شدت پسندی کا خاتمہ صرف پاکستان کی ذمہ داری نہیں

شدت پسندی کا خاتمہ صرف پاکستان کی ذمہ داری نہیں

وزیر خارجہ خواجہ محمد آصف کی جانب سے حقانی نیٹ ورک ، حافظ سعید او ردیگر دہشت گرد تنظیموں کے تحفظ کا الزام نہ لگانے اور ان کے حوالے سے عالمی تحفظات کو حل کرنے کی سعی کی دنیا کو مئو ثر انداز میں یقین دہانی کرا کے ایک بڑے مغالطے کو دور کرنے کی سعی کی ہے ۔ محولہ معاملات پر پاکستان کو عرصے سے عالمی تحفظات او ردبائو کا سامنا رہا ہے لیکن پاکستان کا جواب ہر بار انکار اور تردید کی صورت میں ہوتا تھا موجودہ حکومت نے وزیر خارجہ ، وزیر داخلہ یہاں تک کہ وزیر اعظم کی سطح پر اس کے اعتراف کے ساتھ اپنی مجبوریوں اور مشکلات کو بھی دنیا کے سامنے رکھ کر جو موقف اپنا یا ہے اس سے دنیا کے تحفظات میں نہ صرف کمی آنی چاہیئے بلکہ دنیا کو پاکستان سے اس مشکل صورتحال سے نکلنے میں تعاون کا مظاہر ہ بھی کرنا چاہیئے ۔ وزیر خارجہ نے بڑے مدلل انداز میں پوری صاف گوئی کا مظاہرہ کرتے ہوئے سوویت یونین کے خلاف جنگ کا حصہ بننے میںامریکہ کی مدد کرنے سے پیدا شدہ مشکلات اور خاص طور پر امریکی کردار اور طرز عمل کا جس طرح حوالہ دیا اس کے بعد امریکیوں کے پاس ڈومور کے مطالبے کا استدلال ہی باقی نہ رہا۔ یہ درست ہے کہ خواجہ آصف نے کوئی انکشاف نہیں کیا لیکن اس قسم کے جرأت اظہار کی ضرورت کو پہلے یا تو سمجھا نہیں گیا اور اگر سمجھا گیا تھا تو جرأت اظہار کی کمی تھی ۔ اس بارے دورائے نہیں کہ جن عناصر کے خلاف امریکہ کو آج کارروائی مطلوب ہے یہ کوئی اور نہیں بلکہ وہی لوگ ہیں جو امریکیوں ہی کے منظور نظر تھے ۔انہی کی تربیت اور وسائل سے پروان چڑھے اس کے مقصد کی تکمیل میں کوشاں رہے اصولی طور پر امریکہ کو ان عناصر سے واپسی سے قبل معاملت کی ضرورت تھی تاکہ مسائل اور پیچید گیا ں پیدا نہ ہوں ایسا نہ کرنے کی امریکی غلطی کا ایک جانب پاکستان خمیازہ بھگت رہا ہے تو دوسری جانب پاکستان کو خود امریکہ کی جانب سے مسائل و مشکلات کا سامنا ہے یوں پاکستان دوہرے دبائو کا شکار ہے۔ اس صورتحال سے یکا یک نکلنا ممکن نہیں گو کہ حکومت اور حزب اختلاف کی جماعتوں کو ان عناصرکے حامیوں کو سیاسی دھارے میں آنے پر اعتراضات ہیں اور کوئی سیا سی جماعت ان کو قبول کرنے کو تیار نہیں ۔ ہمارے تئیں سیاسی جماعتوں کے اس حوالے سے تحفظات سے اتفاق نہیں کیا جا سکتا کیونکہ پاکستان کے تمام شہریوں کو قانون اور آئین کے مطابق یہ حق حاصل ہے کہ وہ سیاست میں حصہ لے سکیں اور سیاسی جماعت بناسکیں ۔ سیاسی دھارے میں آنے سے قبل کس کا ماضی کیا تھا اگر قانون اور آئین اس ضمن میں مانع نہیں تو کسی کو یہ اختیار نہیں ہونا چاہیے کہ وہ ان کا راستہ روکیں۔ جمہوری جدوجہد اور جمہوری طریقہ کار پر چلنے کا اگر ان کا پوشیدہ مقصدہو بھی تب بھی ہمارا نظام ان کو قبول کرنے پر مجبور رہے۔ جمہوریت میں کسی نظریات اور اذیاں کو نہیں دیکھا جاتا اگر وہ عملی طور پر کسی لا قانونیت کا مرتکب نہیں تو پھر ان کو عوام میں جانے اور مروجہ نظام میں حمایت کے حصول سے روکا نہیں جا سکتا سیاسی دھارے میں بھی ان کو قبول نہ کرنے کااگر کسی کو اختیا رہے تو وہ صرف اور صرف پاکستان کے عوام میں اگر عوام میں ان کی حمایت پائی جاتی ہے اور قانون مانع نہیں تو پھر ان کو کنارے لگانے کی سعی انتہا پسند یت میں شمار ہوگی جو از خود ہمارے مسائل کا سب سے بڑا سبب ہے۔ بنا بریں بہتر یہی ہوگا کہ ان عناصر کو سیاسی دھارے میں آنے دیا جائے تاکہ ان کی سوچ بدلے اور وہ بھی سیاسی عمل کے ذریعے آگے آنے کا طریقہ کار اپنائیں ۔ جہاں تک حقانی نیٹ ورک کا تعلق ہے اس ضمن میں اگر وزیر خارجہ اس امر کی بھی وضاحت کرے کہ آپریشن ضرب عضب کے بعد نیٹ ورک کا وجود پاکستان سے مکمل طور پر مٹ چکا ہے اور افغانستان شفٹ ہو چکا ہے ۔امریکہ سمیت دنیا کو ان کے خلاف کارروائی مطلوب ہے تو وہ پاکستان پر دبائو بڑھانے کی بجائے افغانستان میں ان کے خلاف کارروائی کریں ۔ پاکستان اور افغان طالبان کے درمیان تعلقات کی نوعیت بھی اب تبدیل ہوچکی ہے اب پاکستانی علاقوں میں طالبان کے ٹھکانے موجود نہیں اور نہ ہی ان کو قبائلی نوجوانوں میں مقبولیت حاصل رہی ہے جو لوگ ماضی میں افغان جہاد میں حصہ لے چکے ہیں ان کی بڑی اکثریت اب ضعف کا شکار ہے اور شیخ فانی بن چکے ہیں درمیانی عمر کے لوگوں میں سنجید گی اور متانت آچکی ہے جس کے باعث وہ لوگ بھی اب شدت پسندی کی طرف مائل نہیں رہے جبکہ نوجوانوں کو پاک آرمی کے زیر انتظام فنی تربیت دے کر روز گار کی طرف متوجہ کرنے کی کامیاب سعی کی گئی ہے البتہ جولوگ سرحد پار افغانستان چلے گئے ہیں ان کی واپسی کیلئے باعزت طریقہ کار اختیار کرنے اور ان کوتحفظ وبحالی کی عملی یقین دہانی کی ضرورت ہے جس میں پاک فوج اور حکومت کے ساتھ ساتھ عالمی اداروں اور عالمی برادری کو بھی اپنا کردار ادا کرنا چاہیئے ۔ ہمارے تئیں اب پاکستان میں تطہیر کا عمل اس اندازسے شروع کرنے کی ضرورت ہے کہ اس سے بھٹکے ہوے عناصر خوف محسوس نہ کریں بلکہ وہ اس طرف راغب ہو کر ذہنی طور پر اس عمل کو قبول کریں اس طرح سے ہی باقی ماندہ عناصر اور اذہان و قلوب کی تبدیلی و تطہیر ممکن ہے اس عمل کیلئے وسائل ،وقت اور عالمی اعتماد کی ضرورت ہے جس کے بغیر شدت پسندی کا راستہ اختیار کرنے والے عناصر کی واپسی اور ان کو قومی دھارے میں لانا ممکن نہیں ۔ ہمارے تئیں ان عناصر کیلئے دنیا بھر میں کاروبار و روزگار اور تعلیم و تربیت کا عالمی سطح پر اہتمام کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ان عناصر کی سرگرمیوں کا رخ بدل جائے اور مزید افراد اس راستے کو اختیار کرنے سے گریز کریں ۔

متعلقہ خبریں