Daily Mashriq


مشرقیات

مشرقیات

معین کے ڈراموں کی لڑکیاں

پاکستان سمیت دنیا بھر کے کئی ممالک میں رہنے والے درمیانی عمر کے افراد شاید ہی حسینہ معین کے ڈراموں کے سحر میں گرفتار نہ ہوئے ہوں۔77 سالہ حسینہ معین کو نہ صرف شاندار اور سماج کو بدلنے والے ڈرامے لکھنے والی ڈرامہ نگار کہا جاتا ہے بلکہ انہیں ڈراموں میں لبرل، سیکولر، خود مختار، بولڈ اور نسوانی خوبصورتی سے بھرپور خاتون کو تخلیق کرنے والی تخلیق کارہ بھی مانا جاتا ہے۔تاہم لوگوں کے ذہنوں میں سوال ہے کہ اب کیوں حسینہ معین ماضی جیسے شاندار ڈرامے نہیں لکھتیں؟ساتھ ہی ان کے لاکھوں چاہنے والے یہ بھی جاننا چاہتے ہیں کہ اپنے ڈراموں میں بولڈ اور خود مختار لڑکی کو دکھانے والی حسینہ معین نے شادی کیوں نہیں کی؟۔ ستتر سالہ حسینہ معین سے اس عمر میں شادی نہ کرنے کے سوال کو سوال کرنے والے کی ذہنی عدم بلوغت سے ہی تعبیر کیا جانا چاہیئے بہرحال حسینہ معین لڑکیوں کے جس قسم کے بہادر کردار ڈراموں میں دکھاتی رہی ہیں عملی زندگی میں ایسا ممکن نہ تھا لیکن اب آہستہ آہستہ معاشرے میں لڑکیاں بہادری دکھانے لگی ہیں اور اگر سچ پوچھیں تو آج کل کے نوجوان مردآدھی عورت اور عورتیں آدھے مرد نظر آتی ہیں ۔ عورت کے کمزور ہونے کا نظریہ اب بھی جہاں حوا کی بیٹی لٹتی ہے یاپھر اس پر ظلم ہوتا ہے تو قائل کردینے والا ہوتا ہے مگر مجموعی طور پر اب ایسا نہیں شاید اس کی بڑی وجہ بچیوں کا شادی اور گھر بسانے کی بجائے سب سے پہلے اعلیٰ تعلیم اور کیریئر بنانے کا رجحان ہے گوکہ یہ کم ہی بچیوں کو میسر ہے مگر ہے ضرور، اس سے زیادہ اگر احترام نسواں کی وکالت کی جائے تو مردوں کی طرف سے طعنوں کی یلغار کا خطرہ ہے اس لئے ایک حق گومولوی کی تقریریہاں نقل کرتے ہیں مولوی صاحب نے کسی پختون گائوں میں وعظ کرتے ہوئے کہا کہ جو مرد اپنی بیوی کو سلام نہ کرے وہ جنت میں نہیں جائے گا۔ مولوی صاحب کا یہ کہنا تھا کہ تین چار معتبر قسم کے با بے اٹھ کھڑے ہوئے اور کہنے لگے کہ تم اس عمر میں ہمیں بے غیرت بنارہے ہو۔محولہ اسلامی حوالہ سمجھنے اور سمجھانے میں غلطی ممکن ہے لیکن بیوی کو سلام لازم ہے اس میں شبہ نہیں۔ ہمارے ایک ساتھی ہوا کرتے تھے کاپی جوڑتے ہوئے جب بھی کوئی ایسی بات ہوتی تو ’’زور کو سلام‘‘ کا ایک نعرہ بلند کرتے تھے آج کل کے زن بھی بڑی زورآور ہوگئی ہیں چاہے نہ چاہے ان کو سلام کرنا پڑتاہے۔ گھر میں نہ سہی دفتر میں جب بیس گریڈ کی کرسی پر بھاری بھر کم خاتون بیٹھی ہو تو مجال ہے کہ کڑیل جوان اس کو سلام نہ کرے اورکیوں نہ کرے ہمارے ہاں عورت کی حکمرانی کے مخالفین’’ بھاری بھر کم قائدین‘‘ جو نسوانی حکومت کا حصہ رہ چکے ہیں ۔ خدا بخشے محترمہ بینظیر بھٹو کی حکومت ان مردوں کی حکومت سے کیا کہیں بہتر نہ تھی’’مرداول‘‘ ان کی حکومت بدنام نہ کرتے تو نسوانی حکومت تو نمبر لے گئی تھی ثابت ہوا کہ فساد کی جڑ مرد ہی ٹھہرے۔

متعلقہ خبریں