Daily Mashriq


یہودی فسادفی الارض کا سبب قوم

یہودی فسادفی الارض کا سبب قوم

قائد اعظم فرماتے ہیں اسرائیل ایک ناجائز ریاست ہے جسے اُمت کے قلب میں گھسایا گیا اسکو پاکستان کبھی بھی تسلیم نہیں کرے گا۔جرمنی کے ہٹلر نے بھی ایک کروڑ یہودیوں کو جمع کرکے بھٹیوں میں جلا دیاکیونکہ بقول ہٹلر یہ ایک شاطر اور منافق قوم ہے اور اس سے خیر کی توقع رکھنا بے وقوفی ہے ۔میں تمام یہو دیوں کو ما ر سکتا تھا مگر اس میں میں نے چند اسلئے چھوڑے تاکہ آپکو انکا پتہ چلے کہ میں انکو کیوں ما ر رہا تھا۔اگر ہم یہودیوں کی دوسری قوموں کے ساتھ سلوک اور بر تائو پرنظر ڈالیں تو یہودی دوسری قوموں کو بے وقوف ، جنٹائل یعنی حیوان نما انسان سمجھتے ہیں اور اپنے آپکو دنیا کی اعلیٰ ترین نسل کے انسان سمجھتے ہیں۔ یہودیوں کا عقیدہ ہے کہ غیر یہودی کیڑے مکوڑے ہیں۔ ان کی تعلیمات کے مطابق غیر یہودیوں کی املاک پر قبضہ کرنا اور انکو قتل کرنا اُنکا پیدائشی حق ہے اور یہی وجہ ہے کہ غیر یہودیوں کو رائے دہی کا حق حا صل نہیں۔یہود آپنے آپکو کسی کے سامنے جوابدہ نہیں سمجھتے۔حتیٰ کہ یہودی عالماء ۔۔۔ جاہل یہودیوں کے بارے میں بھی اسی سوچ کے حامل ہیں۔ قُُر آن مجید کی رو سے یہودی عہد و پیمان کی مسلسل نافرمانی کرتے تھے۔ جس کے بعد کو ہ طور کو اُنکے سروں پر اُٹھا کر لٹکا یا گیا تاہم اسکے باوجود ان کی عہد شکنیو کا سلسلہ جاری رہا۔ یہودی اللہ تعالیٰ کی آیات کو فروخت کرتے تھے اور ان سے اپنے فائدے کا مطلب نکالتے۔اللہ تعالیٰ کی طرف سے آسمان سے بھیجے گئے پیغمبروں کو قتل اور انکو پھانسی چڑھانے سے بھی اُنکو کوئی عار نہیں تھا یہودیوںنے حضرت عیسیؑ کا سر قلم کروایا ۔اور ایک نبی کو کنویں میں اُلٹا لٹکا کر چھوڑا ، حضرت عیسیؑ کو تختہ دار تک لیجانے میں پیش پیش تھے۔ یہودی با دشاہ نے ایک بد کار عورت کی فرمائش پر حضرت یحییٰ علیہ سلام کو شہید کرکے اُنکا سر طشتری میں رکھ کر اس بد کار عورت کے سامنے پیش کیا۔ اللہ تعالیٰ نے جب آسمان سے بلا محنت و مشقت رزق من و سلویٰ فراہم فرمایا تو نافر مان اور نا شکرے یہودیوں نے ضد کرکے اسے بند کروایا اور مطالبہ کیا کہ انکے لئے زمین سے اناج اور سبزیاں اُگانے کا بندوبست کیا جائے۔ اللہ تعا لیٰ نے ایک بستی میں دا خل ہوتے وقت یہودیوں کو خطۃ(معافی) کا لفظ ادا کرنے کے لئے کہا مگر یہودیوںنے اسے ضد میں بدل کر حنطۃ یعنی ـ گندم میں تبدیل کیا۔اگر ہم قر آن مجید کا مطالعہ کریں تو اس کے بُہت سارے ایسے واقعات ہیں جہاں پر یہودی اللہ تعالیٰ کے حکم کی قصداً عمداً مخالفت کرتے اور اللہ تعالیٰ کے حکموں کو نہیں مانتے تھے۔