Daily Mashriq


مسئلہ کشمیر پر ناروے کی ثالثی کی تیاریاں

مسئلہ کشمیر پر ناروے کی ثالثی کی تیاریاں

ناروے کے سابق وزیر اعظم کجیل میگنے بانڈویک نے سری نگر اور دہلی کے بعد اسلام آباد اور مظفر آباد کا دورہ کیا ۔دہلی اور اسلام آباد میں انہوں نے اعلیٰ حکام سے ملاقاتیں کیں ۔اسلام آباد میں ان کی ملاقات وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سے ہوئی دہلی میں ہونے والی ملاقات البتہ خفیہ رہی شاید کسی سیاسی مصلحت کے باعث بھارتی حکام نے اس معاملے میں احتیاط برتنے کو ہی ترجیح دی ۔نارویجن لیڈر کا دورہ سری نگر کرتار پور سرحد کھولنے کے اعلان کے دوسرے روز ہوا ۔نارویجن لیڈر کے دورہ کشمیر اور سری نگر میں مزاحمتی قیادت کے ساتھ ملاقات میں بھارتی حکومت کی رضامندی ہونا لازمی امر ہے۔بھارت کی اجاز ت کے بغیر وہ نہ تو کشمیر میں داخل ہو سکتے اور نہ ہی گھروں میں نظربندی جیسی صورت حال سے گزرنے والے کشمیری قائدین سے ملاقات کر سکتے تھے ۔ شاید یہی وہ نکتہ ہے جس کے بارے میں کشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے سوال اُٹھایا ہے کہ کیا سشما سوراج اور اجیت دوول یہ وضاحت کرنا پسند کریں گے کہ نارویجن لیڈر کشمیر میں کیا لینے آئے تھے یا ہمیں اس معاملے پر افواہوں پر ہی گزارا کرنا پڑے گا؟۔ موجودہ حالات میں بھارت کاناروے کے سابق وزیر اعظم کو حریت پسند قیادت سے ملنے کی اجازت دینا اس دبائو کانتیجہ بھی ہو سکتا ہے جو اس وقت عالمی برادری کی طرف سے بھارت پر موجود ہے ۔مقبوضہ کشمیر کی بگڑتی ہوئی صورت حال اور انسانی حقوق کی بدترین خلاف ورزیوں نے عالمی ضمیر کو جھنجوڑ کر رکھ دیا ہے ۔ انسانی حقوق کی بدترین صورت حال کا ایک تازہ ثبوت سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی انیس ماہ کی معصوم بچی حبہ کی وہ تصویر ہے جس میں بچی کی آنکھوں پر پٹی بندھی ہوئی ہے ۔ بچی کی آنکھ چند دن قبل اپنے گھر میں لگنے والی پیلٹ گن کی گولی سے زخمی ہوئی ہے۔اس تشدد کا بھارت کے پاس کوئی جواز اور دلیل نہیں ہوتی ۔ اس دبائو میں اقوام متحدہ کی حقوق انسانی کونسل کی رپورٹ نے مزید اضافہ کیا ہے جس میں کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ان کی تحقیقات کے لئے بین الاقوامی کمیشن کے قیام کی تجویز پیش کی گئی تھی۔ اس طرح نارویجن لیڈر کے دورہ ٔ کشمیر کو کرتار پور سرحد کے فیصلے کے نتیجے میں قائم ہونے والی مجموعی فضاء ،امیدافزا ء حالات کے تناظر میں دیکھا جا سکتا ہے ۔اس دورے کی ایک اور اہمیت نارویجن لیڈر کا سری نگر اور دہلی سے ہوتے ہوئے اسلام آباد اور مظفر آباد آنا ہے جہاں انہوں صدر آزادکشمیر سردار مسعودخان سمیت حریت کانفرنس کی آزادکشمیر شاخ کے نمائندوں کے ساتھ ملاقات کی ۔