Daily Mashriq

مہنگائی ، مرے کو مارے شاہ مدار

مہنگائی ، مرے کو مارے شاہ مدار

ٹماٹرکا نرخ اس قدر بڑھ چکا ہے کہ اس کا تقابل ڈالر ریٹ اور ڈالر کی قیمت سے کیا جانے لگا ہے اسی صفحہ پر گل خان کا جہیز کی بجائے ایک بوری ٹماٹر کی فرمائش کا شائع شدہ کارٹون بھی حقیقت حال کی درست نشاندہی تھی ۔ سبزیوں کی قیمتوں کا یوں اچانک اضافہ سمجھ سے بالاتر ہے۔ ستم بالائے ستم یہ کہ انتظامیہ کو اس کی کوئی پرواہ نہیں اور نہ ہی حکومت اس کا نوٹس لیتی ہے۔ محرم الحرام کے دوران اور خصوصاً نویں اور عاشورہ کے روز منڈیوں کی بندش اور سپلائی میں تعطل آنے کے باعث آمدہ دنوں میں قیمتوں میں مزید خود ساختہ اضافہ متوقع ہے موقع کی تاک میں بیٹھے عناصر کو اگر لگام نہ دیا گیا تو عوام کی پہلے سے ہلکی ہوئی جیبیں مزید خالی کردی جا ئیں گی ستم بالائے ستم یہ کہ دودھ میں ملاوٹ ہو یا اوپر جاتے ہوئے نرخوں پر دودھ اور دہی کی فروخت' پھلوں اور سبزیوں کے من مانے نرخوں سے عوام کو لوٹنے کا سلسلہ یا پھر دیگر اشیائے صرف کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ۔ یہ سب کچھ ایک طرف شہر میں نانبائیوں نے جس طرح ایک بار پھر مقررہ وزن سے کم روٹی کی فروخت شروع کی ہے اس سے رہی سہی کسر بھی پوری ہو جاتی ہے ۔ انتظامیہ کی جانب سے دس روپے میں 170گرام روٹی فروخت کرنے کا حکم ہے جبکہ نانبائیوں کی اکثریت 120 گرام کی روٹی مبینہ طور پر فروخت کرکے عوام کو دونوں ہاتھوں سے لوٹ رہی ہیں۔ دیکھا یہ گیا ہے کہ محرم کے موقع پر اکثر تندور بند کردئیے جاتے ہیں اور بچے کھچے تندور مالکان ایسے مواقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے دو گنے وزن کی روٹی کے نام پر بھی عوام کو استحصال کا نشانہ بنا کر 20 روپے میں جو روٹی فروخت کرتے ہیں۔ مگر متعلقہ حکام نہ تو نانبائیوں کی اس غیر قانونی حرکتوں کا نوٹس لیتے ہیں نہ ہی سبزیوں،دودھ دہی کے نرخوں میں شہر بھر میں کھلے تضاد پر توجہ دیتے ہیں بلکہ دودھ کے حوالے سے تو یہ شکایتیں بھی عام ہیں کہ مضر صحت کیمیکل کی ملاوٹ سے دودھ کو گاڑھا کرکے فروخت کیاجا تا ہے جس سے مختلف قسم کی بیماریاں عام ہو رہی ہیں مگر جو لوگ ان کی جانچ پر مامور ہیں ان کی جانب سے عدم توجہی کی وجوہات سمجھ سے بالا تر ہیں۔ محکمہ صحت کے متعلقہ حکام کی معنی خیز خاموشی عوام کے لئے سو ہان روح بنتی جا رہی ہے۔ امید ہے کہ ان تمام معاملات پر حکومتی اہلکار فوری توجہ دے کر حالات کے سدھار کی کوشش کریں گے اور عوام کی صحت اور جیبوں سے کھیلنے والوں کا بھرپور محاسبہ کیا جائے گا۔
حکومت ،دینی و سماجی طبقات کیلئے قابل توجہ مسئلہ
خیبر پختونخوا میں پندرہ سال سے کم عمر لڑکے اور لڑکیوں بلکہ بچے اور بچیوں سے جبراً بھیک منگوانے ، ان سے مشقت لینے اور ان کو زیادتی کا شکار بنانے کی شرح میں اضافہ حکومت اور پورے معاشرے کیلئے لمحہ فکریہ اور سرجھکا نے کا باعث امر ہے ، رواں سال سے اب تک یعنی تقریباً نو ماہ کے عرصے میں صوبائی دارالحکومت سمیت صوبے کے تمام اضلاع سے 631کم عمر بچوں اور بچیوں کا سکول چھوڑ کر محولہ کاموں پر مجبور ہونے کا انکشاف افسوسناک امر ہے ۔ ہمارے تئیں ان اعداد و شمار سے اتفاق ضروری نہیں اس میں کمی کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کیونکہ یہ اعداد و شمار رپورٹ شدہ ہیں جو رپورٹ نہیں ہو سکے ان کی تعداد سینکڑوں ہونا عجب نہ ہوگا ۔ صوبے کے اگر پوش علاقوں میں سروے کیا جائے تو تقریباً ہر گھر میں نہ ہو تو ہر دوسرے گھر میں کمسن بچے اور بچیاں مشقت پر مجبور دکھائی دیں گی مائوں کے پلو پکڑے گھر گھر جا کر گھر کے کاموں میں والد ہ کا ہاتھ بٹانے والی بچیوں کو دیکھ کر تو آنکھیں نم ہو جاتی ہیں۔ خاص طور پر وہ منظر تو بہت دلدوز ہوتا ہے جب صاحب لوگوں کے بچے اچھے یونیفارم اور خوبصورت سکولز بیگز لئے شاندار گاڑیوں سے اترتے ہیں اور یہ خدمتگار بچے بچیاں ان کا راستہ سنبھالتے ان کے پیچھے پیچھے سر جھکا کر گھر کی ڈیوڑی پار کرتے ہیں ۔حکومت دعویٰ کرتی ہے اور معاشرہ دعویدار ہے مذہبی و سماجی تنظیموں کو اپنی کار کردگی پر ناز ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ معاشرے کے اس طاقتور اور با اثر عناصر کے سامنے سب ھیچ ہیں کمسن بچوں بچیوں سے متعلق مشقت کا قانون مذاق سے کم نہیں ۔ کیا حکومت ، معاشرہ اور سماجی و مذہبی تنظیمیں مل کر اس مسئلے کا کوئی حل نہیں نکال سکتے؟ اگر انہی ثروت مند عناصر کو پابند بنایا جائے کہ و ہ اپنے گھروں میں کام کرنے والے ان بچوں کو ہنر سکھانے اور تعلیم حاصل کرنے کا پچھلے پہر کوئی بندوبست کریں ،ان کو قریبی مسجد اور مدرسہ بھیج کر دینی تعلیم حاصل کرنے کی سہولت دیں تاکہ یہ ہمیشہ کیلئے معاشرے کا نظر انداز اور مظلوم طبقہ بن کر نہ رہ جائیں ۔

اداریہ