Daily Mashriq


آئو کہ آج اپنے گریباں میں جھانک لیں

آئو کہ آج اپنے گریباں میں جھانک لیں

اتوار 24ستمبر کے اخبارات میں اے این پی کے ایک انتہائی اہم رہنما اور ہمارے لئے محتر م میاں افتخار حسین کا ایک بیان سامنے آیا ہے جس میں موصوف نے کہا ہے کہ ملک کو مارشل لاء کی جانب دھکیلا جا رہا ہے ، اس نوع کے بیانات اکثر و بیشتر دوسرے سیاسی رہنماء اور زعماء بھی جاری کرتے رہتے ہیں اور عوام کو انجانے سے خوف میں مبتلا کرتے رہتے ہیں ، حالانکہ حقیقت تو یہ ہے کہ عوام سے زیادہ خود سیاسی رہنما ئوں کو یہ فکر لاحق ہے کہ کہیں ملک میں ایک بار پھر مارشل لا ء نہ لگ جائے اور جہاں تک عوام بے چاروں کا تعلق ہے تو ملک میں جب کبھی مارشل لاء کی حکومت رہی یا نام نہاد جمہوری ادوار آکر براجمان ہوجا تے ہیں انہیں اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا اور وہ اپنے حالات کی تباہی اور بربادی دیکھ کر یہی کہنے پر مجبور ہوجاتے ہیں کہ اپنی بلا سے بوم بسے یا ہمارہے ، البتہ جہاں تک مارشل لاء کی مخالفت اور جمہوریت کے حق میں بیانات دینے کا سوال ہے تو یہ سارے چونچلے سیاسی جماعتوں اور ان کے ساتھ وابستہ لیڈر ان کرام کے ہی ہیں ، اگر چہ ماضی کے حالات پر نظر ڈالی جائے تو کئی سیاسی رہنمائوں کو خواہ مارشل لاء ادوار ہوں یا پھر سول حکومتوں کی حکمرانی ہر دور سوٹ کرتا ہے ، اور یہ جو شیخ رشید آف راولپنڈی لال حویلی دعوے کرتا رہتا ہے کہ کونسا سیاسی لیڈر ہے جس کی پر داخت فوجی حکومتوں کے گملوں میں نہ ہوئی ہو ، تو یہ دعویٰ سو فیصد نہیں تو کم از کم اسی نوے فیصد درست ضرور ہے ،مارشل لاء سے خوف رکھنے والے سیاسی رہنمائوں نے کبھی اپنی سیاسی جماعتوں کا سنجیدگی سے جائز ہ نہیں لیا ، حالانکہ ملک کے اکثر سیاسی تجزیہ کار اور سینئر کالم نگار اس مسئلے پر اظہار خیال کرتے رہتے ہیں ۔ خود ہم نے بھی اپنے کئی کالموں میں مختلف اوقات میں اس موضوع کو زیر بحث لانے کی کوشش کی ہے کہ ملک میں (شاید ایک آدھ کو چھوڑ کر ) اکثر سیاسی جماعتوں پر خاص خاندانوں یا لابیوں کا قبضہ ہے اس لئے اگر ہم یہ کہیں کہ تقریباً تمام سیاسی پارٹیوں کے اندر چھوٹی سطح کے مارشل لائوں کی حکمرانی ہے تو شاید اس کی تردید کیلئے ان جماعتوں پرقابض رہنمائوں کے پاس نہ تو کوئی اخلاقی اور نہ ہی منطقی دلائل موجودہوں جن سے وہ ان الزامات کی نفی کر سکیں ۔ یہی وجہ ہے کہ سیاسی جماعتوں کی جانب سے جمہوریت کی بے حرمتی کی جارہی ہے ، پارٹیوں کے اندر خاندانی اور سیاسی موروثیت پر عمومی طور پر سوال اٹھائے جاتے ہیں لیکن متعلقہ لیڈروں کے اندر ''کوئی حیا کوئی شرم '' نام کی چیز موجود ہی نہیں ہے جس سے کام لیکر وہ ان اعتراضات کو غلط ثابت کر سکیں ۔ ویسے تو مفکر پاکستان علامہ اقبال نے جمہوریت کے حوالے سے بھی کئی جگہ سوال اٹھا رکھے ہیں ، ایک جگہ فرماتے ہیں 

