گاہے گاہے باز خواں ایں قصۂ پارینہ را…(2)

گاہے گاہے باز خواں ایں قصۂ پارینہ را…(2)

اس اندازے کو مدِ نظررکھتے ہوئے کہ 1970ء کے عام انتخابات کے دور کے سبھی نوجوانوں کی طرح میاں نواز شریف بھی عوامی لیگ کے چھ نکات سے واقف ہوں گے جن کی بنیاد پر عوامی لیگ محض گیارہ ووٹ کی برتری کے بل پر پاکستان کا آئین بنانا چاہتی تھی۔ ان چھ نکات میں جس صوبائی خود مختاری کامطالبہ کیا جا رہا تھااس میں صوبوں کو اپنی فوج رکھنے کی بھی اجازت تھی۔ خارجہ تجارت بھی صوبائی موضوع تھی۔ سٹیٹ بینک کے بھی حصے کیے جانے مقصود تھے۔ یہ چھ نکات آج بچوں کی کتابوں میں کہیں کہیں سیاق و سباق کے بغیر درج کیے ہوئے مل جاتے ہیں لیکن اہلِ سیاست کی بحث کا حصہ نہیں بنتے۔ عوامی لیگ کو صرف ایک صوبے میں عددی برتری حاصل تھی۔ تین سو کے ایوان میں اس کے ایک سو اکسٹھ ارکان تھے۔ مغربی پاکستان میں اس کا صرف ایک رکن منتخب ہوا تھا۔ اس گیارہ ووٹ کی برتری کے ساتھ عوامی لیگ چھ نکاتی ایجنڈے کوپاکستان کا آئین بنانے پر بضد تھی۔ انتخابات کے نتائج کی رو سے دوسری بڑی پارٹی پیپلز پارٹی تھی جس کے 81ارکان منتخب ہوئے تھے۔ قومی آئین ساز اسمبلی کے اجلاس سے پہلے پیپلز پارٹی کے ذوالفقار علی بھٹو شہید پارٹی کا ایک وفد لے کر عوامی لیگ کی قیادت سے اجلاس سے پہلے مذاکرات کے لیے ڈھاکا گئے۔ کہا جاتا ہے کہ انہوں نے پانچ نکات تک تسلیم کرنے کی حامی بھر لی لیکن مجیب الرحمان چھ نکات سے پیچھے ہٹنے کے لیے تیار نہ ہوئے۔ ڈاکٹرمبشرحسن حیات ہیں پارٹی کے موقف کے بارے میں ان سے معلومات لی جا سکتی ہیں۔ مصطفی کھر اس وفد میں شامل تھے' شاید احمد رضا قصوری بھی تھے ، ان سے گواہی لی جا سکتی ہے۔ کسی ملک کے آئین کو اس ملک کی تمام سیاسی اور جغرافیائی انتظامی اکائیوں کی امنگوں اور آرزوؤں کا آئینہ دار ہونا چاہیے۔ مغربی پاکستان کے چاروں صوبوں میں عوامی لیگ کے چھ نکات کی حمایت نہیں تھی۔ بڑی سیاسی پارٹیوں کے بھی اپنے اپنے منشور تھے وہ بھی عوامی لیگ کے چھ نکات کی حامی نہ تھیں۔ عوامی لیگ تین سو کے ایوان میں ایک صوبے میں گیارہ ارکان کی برتری کے ساتھ بضد تھی کہ اس کے چھ نکاتی انتخابی ایجنڈے کو پاکستان کا آئین بنا دیا جائے۔ جس کے تحت پاکستان نیم آزاد اکائیوں کا ملک بن جاتا۔ پاکستان کا قیام اس بنیاد پر عمل میں آیا تھا کہ برصغیر کے مسلمان ایک تہذیب' ایک ثقافت اور ایک مکمل اقداری نظام کے امین ہیں جو برصغیر کی اکثریتی آبادی ہندوؤں کے نظام اقدار اور تہذیب سے یکسر مختلف ہے۔ اس لیے برصغیر کے مسلمانوں کے لیے ایک الگ وطن ہونا ضروری ہے۔ اگر ایک جغرافیائی اکائی کے ووٹ کی سادہ اکثریت کے بل پر پاکستان پانچ نیم آزاد ملکوں کی ڈھیلی ڈھالی کنفیڈریشن بن جاتا تو یہ اساس متزلزل ہو جاتی کہ پاکستان کی وحدت کی بنیاد دین اسلام ' اس کااقداری نظام اور اس کی تہذیب ہے۔ آج جب میاں نوازشریف اور ان کی ہمنوائی میں بعض دیگر عناصر یہ کہتے ہیں کہ عوام کا حق حکمرانی تسلیم نہ کرنے سے پاکستان دو لخت ہوا یعنی سقوط مشرقی پاکستان عوامی لیگ کی مشرقی پاکستان میں انتخابی برتری کو سارے پاکستان کے پانچوں صوبوں کے لیے آئین سازی کے حق کے طور پر تسلیم نہ کیے جانے کے باعث واقع ہوا تو وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ اگر اس وقت عوامی لیگ کے چھ نکاتی ایجنڈے کو سارے پاکستان کے لیے آئین بنا دیا جاتا تو پاکستان کی اکائیاں بے تعلق اور بے ربط ہوجاتیں اور قیام پاکستان کی اساس ہی غیرمتعلق ہوجاتی۔کیا میاں صاحب عوامی لیگ کے اس ''جمہوری حق'' کی وکالت کر رہے ہیں جو اصل میں اکثریتی استبدادکو جائز قرار دینے کی کارروائی تھی۔ میاں صاحب اور ان کے ہمنواؤں سے زیادہ سمجھدار اس وقت کے سیاسی رہنما تھے۔ ایک اور سوال ان سے یہ کیا جا سکتا ہے کہ چلئے پیپلز پارٹی نے تو بڑی غلطی کی جو چھ نکات کے تحت بننے والے آئین کی مزاحمت کی تو کیا آج ان کی مسلم لیگ عوامی لیگ کے چھ نکاتی ایجنڈے کے مطابق پاکستان میں نیا آئین بنانے پر تیار ہے؟ میاں صاحب کہتے ہیں کہ انہیں بیس کروڑ عوام کا مینڈیٹ حاصل ہے تو اس مبالغہ کا عنصر بہت زیادہ ہے۔ 2013ء کے انتخابات میں کل ووٹروں کے تقریباً55فیصدووٹروں نے حق رائے دہی استعمال کیا ۔ اس میں سے میاں صاحب کی پارٹی کو 32اعشاریہ 77فیصد ووٹ حاصل ہوئے۔انہیں کل ایک کروڑ اڑتالیس لاکھ چوہتر ہزار ایک سو چار ووٹ پڑے تھے۔ یہ تعداد بیس کروڑ نہیں ہے۔ لیکن ان کی پارٹی اکثریتی پارٹی کے طور پر منتخب ہوئی۔ ان کا استدلال ہے کہ یہ ''عوامی عدالت'' کا فیصلہ ہے لہٰذا سب کو اس کے سامنے سر جھکا دینا چاہیے، قانون کی عدالت پر بھی یہ فیصلہ حاوی ہونا چاہیے۔ جمہوریت میں اکثریتی ووٹ اس بنا پر دیا جاتا ہے کہ ووٹ حاصل کرنے والی پارٹی ملک میں آئین اور قانون کی بالادستی قائم کرے گی (اسی لیے میاں صاحب نے پاناما کیس کے حوالے سے خود کو اور اپنے اہل خانہ کو قانون کے سامنے احتساب کے لیے پیش کیا) عدالتیں آئین اور قانون کے مطابق فیصلے کرنے کی پابند ہیں ، اس راہ میں ان کے سامنے اکثریتی یا اقلیتی حمایت کی کوئی حیثیت نہیں۔ اکثریتی ووٹ کچھ فرائض عائد کرتا ہے۔ حکمرانی یا استبداد کا حق نہیں دیتا۔ اکثریتی استبدادکا سدباب کرنے کے لیے ہی پاکستان کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ کیا بھارت کی ''جمہوری'' اکثریت مسلمانوں کے ساتھ جو سلوک کر رہی ہے اسے اس کے مینڈیٹ کا حصہ شمار کر کے جائز قرار دے دیا جائے۔ اکثریتی مینڈیٹ کے بل پر اقلیتوں پر مظالم اکثریتی استبدادہے ، جمہوری اکثریت نہیں ہے۔ میانمار میں اکثریتی استبداد جس طرح روہنگیا مسلمانوں کی نسل کشی کے درپے ہے کیا اسے میانمار حکومت کا ''جمہوری'' حق قرار دیا جائے۔ انتخابات میں اکثریتی ووٹ آئین اور قانون کے تحت کچھ فرائض عائد کرتا ہے ۔ فرائض کی ادائیگی کے اس حق کو اکثریتی استبداد کی مطلق العنانی قرار نہیں دیا جا سکتا۔

اداریہ