Daily Mashriq

اسرائیلی طیارے کی آمد؟

اسرائیلی طیارے کی آمد؟

میڈیا اور بی بی سی پر سامنے آنے والی اطلاعات کے مطابق ایک اسرائیلی طیارے کی مبینہ طور پر پاکستان آمد اور دس گھنٹے تک اسلام آباد ائیر پورٹ پر قیام کے بعد واپسی سے پہلے سوشل میڈیا پر اور بعد میں سیاسی حلقوں میں ہلچل دیکھنے میں آئی اور چہ میگوئیاں شروع ہوئیں۔ جن کی اگرچہ حکومتی حلقوں کی جانب سے تردید بھی ہوئی مگر شکوک و شبہات کے سائے گہرے ہوتے جا رہے ہیں۔ اس سلسلے میں سب سے پہلے ایک اسرائیلی صحافی نے دعویٰ کیا اور کہا کہ ائیر ٹریفک کے ریڈار پر طیارے کی پرواز کے ثبوت موجود ہیں۔ اس خبر کو بعد میں بی بی سی نے اپنی نشریات کا حصہ بنایا جس سے نہ صرف عالمی سطح پر حیرت کا اظہار کیاگیا بلکہ ادھر پاکستان میں ملکی سطح پر ہلچل مچ گئی اور اپوزیشن رہنمائوں نے حکومت کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے صورتحال کی وضاحت کی۔ صورتحال پر اگرچہ سول ایوی ایشن اتھارٹی نے بھی واضح لائن دیتے ہوئے کسی اسرائیلی طیارے کی اسلام آباد آمد کی تردید کی جبکہ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اسے ہوا میں یہ کہہ کر اڑا دیا کہ جس چیز کی حقیقت نہ ہو اس کا کیا جواب دینا۔ وہ ایک پریس کانفرنس میں ایک صحافی کے سوال کا جواب دے رہے تھے جبکہ جہلم میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات نے زیادہ سخت لہجہ اختیار کرتے ہوئے جس طرح اس واقعے کی تردید کی اس پر لیگ (ن) کے احسن اقبال نے کہا کہ ایک بات کی وضاحت مانگنے پر وزیر اطلاعات جس طرح کا رد عمل ظاہر کر رہے ہیں اس سے پتہ چلتا ہے کہ دال میں کچھ کالا ضرور ہے۔ پاکستان پیپلزپارٹی کی سینیٹر شیری رحمان اور جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے بھی حکومت کو اس صورتحال پر آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیلی طیارے کی آمد تشویشناک ہے۔امر واقعہ یہ ہے کہ اسرائیلی طیارے کی آمد اور دس گھنٹے تک اسلام آباد ائیر پورٹ پر قیام سے اندرون ملک سیاسی اور عوامی سطح پر تشویش پیدا ہونے کے پیچھے ماضی کے ایک واقعے کو بنیاد قرار دیا جاسکتا ہے۔ اگرچہ دنوں واقعات کی نوعیت بالکل ہی مختلف ہے یعنی جس طرح چند برس پہلے کابل کی جانب سے امریکی ہیلی کاپٹروں نے ایبٹ آباد آکر آپریشن کیا اور اسامہ بن لادن کو مارنے کے بعد اس کے جسد خاکی کو اٹھا کر لے جا یا گیا تب بھی یہ دعوے کئے گئے تھے کہ محولہ ہیلی کاپٹرز کی ریڈار نے کوئی نشاندہی نہیں کی تھی۔ اس سلسلے میں جسٹس( ر) جاوید اقبال کی سربراہی میں قائم ہونے والے تحقیقاتی کمیشن کی رپورٹ بھی آج تک جاری نہ کئے جانے کی وجہ سے قوم اصل حقائق سے بے خبر ہے جبکہ تازہ ترین واقعے میں ایک طیارے کی اسلام آباد آمد ‘ دس گھنٹے تک قیام اور اس میں سوار ایک اہم شخصیت کے یہاں مبینہ ملاقات کے بارے میں سوشل میڈیا پر طوفان برپا ہے جس کے حوالے سے سوال پوچھنے پر وفاقی وزیر اطلاعات کے انتہائی طیش میں دئیے جانے والے بیان کہ خفیہ مذاکرات مودی سے ہوں گے نہ ہی اسرائیل سے‘ اور پاکستان مضبوط ہاتھوں میں ہے کو اپوزیشن جماعتوں نے آڑے ہاتھوں لے کر اسے دال میں کچھ کالا سے تشبیہہ دی ہے۔ اس صورتحال پر اٹھنے والے سیاسی طوفان کو تھمنے میں شاید وقت لگے تاہم حکومتی حلقوں کی جانب سے تردید کے باوجود شکوک و شبہات کو کم اس لئے نہیں کیا جاسکے گا کہ ماضی میں تحریک انصاف کے چیئر مین اور موجودہ وزیر اعظم عمران خان نے اسرائیل پاکستان تعلقات پر جو بیان دیا تھا اور اس کے بعد لندن میں ان کی ایک مخصوص مذہبی جماعت کے سربراہ سے مبینہ ملاقات کی تصاویر بھی وائرل ہوئی تھیں جس کا ہیڈ کوارٹر اس وقت اسرائیل میں ہے اور پاکستان کے خلاف اس جماعت کی منفی کارستانیاں بھی کوئی پوشیدہ امر نہیں جبکہ تازہ ترین واقعے میں اس جماعت کے حوالے بھی سوشل میڈیا پر دئیے جا رہے ہیں اس لئے ایسی صورت میں اگر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے تو اس کا جواز تو بنتا ہے تاہم اس کے باوجود اگر حکومت کے اہم وزراء خصوصاً وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نہایت برد باری کے ساتھ اس واقعے کو خلاف حقیقت قرار دیتے ہوئے کہہ رہے ہیں کہ جس چیز کی حقیقت نہ ہو اس کا کیا جواب دینا تو ہماری دانست میں ان کی بات کا اعتبار کرلینا چاہئے کیونکہ شاہ صاحب موصوف ایک سینئر سیاستدان اور سیاسی مدبر کے طورپر جانے جاتے ہیں اور وہ جانتے ہیں کہ ان کی کسی واقعے کے بارے میں تردید کے کیا معنی ہیں۔ البتہ جس طرح وفاقی وزیر اطلاعات نے اس حوالے سے اٹھنے والے سوالات اور استفسارات پر اپنا رد عمل ظاہر کیا ہے اس سے مسئلے کو ٹھنڈا کرنے میں کوئی مدد نہیں مل سکتی اس لئے بہتر ہے کہ وہ بھی مدبرانہ انداز میں اس معاملے کو نمٹانے کی کوشش کریں۔ جتنا جلد یہ معاملہ صاف ہو کر واضح ہوگا عوام کے ذہنوں سے شکوک و شبہات دور ہوں گے اور حکومت پر اعتماد بڑھے گا جو حکومت کے لئے بہتر ہے۔

متعلقہ خبریں