کی گرفتاری نہیں ہونی چاہیئے ان سوالات پر غور کرنے سے مثالی پولیس کا پول خود ہی کھل جاتا ہے مگر اس کے باوجود وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سمیت محکمہ داخلہ اوردیگر حکام سخت نوٹس لینے کی زحمت گوارا نہیں کرتے۔ میڈیا کا کردار بھی گھنائو نا ہے ایسے میں اس شہر ناپرسان کے مکین انصاف کیلئے خود بندوق اٹھائیں یا کیا کریں اس کی تجویز حکام خود ہی دیں ۔حکام کو یاد رکھنا چاہیئے کہ لاقانونیت کی سرپرستی اگر ان کی سطح سے ہوتی رہے گی تو عوام کے پاس شدت پسندی پر اترے بغیر کوئی چارہ نہیں جس کا خمیازہ ہم ابھی تک بھگتتے چلے آرہے ہیں مگر اس کے اسباب کے خاتمے کیلئے پھر بھی تیار نہیں۔

افسروں کی رسہ کشی

صوبے میں سرکاری افسروں سے باہم عدم تعاون اور رسہ کشی سے سرکاری امور کا درہم برہم ہونا فطری امر ہوگا جس سے حکومتی کارکردگی اور عوامی مسائل کے حل کا عمل دونوں متاثر ہوں گے۔ افسروں کے درمیان اس قسم کے اختلافات اور خاص طور پر پوسٹنگ اور عہدوں کی جنگ نئی بات نہیں مگر اس کے باوجود اسے طے کرنے کی طرف توجہ نہیں دی جارہی۔ بہتر ہوگا کہ اس مسئلے کا مستقل بنیادوں پر حل تلاش کرکے تنازعہ طے کرلیا جائے۔

متعلقہ خبریں