Daily Mashriq


بھارت میں مسلمانوں اور اسلامی شعائر کی بے توقیری

بھارت میں مسلمانوں اور اسلامی شعائر کی بے توقیری

اگرچہ پاکستان میں آج بھی بحث کی حد تک کانگریسی ذہنیت موجود ہے اور اب بھی اُن کو موقع ملے تو بھارت کے ساتھ جا کھرے ہوں، لیکن اب اُن کے لئے ایسا ممکن نہیں کیونکہ جو مراعات ،جائیدادیں اور سیاسی رسوخ ورسائی اُن کو پاکستان میں حاصل ہے ، بھارت میں اُس کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔ہمارے ہاں بعض مخصوص سیاسی گروہ بالخصوص دینی مدارس کے وہ علماء جن کی جڑیں مدرسہ دیوبند سے جڑی ہیں ، اب بھی اس نظریہ کے قائل ہیں کہ تقسیم ہند سے مسلمانان ہند تقسیم ہو کر کمزور ہوگئے ہیں۔ وہ یہ فلسفہ جھاڑتے ہیں کہ متحدہ ہندوستان میں بھارت، پاکستان اور بنگلہ دیش کے مسلمان مل کر بہت بڑی قوت ہو جاتے ، ظاہری حد تک اس بات میں اتنا وزن محسوس ہوتا ہے کہ ہمارے ملک کے بعض جامعات میںبعض اساتذہ بالخصوص شعبہ ہائے تاریخ، پولیٹکل سائنس ، بین الاقوامی تعلقات اور اسلامیات وغیرہ کے ذریعے یہ سُن گن بغیر کسی ثبوت ودلیل اورموجودہ عالمی سیاسی تناظر کو سمجھے بغیر ہمارے بعض طلبہ کو بھی یہ فکر منتقل کرائی گئی ہے۔اس موضوع پر اگر چہ بڑی بحثیں ہوئی ہیں اور راقم الحروف نے بھی ان ہی سطور میں کئی باراس حوالے سے اظہار خیال کیا ہے۔ میرا سوچا سمجھا خیال نہیں، یقین واثق ہے کہ قیام پاکستان مسلمانان عالم کے لئے ایک عظیم تحفہ خداوندی ہے۔ میری زبان وقلم پر یہ الفاظ آتے ہی نہیں(خاکم بدہن) کہ خدانخواستہ پاکستان نہ بنتا تو مسلما ن یوںہوتے یا ایسے ہوتے۔۔ بلکہ قیام پاکستان سے پاکستان اور بنگلہ دیش کے کروڑوں مسلمان برہمن کی بد ترین سیاسی ، معاشی اور خاص کر مذہبی استعمار اور غلبہ سے نجات پاسکے ہیں ، ورنہ آج بیس بائیس کروڑ بھارتی مسلمانوں کے بجائے اسی کروڑ مسلمان برہمنیت کے غلام ہوتے اور بھارت میں ایسی ہی زندگی گزار رہے ہوتے جس طرح کے ہندوستان میں نریندر مودی کی حکومت میں وہاں کے مسلمان گزار رہے ہیں۔ بھارت میں مسلمان کس حد تک سیاسی بے وزنی کا شکار ہو چکے ہیں اس کا اندازہ کانگریس کے مقتدر رہنماغلام نبی آزادجو2005ء سے 2008ء تک جموں کشمیر کے وزیراعلیٰ رہے اور جموں کشمیر ضلع ڈوڈہ کے کٹر کانگریسی لیڈرکے گھر پیدا ہوئے ۔ دہلی میں سینئرمرکزی وزیر بھی رہے ،پچھلے دنوں لکھنئو میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے فارغ التحصیل طلبہ سے خطاب میں اپنے دل کے پھپھولے کھولے اور جلائے بغیر نہ رہ سکے ۔ اُن کاکہنا تھا کہ 1973ء میں کانگریس میں شمولیت سے لیکر آج تک اُنہوں نے کانگریس کے ہر انتخابی مہم میں شرکت کی ہے اور کانگریس کی ہندورہنماان کو اپنے انتخابی حلقوں میں لے جانے اور دکھانے کے لئے بے تاب ہوتے تھے۔ جہاں جلسے جلوسوں میں ان کو مدعو کرنے کے لئے 95فیصد درخواستیں ہندورہنمائوں کی آتی تھیں، اب پچھلے چارسالوں میں سکڑ کر20فیصد رہ گئی ہیں۔پچھلے سال نریندرمودی کو اُس کے آبائی صوبے گجرات میں شکست دینے کے لئے جہاں ایڑی چوٹی کا زورلگایا وہاں اپنے کارکنوں کو باقاعدہ ہدایت دی گئی تھی کہ سٹیج پر کوئی مسلمان لیڈر نظر نہ آئے حتیٰ کہ گجرات سے کانگریس لیڈر اور سونیا گاندھی کے سیاسی مشیر احمد پٹیل کو بھی پس پردہ رہنا پڑا۔ انتخابی امیدواروںکو بتایا گیا کہ وہ مسلم محلوں اور علاقوں میں ووٹ مانگنے نہ جائیں اور جلسے جلوسوں میں لمبی داڑھی و ٹوپی والوں کو اگلی صفوں میں جگہ نہ دیںاور یہی حکمت عملی اب آئندہ کے پانچ صوبائی اسمبلیوں کے انتخاب کے لئے اپنائی جارہی ہے۔نریندرمودی کی آشیر واد کے ساتھ پہلے سے زیادہ طاقتور اور انتہا پسند ہندوتنظیم راشٹریہ سویم سیوک سنگھ(آر ایس ایس) کے سربراہ موہن بھاگوت نے اترپردیش کے شہر ایودھیا میں شہید بابری مسجد کی جگہ عالیشان رام مندر کی تعمیر کے لئے باقاعدہ قانون سازی کی تجویز پیش کر کے آئندہ بھارتی انتخابات کے لئے گرم موضوع بنانے کا عندیہ ظاہر کیا ہے ۔ اس ماہ کے آخر میں بھارتی سپریم کورٹ میں بابری مسجد مقدمہ کی سماعت شروع ہوگی تو کارروائی کے دوران دلائل اور پیش کردہ شواہد کی میڈیا کے ذریعے صبح وشام تشہیر کر کے ہندوں ووٹروں کے جذبات کو خوب گرم رکھا جائے گا۔ اس کے ساتھ ہی شیو سینا کے سربراہ او دھے ٹاکرے رام مندر کی تعمیر کے لئے تلوارہاتھ میں لئے انتہا پسندجن سنگھیوں کا خون گرمانے کے لئے ایودھیا پہنچ گئے ہیں ۔ مسلمان رہنمائوں نے بے چارے مسلمان عوام کو محتاط رہنے(اپنی جان ومال بچانے کی فکر کرنے) کی اپیل کی ہے۔

بی جے پی حکومت کو ہندوستان میں جہاں کہیں مسلمانوں کی کوئی تاریخی یاد گار نظر آرہی ہے اُسے یا تو مسمار کرنے کی منصوبہ بندیاں ہوتی ہیں یا اُن کے نام تبدیل کرنے کی مہم زوروں پر ہے ۔ الہ آباد جیسا شہر اب پریاگ راج کہلایا اور لکھا جائیگا۔حالات یہی رہے تو وہ دن دور نہیں جب تاج محل (جو اصل میں ممتاز محل ہے جو شاہ جہان کی ملکہ تھی) کا نام بھی رام محل یا کوئی ہندوانہ ترکیب کے ساتھ بدلا جائے گا۔ایسے میں جب میں اپنے بعض لوگوں کو وطن عزیز کے حوالے سے ناشکری کرتے ہوئے دیکھتا سنتا ہوں تو دل سے ایک ہوک سی اُٹھنے لگتی ہے اور پکار اُٹھتا ہوں کہ کاش میرے بس میں ہوتا تو میں ایسے لوگوں کو چند مہینوں سالوں کے لئے بھارت یاتراکرادیتا۔ اور اگر اُن کومزہ آتا تو وہاں رہنے دیتا ۔

متعلقہ خبریں