عہد نبوت میں بھی یہودی بے تحاشا سازشیں کرتے تھے۔مثلاً حضورؐ کے دور میں مسلمانوں کی صفوں میں فساد بپاکرنے کی کو شش کرتے تھے۔ اسلامی دعوت کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرتے تھے۔ حضور ﷺ اور مسلمانوںکیخلاف جھوٹے پرو پیگنڈے کرتے تھے۔ منافق ، صبح مسلمان اور شام کو پھر کافر ہوجاتے تاکہ کمزور اور سادہ لوح مسلمانوں میں نفرت اورشکوک و شبہات کا بیج بو سکیں۔ کسی کے ساتھ مالی تعلق ہوتا اور وہ مسلمان ہوجاتا تو اس پر معیشت کی راہیں تنگ کرتے۔اگر ہم غور کریں تو یہودیوں نے دنیا اور انکے وسائل ، سیاست اور میڈیا پر قبضہ کرنے کے لئے ایک پروٹوکول یعنی دستاویز ترتیب دیاتھا۔ اس کتاب کے پڑھنے سے یہو دیوں کے عزا ئم سمجھ آتے ہیں۔ یہو دی پروٹوکول میں لکھتے ہیں کہ یہودی اپنے مقاصد کے حصول کے لئے لوگوں کو بے دریغ قتل کرسکتے ہیں ، حتیٰ کہ ضرورت پڑنے پر کسی یہودی کو بھی قتل کیا جا سکتا ہے۔اپنے مقاصد کی تکمیل کے لئے میڈیا کو کنٹرول کرنا ، رنگ و نسل مذہب اور جغرافیائی بنیادوں پر لوگوں کو آپس میں لڑانا،مذہب کے بجائے مادیت اور سائنس کا فروغ،رشوت اور دھمکیوں کو اپنے مکروہ مقاصد کی تکمیل کے لئے استعمال کرنا،خلافت اور بادشاہی طرز حکومت کی جگہ سوشلزم ، کمیونزم اور مطلق العنا نیت کا فروع،کٹھ پتلی حکمرانوں کا تعین کرنا تاکہ بلیک میلنگ کے ذریعے اپنے مقاصد کی تکمیل کے لئے ان کو استعمال کیا جائے۔عوام میں خرافات کے فروغ کے لئے میڈیا کا استعمال،عوامی اذہان کو پراگندہ اور بے حیا بنانا، لوگوں کو ہمیشہ کے لئے غُربت اور افلاس میں دھکیلنا،اجارہ داری قائم رکھنے کیلئے غریب اور ترقی پذیر ممالک کو بھاری سودی قرضوں کی فراہمی ، عوام اور حکمرانوں کو غلط مشاورت کے ذریعے گمراہ کرنا،دنیا کی ساری دولت خصوصاً سونا چاندی کو اپنی ملکیت میں لینا،سونے کو عالمی منڈی میں انتشار کے لئے استعمال کرنا،قابل اعتماد سرمایہ کاری کی بجائے ناقابل اعتماد سرمایہ کاری کی ترغیب،اپنے مفادات کیلئے تاریخی حقائق کو بدلنا،کامیاب ترین لوگوں کی عزت نفس اور بر تری کے احساس کو بڑھا دینا تاکہ وہ تکبر اختیا رکریں،دولت اور جائیداد پر بڑھتے ہوئے ٹیکسوں کا نفاذ وغیرہ ان کے شامل ہیں اور یہی وجہ ہے کہ قُر آن مجید اور احا دیث مبارکہ اس قوم کے خلاف سخت وعید سُنائی گئی ہے۔ یہودیوں نے پاکستان کی حیثیت کو بھی تسلیم نہیں کیا اور بھارت کے ساتھ مل کر کئی دفعہ پاکستان کے ایٹمی تنصیبات پرحملہ کرنے کی کو شش کی۔

متعلقہ خبریں