Daily Mashriq


سیا سی بلو غت کی کمی

سیا سی بلو غت کی کمی

کیا تحریک انصا ف قائد حز ب اختلا ف بدل پا ئے گی ، لیکن اس سے پہلے یہ سوال پید ا ہو ا ہے کہ فرینڈلی اپوزیشن کا ساڑھے چار سال بھگتانے کے بعد اب آٹھ دس ما ہ کا عام انتخابات میں وقفہ رہ جانے پر شب دیجو ر میں اندھے کی طرح دور کی عمر ان خان کو قائد حزب اختلا ف تبدیل کر نے کی کیا سوجھی جن مقاصد کے لیے مہم جو ہیں ان میں ان کا خوا ب پو را ہو تا نظر نہیں آتا۔ اصل معاملہ یہ ہے کہ عام انتخابات کے اعلان کے ساتھ ہی عبوری حکومت کا مر حلہ طے کیا جا نا ہے ، یہ مر حلہ یعنی عبوری دور کے وزیر اعظم کی نا مزدگی قائد حزب اختلا ف اور قائد اختلا ف کی باہمی مشورے سے ہو گی چنا نچہ فیصلہ مسلم لیگ ن اور پی پی کے ہا تھ میں اور عمر ان خان یہ فیصلہ اپنے ہا تھ میں لینے کے آرزو مند ہیں اور اس کے لیے انہو ںنے لا بی شروع کی ہے ، اس بارے میں جو ڑ تو ڑ کی حالت یہ ہے کہ قومی اسمبلی میں حزب اختلا ف کی تعدا د 122ارکا ن پر مشتمل ہے جس میں پی پی کے سنتالیس ، اے این پی اور قومی وطن پارٹی کا ایک ایک رکن جما عت اسلامی کے چار رکن جو قائد حزب اختلا ف کی تبدیلی کے حامی نہیں ہیں ، مسلم لیگ ق کے سربراہ نے تو کھر ا سا جو اب دیدیا ہے اور کہا ہے کہ امیدوار باہمی مشورے سے نا مزد کیا جا تا تو بہتر ہو تا مگر امید وار نا مزد کرنے کے بعدآؤ ووٹ دے دو نامنا سب ہے ۔ ان اعدا د وشمار کی روشنی میں پی پی کے ووٹو ں کی تعدا د 56ہو جا تی ہے ، پی ٹی آئی کے 32ارکان ہیں ۔عائشہ گلالئی ، مسرت زیب ، ناصر خٹک اور سراج محمد خان کو پارٹی سے اختلاف ہے جبکہ گلزار خان انتقال کر گئے ہیں گویا عمران خان کے پاس کل ستائیس ارکان بچتے ہیں ایک آزاد رکن کے پی ٹی آئی کی طرف مر اجعت فرما نے سے اٹھائیس ہو جا تی ہے شیخ رشید ، جمشید دستی اور زین الہیٰ کے ووٹ ملا کر بتیس ووٹ بن جا تے ہیں جبکہ ایم کیو ایم کے چوبیس ارکا ن میں سے دو ارکان کی غیر موجو دگی کی وجہ سے تعداد بائیس ہے اس طرح مل ملا کر عمر ان خان کے پاس خورشید شاہ کے 56کے مقابلے میں 55ووٹ ہیں ، تاہم طاقت کا توازن ابھی بگڑ ا نہیں ہے کیو ں کہ فاٹا کے چھ ارکا ن کے ہا تھ فیصلہ کن طاقت آگئی ہے ، کیا عمر ان خان فاٹا کے ووٹ حاصل کرنے میں کا میاب ہو جائیں گے مگر یہ ممکن اس لیے بھی نہیں ہے کہ قائد حزب اختلا ف قومی اسمبلی کا اسپیکر اس کو قرار دیتا ہے جو ایو ان میں سنگل سب سے بڑی اپو ز یشن جما عت ہو چنا نچہ ایا ز صادق اس اختیا ر کو استعمال کر یں گے خور شید شاہ کی تقرری بھی اسی بنیا د پر ہوئی تھی ۔ عبوری حکومت کے علا وہ ایک گورکھ دھند ا اور بھی ہے وہ یہ کہ نیب کے چیئر مین کی تقرری ہونا ہے جس کے لیے نا مزدگی حزب اختلا ف اور حزب اقتدا کی مشاورت سے ہو نا ہے چنا نچہ اس کو بھی عمر ان خان حاصل کر نا چاہتے ہیں ۔