Daily Mashriq


سودن کی کہانی

سودن کی کہانی

مایا اینجلونے کہا تھا کہ تعصب ایک ایسا بوجھ ہے جوماضی کو دھندلاکردیتاہے،مستقبل کو خطرے میں مبتلاکردیتا ہے اور حال نا قابل گرفت ہوجاتا ہے شاید اسی لیے یہ بھی کہا جاتا ہے ۔کہ منافقت سب برائیوں کی ماں ہے اور تعصب اس کا پسندیدہ بچہ ہے۔ ہمارے ملک میں یہ معاملہ تو مسلسل ہی دکھائی دیتا ہے۔ ہروہ شخص جو کسی دوسرے کیلئے ناپسند یدہ ہے ، اس کا کیا ہوا ہرعمل اور اٹھایا ہوا ہر قدم مسلسل صرف اس تعصب کی بنیاد پر رد کیاجاتا ہے۔مضحکہ اڑایا جاتا ہے اور یہ سمجھا جاتا ہے کہ چونکہ یہ شخص ہمیں پسندنہیں سو اس کا کوئی اقدام بھی درست نہیں شاید اس سے زیادہ نفرت کا اظہار کیاجانا ممکن ہو تو کیا جائے اور ارد گرد کے لوگوں کویہ باور کروایا جائے کہ اس کازندہ نہ رہنا ہی سب کی بھلائی میں ہے۔ بحیثیت قوم ہمارے بچپنے کو ابھی تک بالیدگی کی ہوا نے چھوا تک نہیں سو رویوں میں پختگی نام کو نہیں۔

