Daily Mashriq


چیف جسٹس نے آئی جی اسلام آباد کا وزیراعظم کے زبانی حکم پر تبادلہ روک دیا

چیف جسٹس نے آئی جی اسلام آباد کا وزیراعظم کے زبانی حکم پر تبادلہ روک دیا

ویب ڈیسک:سپریم کورٹ آف پاکستان نے آئی جی اسلام آباد جان محمد کے تبادلے کا نوٹیفکیشن معطل کرتے ہوئے سیکریٹری داخلہ اور سیکریٹری اسٹیبلشمنٹ کو کل طلب کرلیا۔ 

سپریم کورٹ میں آئی جی اسلام آباد کے تبادلے سے متعلق از خود نوٹس کی سماعت ہوئی۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے سیکریٹری اسٹیبلشمنٹ سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا وزیراعظم نے ٹیلیفون پر کہا تبادلہ کر دیں اور آپ نے کر دیا، آئی جی پولیس وزارت داخلہ کے ماتحت ہیں، وزیراعظم کا آئی جی کے تبادلے میں کوئی کردار نہیں ہونا چاہیئے۔

چیف جسٹس آف سپریم کورٹ میاں ثاقب نثار نے ریمارکس دیئے کہ سنا ہے کسی وزیر کے کہنے پر آئی جی کا تبادلہ کیا گیا، سیکرٹری داخلہ بتائیں کہ آئی جی اسلام آباد کو کیوں ہٹایا، سنا ہے کسی وفاقی وزیر کے بیٹے کا معاملہ ہے، قانون کی حکمرانی قائم رہے گی، اداروں کو کمزور نہیں ہونے دیں گے۔

یاد رہے گزشتہ روز وزارت داخلہ کے ترجمان کا کہنا تھا آئی جی پولیس اسلام آباد کو کسی دباؤ کی وجہ سے ہٹانے میں کوئی صداقت نہیں بلکہ اس حوالے سے فیصلہ تین ہفتے قبل کر لیا گیا تھا۔ ترجمان نے اپنے ایک بیان میں تردید کی کہ وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی اعظم سواتی کا فون اٹینڈ نہ کرنے پر تبدیل کیا گیا ہے وزیراعظم عمران خان کی مصروفیات اور دورہ سعودی عرب کی وجہ سے تبادلے کی سمری منظور ہونے میں تاخیر ہوئی۔

سپریم کورٹ نے آئی جی اسلام آباد کا تبادلہ روکتے ہوئے اسٹیبلشمنٹ کا نوٹیفکیشن معطل کردیا، جب کہ معاملے پر وفاقی حکومت سے بدھ تک جواب طلب کرلیا۔ عدالت نے قرار دیا کہ تبادلے کا حکم قانون کے مطابق نہیں جبکہ جائزہ لیا جائے گا تبادلہ بدنیتی پر مبنی تو نہیں۔

متعلقہ خبریں