Daily Mashriq


نقش فریادی ہے کس کی شوخی تحریر کا

نقش فریادی ہے کس کی شوخی تحریر کا

کہتے رہئے آپ ڈیرہ اسماعیل خان کو پھلاں دا سہرا یا پھولوں کا سہرا۔ لیکن ہم اس شہر بے مثال کو پھولوں کا سہرا کی بجائے ڈیرہ پھولوں کا صحرا کہیں گے۔ وہ جو کہتے ہیں گلاب کو جس نام سے پکارو اس کے حسن اور جوانی میں فرق نہیں آتا لیکن گلاب کو کسی اور نام سے پکارنے والے سے آپ اس کا نام بدلنے کی وجہ پوچھ نے کا اختیار رکھتے ہیں ۔ 

بیاں خواب کی طرح جو کر رہا ہے

یہ قصہ ہے جب کا ، کہ آتش جواں تھا

ان دنوں ہم نویں جماعت کے طالب علم تھے جب روزنامہ مشرق پشاور کے صحافیوں کے پینل میں شامل رہ کر ریٹائر ہونے والے بزرگ اور جانے مانے قلم کار ہمارے چچا علاء الدین عدیم محکمہ زراعت کے آفیسر کی حیثیت سے حکم حاکم کی تعمیل میں پشاور شہر سے ڈیرہ اسماعیل خان اٹھ آئے تھے۔ ان کو ڈیرہ اسماعیل خان کے مضافات میں محکمہ زراعت کے آفیسرز کے لئے بنی بنائی خوبصورت کوٹھی الاٹ کی گئی جس میں رہائش اختیار کرنے کے لئے ان کے گھر کے ساز و سامان سے لدھے ٹرک کے ساتھ راقم السطور کو ان کے بھتیجے کی حیثیت سے زندگی میں پہلی بار پشاور سے ڈیرہ اسماعیل خان جانے کا موقع ملا۔ پاکستان کے جنوب میں دریائے سندھ کے کنارے آباد صحرا کے پھولوں کی اس بستی کی اپنی تاریخ ، جغرافیہ ، ادب ، تہذیب اور ثقافت ہے جس پر بات کر نا چاہوں تو جانے کہاں سے کہاں پہنچ جاؤں اور اپنے ذمے واجب الاداقرض کی ادائیگی کا فرض ادا نہ کرسکوں جو اس وقت میری رائٹنگ ڈیسک پر ایک دیدہ زیب کتاب کی صورت موجود سدا سہاگن بھیرویں کے مدھر سروں میں

میرے بچپن کے دن

کتنے اچھے تھے دن

کا نغمہ الاپ رہی ہے۔’’ڈیرہ اسماعیل خان، شہر بے مثال‘‘ عنوان ہے اس کتاب کا جس کی وضاحت کتاب کے سرورق پر ’ نصف صدی قبل ڈیرہ شہر کی ثقافتی زندگی کی کہانی ‘ کا جملہ کررہا ہے ۔کم و بیش ایک سو پچاس صفحات پر مشتمل اس کتاب کے مصنف انجنئیر جاوید اقبال انجم کتاب پڑھنے والوں کی انگلی پکڑ کر ان کو آج سے نصف صدی پہلے کے ڈیرہ اسماعیل خان کی ان روایتی گلیوں میں لے جاتے ہیں جہاں وہ کھیل کود کر جوانی کی دہلیز پر پہنچے۔ پڑھ لکھ کر انجینئربنے اور پھر افسر بکار خاص مقرر ہونے کے بعد ایک ہاتھ میں قلم اور دوسرے میں کاسہ سر پکڑ کر بیتے زمانے کے ڈی آئی خان کو یاد کرنے لگے

کاش پھر وہ زمانے دکھا دے کوئی

میرا بچپن کسی مول لادے کوئی

اس کتاب کو خود نوشت سوانح حیات کی ذیل میں رکھا جاسکتا ہے، لیکن اقبال انجم اس کتاب میں بات صرف اپنے بارے میں نہیں کررہے اس شہر کا نصف صدی پرانا منظر نامہ پیش کر تے ہوئے اسداللہ خان غالب کی طرح