دیو استبداد جمہوری قبا میں پائے کوب

تو سمجھتا ہے یہ آزادی کی ہے نیلم پری

ایک اور جگہ اقبال نے تو جمہوریت کو سخت تنقید کا نشانہ بنا کر جو بات کہی ہے شاید ہمارے سیاسی رہنمائوں نے اسی کو پلے باندھ کر اپنی جماعتوں کے اندر جمہوریت کے داخلے پر پابندی عاید کر رکھی ہے او ریہ جو علامہ اقبال نے فرمایا ہے کہ

گریزاز طرز جمہوری غلام پختہ کار ِشو

کہ از مغز دو صد خر فکر انسانی نمی آئی

یوں سیاسی جماعتوں کے اندر جمہوریت کی بیخ کنی کی بنیاد رکھ کر سیاسی خانوادوں نے ان جماعتوں کو ذاتی جاگیر بنا کر رکھ دیا ہے ، مگر پھر حیرت اس بات پر ہوتی ہے کہ جب یہ لوگ جماعتوں کے اندر '' سول مارشل لا ایڈ منسٹر یٹر '' بن کر جماعتوں کے معاملات چلاتے ہیں تو ملک کے اندر مارشل لاء کے حوالے سے عوام کو خوف میں کیوں مبتلا کرتے ہیں ( اس سے خدانخواستہ یہ مطلب نہ نکال لیجئے گا کہ ہم مارشل لاء کے حامی ہیں )ہم جمہوریت کے دلدادہ ہیں لیکن سیاسی جماعتوں پر جس قسم کے مارشل لائوںکا راج ہے اس کے بھی سخت خلاف ہیں ۔ یہی کارن ہے کہ دنیا کے اکثر ممالک کی طرح ہمارے ہاں ہر سیاسی جماعت کے ''حکمران لیڈر '' کی یہی خواہش رہتی ہے کہ وہ ہر بار عام انتخابات میں بار د گربلکہ مسلسل اور بار بار کامیاب ہوکر وزیر اعظم کی حیثیت سے ملک و قوم پر مسلط رہے اور یہی وہ خواہش ہے جس کی وجہ سے سیاسی جماعتوں کے اندر چھوٹے مارشل لائو ں کا تسلط رہتا ہے ، حالانکہ حقیقی جمہوری اقدار پر یقین رکھنے والے ممالک میں دیکھیں تو خواہ وہاں صدارتی نظام رائج ہے یا پارلیمانی طرز حکومت قائم ہے ، وہاں کوئی بھی مقتدر ( صدر یا وزیر اعظم ) مسلسل دوبار سے زیادہ انتخابی عمل میں حصہ نہیں لے سکتا ،دوسری اہم بات یہ ہے کہ منتخب حکومتوں کی مدت چار سال سے زیادہ نہیں ہے ، اس سلسلے میں امریکہ ، برطانیہ ، جرمنی ، اور دیگر کئی ممالک کی مثال دی جا سکتی ہے ، ہمارے ہاں پانچ سال کی مدت نے جو مسائل کھڑے کئے ہیں ان کا بھی تقاضا ہے کہ حکومت کی مدت پر نظر ثانی کی جائے ، اس سلسلے میں قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ نے حال ہی میں ایسی تجویز پیش کی ہے جس پر غور ہونا چاہیئے جبکہ وزیر اعظم اور صدر مملکت کے عہدوں کے حوالے سے بھی یہی سوچ سامنے آنی چاہیئے کہ ان کیلئے دو ٹرم کی لازمی شرط عاید کردی جائے اور صدر مملکت کا عہدہ روٹیشن کے ذریعے تمام صوبوں کا حق گردانا جائے ، تاکہ سیاسی فضا میں جو تکدر ہے اس کا خاتمہ ہو سکے ۔ اور پھر ملک میں کسی جانب سے مارشل لاء سے کسی کو ڈرانے کی ضرورت ہی نہ رہے ۔ بقول عبدالرحمن کاشف

اوروں کا احتساب تو کرتے ہیں روز روز

آئو کہ آج اپنے گریباں میں جھانک لیں

متعلقہ خبریں