سری نگر اور مظفر آباد کے درمیان سفر کا یہ شٹل ڈپلومیسی کا انداز نوے کی دہائی کے اوائل میں اس وقت اپنایا گیا تھا جب کشمیر میں تحریک مزاحمت ایک نئے انداز سے شروع ہوئی تھی اور اس کے نتیجے میں کنٹرول لائن اور بین الاقوامی سرحد پر پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہو گیا تھا۔اس وقت امریکہ ،برطانیہ ،اقوام متحدہ اور مختلف یورپی ملکوں کے نمائندے سری نگر اور مظفر آباد کے حالات کا بچشم خو د جائزہ لینے کے لیئے بیک وقت دورہ کرتے تھے ۔ اس سے مسئلے کے حل کی سفارتی کوششوں کے حوالے سے امید کے تار جڑے رہتے تھے اور کشمیری نوجوانوں کا بین الاقوامی نظام پر اعتماد بحال چلا آرہا تھا ۔جب تک یہ امید قائم رہی کشمیری نوجوانوں اور نئی نسل کا احتجاج کچھ حدود میں قائم رہا مگر امید ختم ہوئی تو پھر یہ پیمانہ کچھ ایسا چھلک پڑا کہ اب معاملات بھارت کے قابو سے باہر ہوکر رہ گئے ہیں۔نائن الیون کے بعد حالات نے اُلٹی زقند لی اورعالمی دہشت گردی کے نام پر اُڑائی جانے والی گرد نے یہ سب سلسلے متروک بنا دئیے ۔مغربی لیڈر یا سفارت کار یا تو بھارت کے دورے کرتے رہے یا پاکستان کے ۔کشمیر کے دونوں حصوں میں آکر مضروب اور مجروح پارٹی یعنی کشمیریوں کی کتھا سننے کا رواج ختم ہو گیا۔اب نارویجن لیڈر اور سابق وزیر اعظم کا پرانے سٹائل میں خطے کا دورہ کرنا اس بات کا پتا دے رہا ہے کہ عالمی برادری کو مسئلہ کشمیر کے باعث خطے کی نازک صورت حال کا احساس ہونے لگا ہے ۔اس سے پاکستان اور بھارت کے درمیان مسئلہ کشمیر پر متروک اورمنجمد ڈپلومیسی بحال ہونے کے آثار بھی پیدا ہو گئے ہیں۔ناروے دنیا کے کئی تنازعات میں پسِ پردہ ثالثی کے لئے مشہور رہا ہے جس کی ایک مثال 1993میں فلسطینی قیادت اور اسرائیل کے درمیان ہونے والا معاہدہ اوسلو ہے ۔اس معاہدے کے پیچھے اصل دبائو تو امریکہ کا تھا مگر کئی برس تک پی ایل اواور اسرائیلی نمائندوں کے درمیان مذاکرات ناروے کے تھنک ٹینک کے زیراہتمام جاری رہے جس کا حتمی نتیجہ اوسلو معاہدے کی صورت میں برآمد ہواتھا۔ اوسلو معاہدے کے بعد ہی امریکی صدر بل کلنٹن نے مشرق وسطیٰ کے بعد جنوبی ایشیا کے معاملات کی طرف توجہ دیتے ہوئے کشمیر پر بھی ایک اوسلو طرز کے معاہدے کے لئے کام شروع کیا تھا ۔ناروے کے سابق وزیر اعظم کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ 2001سے کشمیر کے معاملات میںذاتی دلچسپی رکھتے ہیں اور اس حوالے سے کئی سیمینار منعقد کر چکے ہیں۔بھارت چونکہ مسئلہ کشمیر کے حل میں تیسرے فریق کے کردار اور ثالث کی اصطلاح سے بدک جاتا ہے اس لئے ثالث کی اصطلاح استعمال کئے بغیر ناروے مسئلہ کشمیر پر پاک بھارت تعلقات کی برف پگھلانے اور ٹوٹے ہوئے تار جوڑنے کے لئے ثالث کا کردار ادا کر سکتا ہے ۔

متعلقہ خبریں