آئینی طو ر پر نیب کے چیئر مین کی تقرری صدرمملکت کے حکم سے ہوتی ہے اور وہ اس امر کے پا بند نہیں ہیں کہ مشورہ قبول کر یں چنا نچہ وہ مشاورت کو نظر انداز کر کے براہ راست تقرری کا پر وانہ جا ری کر سکتے ہیں اور ظاہر ہے کہ درپر دہ مسلم لیگ ن کی اس امر کی حما یت حاصل ہو گی ان تما م حالات میں تحریک انصاف کی کا میابی کہیں نظر نہیں آتی ، تاہم ان کاوشو ں سے تحریک انصاف سیا ست کو اب بھی جھٹکا لگا ہے اور آئندہ انتخابات تک مزید امکا ن ہیں۔ عمران خان کہتے ہیں کہ ایم کیو ایم اور تحریک انصاف کا اتحاد فطری ہے۔ یہ بات کسی حد تک ما نی جا سکتی ہے کہ ایم کیو ایم متوسط طبقہ کی جما عت ہے ، اور تحریک انصاف بھی گلی وکو چو ں میں وجو د رکھتی ہے۔ یہ مماثلت تو ہے مگر اس کو تطابق قر ار نہیں دیا جا سکتا کیو ںکہ تحریک انصاف جہا نگیر ترین ، اسد عمر ، اور شاہ محمود قریشی جیسے سرمایہ دارو ں اور وڈیر و ں کی بیساکھیو ں پر کھڑی نظر آرہی ہے ۔ علا وہ ازیںا پو زیشن لیڈر کی تبدیلی کی کاوشو ں کے نتیجے میں پی ٹی آئی کو پہلا ضعف یہ پہنچا کہ ایم کیو ایم کی قربت نے عمر ان خان کی سیا ست کو ایک بڑا دھچکا دیا کیو ں کہ مفاد ات کی جنگ میں وہ یہ تحریک انصاف کی شہید خاتون زہر ہ کے خون کو بھول گئے ، وہ یہ بھی بھلا بیٹھے کہ خود بھاری بھاری فائلیں لے کر لند ن گئے تھے تاکہ ایم کیو ایم پر لند ن میں مقدمہ چلے اور اس پر پا بندی لگ جا ئے ۔ دوسرے یہ کہ اس مہم میںانہو ں نے اپو زیشن کو قومی اسمبلی میں تقسیم کر ڈالا جس کا فائد ہ حکمران جماعت اٹھا رہی ہے۔ تیسرے یہ کہ خود تحریک انصاف میں دراڑیں نما یا ں تر ہو گئی ہیں ، پی ٹی آئی دو واضح دھڑوں میں تقسیم ہوگئی ہے ۔ عمر ان خان نو از شریف کو کیو ں نکالا مہم جو چلائیںگے اس کا مقصد وقت سے پہلے انتخابات کرانے کی مہم ہے ، اس کیوجہ یہ ہے کہ وقت سے پہلے انتخابات کو عوام نے قبول نہیں کیا چنانچہ براہ راست اس مہم کو آگے بڑھانے کی بجا ئے آگاہی مہم کے نا م سے بڑھاناچاہتے ہیں کیو ں کہ اکتو بر میں سینٹ کے انتخابات ہونے جا رہے ہیں اور ظاہری پو زیشن میں ان انتخابات کے نتیجہ میں مسلم لیگ کو بھاری اکثریت حاصل ہو جا ئے گی ۔بعض قوتیںجن کا عمر ان خان کا ساتھ رہا ہے وہ نہیں چاہتی کہ مسلم لیگ ن کو سینٹ میں اکثریت حاصل ہوعلا وہ ازیںعمران خان خود بھی اس اکثریت کے اپنے لیے خطرہ سمجھتے ہیں کیو ں کہ ا ن کو گمان ہے کہ آئند ہ حکومت کے لیے وہ ہاتھ مار جائیںگے مگر سینٹ میں ان کے لیے مسلم لیگ کی بھاری اکثریت درد سر بنی رہے گی جس طر ح انہو ں نے گزشتہ انتخابات کے فوری بعد سے نو از شریف کو حکومت کر نے میںدشواریا ں پید ا کیں اسی طرح کاحشر مسلم لیگ کی جانب سے بپاکیا جا سکتا ہے ۔

متعلقہ خبریں