Daily Mashriq

درست سمت میں سفر

درست سمت میں سفر

کسی بھی علاقے کی مخصوص روایات اور کھانے ہوتے ہیں جو ان کی پہچان بن جاتے ہیں۔ جاپان کا مخصوص گوشت کو بے گوشت ہے جو ایک خاص نسل کے بیل کا گوشت ہے ۔اس کی خوراک بھی مخصوص ہوتی ہے ۔ ان بیلوں کی پرورش مخصوص حالات میں کی جاتی ہے۔ کچھ لوگوں اورتحقیق کرنے والوں کا دعویٰ یہ بھی ہے کہ ان بیلوں کو پیدائش کے بعد سے فضا میں معلق رکھاجاتا ہے ۔ وہیں انہیں کھانا بھی دیاجاتا ہے ۔ ٹانگوں اور جسم کی مالش بھی یوں ہی فضا میں لٹکے لٹکے کی جاتی ہے۔ اس سب کا مقصد ان کے گوشت کو چلت پھرت کی ورزش سے سخت نہ ہونے دینا ہے ۔ ان بیلوں کے گوشت کی خاصیت ان کا لذیذ ذائقہ ہے جو گوشت میں چربی کی موجودگی سے بنتا ہے ۔ اس چربی کا کمال یہ ہے کہ یہ اتنی مہین اور نرم ہوتی ہے کہ اس گوشت کو خاص حدت سے زیادہ پکایا نہیں جاسکتا ورنہ ساری چربی پگھل جاتی ہے ۔ اس گوشت کی قیمت بہت زیادہ ہے ۔ اب یہ بیل آسٹریلیا اور امریکہ میں بھی پالنے کی کوشش کی جارہی ہے ۔ اگر چہ اب انہیں ہوا میں معلق نہیں رکھا جاتا بلکہ ایک تنگ جگہ پر اندھیرے میں رکھاجاتا ہے ۔ تنگ جگہ پر ہونے کے باعث یہ بیل بہت زیادہ حرکت نہیں کرسکتے۔ روشنی صرف کھانے کے اوقات میں انہیں میسر ہوتی ہے ۔ جاپان میں ان بیلوں کو کم از کم تین سے ساڑھے تین سال تک یوں ہی رکھا جاتا ہے اور اس کے بعد ذبح کیاجاتا ہے۔ جانوروں کے حقوق کی کئی تنظیمیں اس گوشت کے خلاف احتجاج بھی کرجاتی ہیںکوبے میٹ کے بارے میں جب کبھی تذکرہ ہوا جانے کیوں سوچ یکدم پاکستان کی جانب متوجہ ہوگئی۔ جس طرح خاص نسل کے ان بیلوں کو ایسی اذیتناک کیفیت کا شکار رکھاجاتا ہے تاکہ ان کے گوشت کا مخصوص ذائقہ برقرار رکھاجاسکے۔ہمیں بھی امریکہ نے ایسے ہی مخصوص حالات میں قریباً محصورکر رکھا ۔ ہمیں معلوم نہیں تھا لیکن ہمیں پالا جاتا رہا ۔ ہماری صحت کا خیال رکھا جاتا تھاہمیں حالات کے دھارے پر چرنے چگنے کے لئے چھوڑا نہیں بلکہ ہمارے حالات کو ہمارے اردگرد ایک مضبوط حفاظتی جنگلے کی طرح انتباہ کر دیا جاتا تاکہ ہم اس میں محصور رہیں نہ اس کے علاوہ کچھ اور دیکھیں نہ سوچیں ۔ ہمارے لئے مخصوص اوقات میں روشنی کی جاتی ورنہ ہم اندھیرے میں ٹامک ٹوئیاں مارتے رہتے ۔ ہم سمجھتے کہ یہی زندگی ہے حالانکہ زندگی تو اس سے کہیں بڑھ کر ہے ہمیں ہماری مرضی سے حرکت نہیں کرنے دی جاتی لیکن ہم اس غلط فہمی کا شکار رہتے کہ شاید یہی درست اورایسا ہی ہوتا ۔امریکہ یوں ہی ہمیں باندھ کر اپنے لئے استعمال کر نا چاہتا تھا وہ ہمیں جب چارا ڈالتا ، عالمی بینک اورآئی ایم ایف کے ذریعے ہمیں خوراک دیتاتاکہ نظام انہضام درست رہے۔ کوئی زمین پر اترنے نہیں دیتا کہ اپنی مرضی سے چلنے پھرنے لگے توکہیںوہ گوشت برباد نہ ہوجائے۔ جس کے لئے ہماری ایسی خاطر مدارت بھی کرتا۔اور ہم یہ سمجھتے کہ شاید ہم امریکہ کے لئے بہت اہم ہیں ۔ ہم اس کے پسندیدہ ہیں اور یہ کیفیت محض ہماری بیماری ہی نہیںسچ پوچھئے تو بھارت کا حال بھی کوئی مختلف نہیں ۔ بھارت کو یاد رکھنا چاہئے کہ سابق امریکی صدر بل کلنٹن نے اسے ایک ارب انسانوں کی منڈی کہا تھا ۔ امریکہ آج بھی وہی ہے اور بھارت کی حیثیت بھی کچھ ایسی مختلف نہیں ۔ اٹھارہ کروڑ بیل اور ایک ارب بیل اس سے زیادہ کیا ہے۔ مگر شاید لگتا ہے کہ اب ہماری سوچ میں کچھ تبدیلی پیدا ہو رہی ہے اوپر کی سطح پر خصوصاً حکمرانوں میں یہ سوچ کافی مضبوط ہے اس لئے آہستہ آہستہ اب نیچے کی سطح پر بھی اس سوچ کے اثرات جائیں گے لیکن اس میں ذرا وقت لگے گا کیونکہ ایک تو اتنا عرصہ ہم اس بات کے عادی نہیں تھے کہ اپنے فیصلے خود کرسکیں۔ہمیشہ باہر سے احکامات صادر ہوتے اور ہم آنکھیں بند کرکے اسے بجا لاتے رہے۔دوسرا اب بھی وہ لوگ ہمارے درمیان موجود ہیں جو ہماری اس حالت کے ذمہ دار ہیں اور وہ اب بھی سوچ کی تبدیلی میں رکاوٹیں پیدا کر رہے ہیں۔ مختلف طریقوں سے کبھی افواہیں پھیلا کر کبھی مختلف اداروں میں اپنے ہی بنائے ہوئے مافیاز کے ذریعے حالات خراب کرکے۔ مگر اب لگتا ہے کہ حالات درست سمت کی طرف مڑ چکے ہیں۔ اب منزل کا تعین ہوگیا ہے۔ سوچتی ہوں کہ تو کتنی ہی کڑیاں آپس میں ملتی محسوس ہوتی ہیں اور نہ سوچیں تو ہم اپنی زندگیاں اپنی مرضی سے جی رہے ہیں اور بہت خوش ہیں ۔ بات وہی ہے اس فلسفی والی جس نے بتایا تھا کہ اگر ایک اینٹ کو چھت سے ٹھوکر مارکر زمین کی طرف پھینک دیاجائے اور یہ ممکن ہو کہ راستے میں کوئی اس اینٹ سے سوال کر سکے کہ وہ کیا کر رہی ہے اور کس کی مرضی سے کر رہی ہے تو وہ کہے گی کہ میں اپنی مرضی سے چھت سے زمین کی طرف سفر کر رہی ہوں۔

متعلقہ خبریں