ہمارے سیاست دان مسلسل جب سو دن کی کارکردگی کے حوالے سے چلاتے رہتے ہیں تو کئی بار ایک ماں ہونے کے ناطے دل چاہتا ہے کہ انہیں خاموش کروادوں اور کہوں وہاں کونے میں منہ پر انگلی رکھ کر بیٹھ جائو، اور شور نہ کرو۔ بے وجہ ہی سودنوں کا ایک ہوا کھڑا کر رکھاہے ۔ کوئی بے وجہ کی اس دوڑ میں مبتلا ہے کہ اس نے سو دن میں کچھ کر کے دکھانا ہے اور کوئی بے وجہ ہی شور مچا رہا ہے کہ سو دن ہوگئے اور کچھ ہو نہ سکا۔ کیا ہوسکتا ہے سو دنوں میں؟کوئی بتائے! کوئی بتائے کہ دہائیوں سے بگڑے اس ملک کو سو دنوں میں سنوارنے کا اعلان کرنے کی منطقی دلیل کیا تھی۔ سیاست دان تو عوام کو بہلانے کے لیے ایسی باتیں پہلے بھی کیا کرتے ہیں ۔ وہ جنہوں نے سڑکیں بنائیں ،پل بنائے ، میٹروبنائیں، کوئلے سے بجلی بنانے کے کارخانے بنائے او رملک کو لوٹ لوٹ کر ادھ موا کردیا۔ جنہوں نے سارے ہی کام ایسے کیئے جن کے بعد یہ ملک قرضوں میں ، بدعنوانی کے دلدل میں ڈوبتا چلا گیا۔ ان لوگوں کو بھی تو کسی نے نہیں پوچھا کہ انہوں نے پانچ سالوں میں کیا کیا ، اب ان لوگوں سے بھی پوچھنے کی کیا ضرورت ہے کہ سودن میں یہ کیا کررہے ہیں ۔ ایک عام آدمی سیکھ سکتا ہے کہ کیا تبدیلی آرہی ہے ۔ اگر عام آدمی مطمئن ہے تو ان سیاست دانوں کے شورمچانے سے بھی کیا ہونے والا ہے۔ یوں بھی ان کی باتوں میں ایک عام آدمی کو سچائی کہاں محسوس ہوتی ہے۔ ان کی لوٹ کھسوٹ کی کہانیاں تو اب ضرب المثل بنتی محسوس ہوتی ہیں۔ لوگ اپنے بچوں کو ان کی مثالیں دیتے ہیں۔ اس حکومت نے سو دن کی کارکردگی کی بات ہی کیوں کی ، میں آج تک یہ سمجھ نہیں پائی، شاید عوام کی امیدوں کا دبائو بہت زیادہ تھا۔ لیکن ان کی ناپختگی میں کی ہوئی ایک بات کو اپوزیشن نے ان کے گلے کا ڈھول ہی بناڈالا۔ باربار وہی ایک بات ، جس میں ایسی کوئی بات ہی نہیں اور بے چارے عوام خاموش تماشائی بنے ، یہ تماشا دیکھنے پر مجبور ہیں اس حکومت کی سمت درست ہے ، اپوزیشن بھلا یہ بات کیسے مان سکتی ہے ۔ کیونکر برداشت کرسکتی ہے ۔ اس حکومت کی سمت کی درستگی دراصل ان کی ہار ہے اور کوئی اپنی ہی ہار پر کیسے خوش ہوسکتا ہے ۔ لیکن ابھی تک ان سودنوں کی سب سے بڑی کامیابی یہ ہے کہ لوگ مطمئن ہیں۔وہ مطمئن ہیں کہ انہیں بھی سمت کی درستگی دکھائی دیتی ہے۔ فیصلوں میں نیک نیتی نظر آتی ہے یہ دھڑکا محسوس نہیں ہوتا کہ حکومت انہیں لوٹ رہی ہے۔ یہ پریشانی انکی روحوں کو ان دیکھے تعویزوں میں باندھتی نہیں لگتی کہ یہ لوگ دلوں میں کھوٹ رکھتے ہیں ۔دراصل اپنے ہی مفادات کے تاج محل ہر ایک کونے ، ہر ایک نکٹر پر بناڈالنا چاہتے بس اس حکومت سے ابھی لوگوں کو کوئی خطرہ محسوس نہیں ہوتا۔ ان سودنوں میں اس حکومت کی یہ سب سے بڑی کامیابی ہے اور اس کامیابی کے ساتھ ساتھ کچھ ننھے منے اشارے ایسے بھی ہیں جو بہتری کے گیت گاتے محسوس ہوتے ہیں جو بتا رہے ہیں کہ جولائی سے اکتوبر2017ء میں پاکستان کی برآمدات 7.03بلین امریکی ڈالر کی تھیں جبکہ جولائی تا اکتوبر 2018ء میںان کا حجم3.52فیصد بڑھ گیا ہے اوریہ 7.29بلین ڈالرکی ہوگئی ہیں یہی اعدادوشمار بتا رہے ہیں کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے 2017ء جولائی تا اکتوبر 6.44بلین امریکی ڈالر پاکستان بھیجے گئے جبکہ جولائی تا اکتوبر2018ء میں ان میں 15.14فیصد بہتری دیکھنے میں آئی ہے اور اس وقت میں7.41بلین ڈالربھیجے گئے ہیں۔ یہ تبدیلی معمولی سہی لیکن اس بات کی جانب اشارہ کرتی ہے کہ حالات میں مثبت بدلائو ہے ۔ بات صرف اس حد تک نہیں پاکستان کے تجارتی خسارے میں بھی کمی آرہی ہے ۔ اگرچہ یہ تبدیلی معمولی ہے لیکن تین مہینے میںیہ بدلائو بھی بڑا خوش کن ہے جولائی تا اکتوبر2017ء میں یہ تجارتی خسارہ 12.02بلین ڈالر کا تھا جبکہ اب یہ خسارہ گھٹ کر 11.76بلین ڈالر کا رہ گیا ہے۔ اسی طرح کرنٹ اکائونٹ خسارے میں بھی انہی دنوں میں 457فیصد کی کمی آئی ہے۔

یہ اعدادوشمار خوش آئند ہیں۔ شاید کسی انقلابی تبدیلی کا ترانہ تو نہیں سُناتے لیکن سمت کی درستگی کی جانب اشارہ کرتے محسوس ہوتے ہیں۔ یہی وہ تبدیلی ہے جو ان دنوں میں آئی ہے۔ اور اگر یہ ایساہی رہے تو اس میں اضافہ ممکن ہے لیکن دل کو جانے کیوں دھڑکا سا لگا رہتا ہے ۔ ابھی ہمیں بہتری کو سچ مان لینے کی عادت نہیں ہوئی لیکن ایسا ہی رہا تو اس بات کی عادت ہوہی جائے گی۔ سیاست دانوں کے تعصبات اپنی جگہ اور ان کی منافقت کازہر بھی حقیقت ہے مگر ان سودنوں کی کہانی کچھ اور ہے۔

متعلقہ خبریں