Daily Mashriq

بھارتی آرمی چیف کی ایک اور بڑھک

بھارتی آرمی چیف کی ایک اور بڑھک

آرمی چیف جنرل بپن راوت نے کشمیر پر قبضے کے71 سال مکمل ہونے پر گیدڑ بھبکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان نے در اندازی جاری رکھی تو اس کے خلاف دیگر اقدامات اٹھائے جاسکتے ہیں ۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق مقبوضہ کشمیر پر قبضہ کے دوران ہلاک ہونے والے بھارتی فوجیوں کی یاد میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بھارتی آرمی چیف جنرل بپن راوت نے کہا کہ پاکستان کشمیر میں بنگلہ دیش جیسی صورتحال پیدا کر رہا ہے اور 71ء کی شکست کا بدلہ لینے کے لئے کشمیر میں پراکسی جنگ لڑ رہا ہے جس کا مقصد بھارتی فوج کو کشمیر میں الجھا کر رکھنا ہے لیکن بھارتی ریاست اور فوج اتنی مضبوط ہے کہ کشمیر پر کنٹرول برقرار رکھ سکتی ہے اور کوئی بھی ملک کشمیر کو طاقت یا کسی اور طریقے سے بھارت سے نہیں چھین سکتا۔ بھارتی آرمی چیف نے نہتے کشمیریوں کو دہشت گرد قرار دیتے ہوئے کہا کہ بھارتی افواج پر پتھرائو کرنے والے کشمیری بھی دہشت گرد ہیں اور ان سے سختی سے نمٹنا ہوگا۔ امر واقعہ یہ ہے کہ ہر سال عالمی سطح پر 27 اکتوبر کو دنیا بھر میں کشمیری بھارتی ناجائز قبضے کے خلاف جو اس نے مقبوضہ وادی میں اپنی افواج داخل کرکے کیا یوم سیاہ مناتے ہیں اور عالمی ضمیر کو جھنجھوڑتے ہیں کہ آج سے 71 سال پہلے اقوام متحدہ نے مظلوم کشمیریوں کے ساتھ کشمیر میں استصواب رائے کا وعدہ کرتے ہوئے کشمیر کے عوام کو اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کے لئے جو قرار دادیں منظور کی تھیں ان پر آج تک نہ تو بھارت آمادہ ہوسکا نہ ہی اقوام متحدہ نے اس سے محولہ قرار دادوں پر عملدرآمد کرانے میں کامیابی حاصل کی ہے تنگ آکر اب مظلوم کشمیریوں نے انتفادہ کی طرز پر آزادی کی جو تحریک شروع کی ہے اور نہتے کشمیری جس طرح خالی ہاتھ اپنی جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہیں اور بھارتی مسلح افواج کی گولیوں کاجواب صرف پتھر مار کر دے رہے ہیں اس سے بھی بھارت کے اندر خوف کی لہر کا اندازہ کیاجاسکتا ہے اور بھارتی افواج مقبوضہ وادی میں مسلسل ظلم ڈھانے کے باوجود آج تک کشمیریوں کے جذبہ حریت کو شکست دینے میں تو کامیاب نہیں ہوسکیں مگر جنرل بپن راوت اس پر بھی نہتے کشمیریوں کو جو صرف پتھروں سے بھارتی بندوقوں سے نکلنے والی گولیوں کامقابلہ کرنے کے باوجود قابو نہیں آتے دہشت گرد قرار دے کر دنیا کی نظروں میں اپنے مظالم کو جواز دینے کی ناکام کوشش کر رہے ہیں۔ تاہم بھارتی پیلٹ گنز کے دہانوں سے نکلنے والی بارود سے جان کی بازی ہارنے اور آنکھوں کی روشنیوں سے محروم ہونے والے کشمیری اب بھارت سے آزادی سے کم کسی سمجھوتے پر تیار نہیں ہوں گے۔

سیاسی محاذ آرائی کے خدشات

سابق وفاقی وزیر داخلہ اور لیگ(ن) سے تعلق توڑنے والے سیاسی رہنما چوہدری نثار علی خان نے چکری (راولپنڈی) میں ایک جلسے سے خطاب کرتے ہوئے ملک میں بڑھتی ہوئی سیاسی محاذ آرائی کو ملکی مسائل میں اضافے کا باعث قرار دے دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک سیاسی محاذ آرائی کی جانب بڑھ رہا ہے اگر اس کا تدارک نہ کیاگیا تو ملک میں عدم استحکام بڑھے گا جو موجودہ حالات میں پاکستان کے مسائل میں بہت اضافہ کرے گا۔ اس تناظر میں حکومت کو چاہئے کہ وہ احتساب اور انتقام میں تفریق کرے اور اپوزیشن کو چاہئے کہ وہ حکومت کو ٹائم دے۔ انہوں نے کہا کہ آج سیاست گالم گلوچ اور الزام تراشی کادوسرا نام بن گئی ہے۔ سچ اور جھوٹ میں تفریق ختم ہوگئی ہے۔ ہرطرف تصادم اور جنگ و جدل کاسماں ہے۔ ہمیں اس کیفیت سے نکلنا ہوگا۔ چوہدری نثار علی خان ایک سیزنڈ سیاسی رہنماء اور متعدد بار مختلف حکومتی عہدوں پر ملک کی خدمت کرتے ہوئے جن تجربات سے گزرے ہیں ان کی بناء پر موجودہ سیاسی حالات کا تجزیہ کرکے ان سے نمٹنے کے لئے جو حل انہوں نے تجویز کیاہے کوئی بھی غیر جانبدار مبصر اور تجزیہ کار اس سے متفق ہوئے بناء نہیں رہ سکتا۔ موجودہ صورتحال میں حکومتی وزراء یہاں تک کہ وزیر اعظم اپوزیشن رہنمائوں کے حوالے سے جس قسم کا لہجہ اختیار کئے ہوئے ہیں اور اپوزیشن کی جانب اشار ہ کرتے ہوئے انہیں گرفتار کرنے‘ جیلوں میں ڈالنے‘ کسی این آر او دینے سے انکار کے حوالے سے سخت و تند بیانات دے رہے ہیں جبکہ اپوزیشن کی جانب سے جوابی وار کرکے حکومت کو دبائو میں لانے اور اپوزیشن جماعتوں کو متحد کرکے مبینہ طور پر موجودہ حکومت کو گرانے کی حکمت عملی سے ملک میں سیاسی فضا پر شدید تنائو کی کیفیت چھا جانے کی نشاندہی ہوتی ہے۔ اس صورتحال نے حزب اقتدار اور حزب اختلاف کے مابین جس محاذ آرائی کی بنیاد رکھ دی ہے اس سے موجودہ صورتحال میں ملک و قوم کو کوئی فائدہ تو کیا پہنچے گا الٹا مسائل جنم لے رہے ہیں۔ اس لئے حکومت اقتصادی دبائو سے گلو خلاصی کے لئے ہاتھ پائوں مار رہی ہے اور دوست ممالک سے رابطے کرکے مالی معاونت حاصل کرکے آئی ایم ایف سے جان چھڑانے کی کوشش کر رہی ہے مگر ساتھ ہی ملکی سطح پر محاذ آرائی نے اس کے لئے مشکلات بڑھا رکھی ہیں جو ملک و قوم کے مفاد میں نہیں ہے اس لئے حکومت اور حزب اختلاف دونوں کو ملکی مفاد میں محاذ آرائی کی اس کیفیت کو ختم کرنے پر توجہ دینی چاہئے۔

متعلقہ خبریں