اب میں ہوں اور ماتمِ یک شہرِ آرزو

توڑا جو تو نے آئینہ، تمثال دار تھا

جیسے گلے شکوے کرتے نظر آتے ہیں انہیں تلاش ہے اس فردوس گم گشتہ کی جو نامعلوم وجوہ کی بناء پر کرفیو زدہ جہنم کا روپ اختیار کرگئی۔انجم اس کتاب کے ہر ہر صفحہ پر

نصف صدی کا قصہ ہے

دوچار برس کی بات نہیں

کہتے کہتے کاغذ کی کشتی اور بارش کے پانی کو تلاش کرتے دکھائی دیتے ہیں اور اس دوران ڈیرہ پھولوں کے صحرا کے ایک ایک پھول کا نام گنوا کر ان سے یوں ملاقات کرواتے ہیں جیسے کہہ رہے ہوں

محلے کی سب سے پرانی نشانی

وہ بڑھیا جسے بچے کہتے تھے نانی

وہ نانی کی باتوں میں پریوں کا ڈیرہ

وہ چہرے کی جھریوں میں صدیوں کا پھیرا

بے بے، کُڑی چاچی، سیدانی اماں، ماسی میراں، ماسی عاشقی، جیسے نصف صدی پہلے کے نسوانی ڈیرہ جاتی کرداروں کے علاوہ، انجم کے شہر بے مثال کی روایتی گلیوں اور بازاروں کی سیر کرتے وقت آپ کی ملاقات بگو چاچا، جمعہ قلفی والا، خلیفہ نائی جیسے بہت سے کرداروں سے ہوتی ہے جن کی ہر ادا میں ڈیرہ جاتی ثقافت کی جھلک نظر آتی ہے۔ ان کی زبان سے ادا ہونے والے ہر جملے میں ڈیرہ اسماعیل خان کی مٹی کی خوشبو کی مہک محسوس کرکے مجھے یوں لگنے لگا جیسے انجم ان سب مہکتے کرداروں سے راقم السطور کا تعارف کراتے ہوئے کہہ رہا ہو ’’شودا پشورو آیا اے‘‘ یہاں’’شودا‘‘ ا بڑے شریف النفس بندے کو کہتے ہیں لیکن پشاور میں ایسا ہر گز نہیں یہاں اگر آپ نے کسی کو ’’شودا‘‘کہہ دیا تو سمجھ لیجئے کہ آپ کی خیر نہیں۔ ڈی آئی خان والے شیر کو شین کہتے ہیں۔ اس بات کا علم ہمیں اس وقت ہوا جب ہم سرائیکی زبان کے حروف تہجی کا قاعدہ ترتیب دینے وہاں پہنچے تھے ۔ انجینئر اقبال انجم نے اپنی یہ خوبصورت کتاب شین کی ڈائری میں تبصرے کے لئے شاید اس لئے بھیجی ہے کہ وہ اسے ڈیرہ جاتی حروف تہجی کے قاعدے کا شین سمجھنے لگے ہیں ۔ لیکن ہم اپنے آپ کو شیر کہلوانا ہرگز پسند نہیں کرتے کیونکہ الیکشن 2018میں ہم نے ان کے حشر کو نشر ہوتا دیکھ لیا ہے ۔ کتاب کے آخری حصے میں ڈی آئی خان کی گلیوں اور بازاروں میں ایستادہ رنگین تصاویر چسپاں ہیں جبکہ کتاب کے بیک ٹائٹل پر انجنئیر اقبال انجم کی ڈیرہ جاتی پگڑی والی تصویر پکار پکار کر کہہ رہی ہے

نقش فریادی ہے کس کی شوخی تحریر کا

کاغذی ہے پیرہن ہر پیکر تصویر کا

متعلقہ خبریں