طلبہ اور جسمانی سزائیں

طلبہ اور جسمانی سزائیں

کل صبح و سویرے گلی میں ایک بچہ بڑی شدت سے رو رہا تھا اور ساتھ ہی اس کے بڑے بھائی کی ڈانٹ ڈپٹ بھی سنائی دے رہی تھی ہم نے کہا خدا خیر کرے صبح صبح ایسی کیا بات ہوگئی ہے جو معصوم کو سزا دی جارہی ہے باہر نکل کر دیکھا تو سات آٹھ سال کا ایک ننھا منا طالب علم سکول جانے سے انکاری ہے اور اس کا بڑ ا بھائی اسے سکول کی طرف کھینچ رہا ہے بچہ ایسے رو رہا تھا جیسے اسے آگ میں پھینکنے کے لیے لے جایا جارہا ہو ہم نے آگے بڑھ کر بچے کو پیار کیا اور کہا بیٹا آج تعلیم حاصل کرو گے تو کل بڑے آدمی بنو گے لیکن وہ بچہ مسلسل روتا رہااس کا بھائی کہنے لگا کہ ان کے چھوٹے بھائی کو اساتذہ نے دو تین مرتبہ جسمانی سزائیںدیں مارا پیٹا جس کی وجہ سے وہ اب سکول نہیں جاتا ہم اسے علم کی اہمیت کا احساس دلاتے ہیں ڈراتے دھمکاتے بھی ہیں لیکن اس پر کوئی اثر نہیں ہوتا زیادہ سزا اس لیے نہیں دیتے کہ آج اس نے سکول چھوڑ دیا ہے کل گھر سے بھی نہ بھاگ جائے اور یہ سارا کیا دھرا حضرت استاد کی چھڑی کا ہے۔ بچے کی حالت ہم سے نہیں دیکھی گئی ہم سوچ رہے تھے کہ یہ معصوم بچہ زمانے کی سختیوں سے ناآشنا جسے گھر میں ماں باپ بہن بھائی بہت پیار کرتے ہیں وہ جب گھر کی دہلیز کو پھاند کر سکول کی چاردیواری میں داخل ہوتا ہے تو اسے اساتذہ بھی باپ کی مانند لگتے ہیں اگر اساتذہ اسے پیار دیتے ہیں محبت سے پڑھاتے ہیں تو سکول کا پہلا تاثر ہی بچے کے ذہن پر بڑا اچھا پڑتا ہے اور وہ ساری زندگی علم سے محبت کرتا ہے اور اپنے اساتذہ کا پیار اوران کی شفقتوں کو زندگی بھر نہیں بھولتا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ موقع محل دیکھ کر استاد کا ڈانٹنا ڈرانا دھمکانا بچے کے حق میں بڑا مفید ثابت ہوتا ہے لیکن حد سے زیادہ مارپیٹ بچے کے حق میں زہر قاتل ہے وطن عزیز کے حالات اور لوگوں کی اقتصادی پریشانیوں نے انہیں مزید چڑ چڑا بنا کر رکھ دیا ہے۔ بچے نے زرا سی شرارت کی اور پریشان حال استاد نے اسے ادھیڑ کر رکھ دیا کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ حکمرانی اور چھڑی کا چولی دامن کا ساتھ ہے ہمارے سیانے کہتے ہیں کہ مغربی سکولوں کے تربیت یافتہ بچے بڑے ذہین اور خود اعتماد ہوتے ہیں جنہیں ہمارے بہت سے ارباب عقل و دانش بدتمیز بچوں کی فہرست میں شامل کرتے ہیں اپنی اپنی عینک کی بات ہے یہی بدتمیز بچے بڑے ہو کر دنیا میں نام کما رہے ہیںسائنسدان ، دانشوراور سیاستدان بن کر دنیا پر چھا چکے ہیں اب دانشوروں کے وہ مضامین جو بچوں کی نفسیات کے حوالے سے لکھے جاتے ہیں جب پڑھنے کا اتفا ق ہوتا ہے تو دل و دماغ روشن ہوجاتے ہیں وہ نرسری کلاس کے بچے سے ایک بالغ النظر انسان کی طرح برتائو کرنے اور انہیں پیار بھری شفقت سے سمجھانے کی بات کرتے ہیں ہر سال لاکھوں کروڑوں روپے ان سیمینارز پر خرچ کرتے ہیں جو طلبہ کی فلاح و بہبود کے سلسلے میں منعقد کیے جاتے ہیں یہ تحقیق کا دور ہے آج انفارمیشن کے جوذرائع ہمیں میسرہیں ہمارے بزرگوں کے زمانے میں نہیں تھے کمپیوٹر، ٹی وی، انٹرنیٹ اور نجانے کیا کیا ہماری معلومات کو بڑھانے میں سرگرم عمل ہیں مغرب کی ادب، سائنس، فلسفہ ، نفسیات ، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور دوسرے شعبہ ہائے زندگی میں تحقیق اور اس کے نتائج ہمارے بزرگوں کی دسترس سے باہر تھے اسی کو جنریشن گیپ کہتے ہیں جس کی وجہ سے ہمارا معاشرہ بہت سے مسائل کا شکار ہے ہمارے ایک بزرگ کا کہنا ہے کہ بیٹے جب میں میٹرک میں تھا تو تم ابھی پیدا بھی نہیں ہوئے تھے اب ہم سے بحث کرتے ہو ہماری بلی اور ہمیں کو میائوں۔ ہم یہ سوچ کر خاموش ہوگئے کہ شاید پہلے پیدا ہونا بھی علمیت کی دلیل ہو اور پھر غاروں میں رہنے والے ہمارے آبائو اجداد بھی ہم سے بہت پہلے پیدا ہوئے تھے کیا ان کا علم آج کے انسان سے زیادہ تھا؟ بزرگوں سے سنا ہے کہ چھڑی دافع بلیات ہے وحشی انسان اور جنگلی درندے تک اس سے ڈرتے ہیں آپ نے سرکس میں رنگ ماسٹر کو چھڑی کی مدد سے شیروں کو قابو کرتے دیکھا ہوگا ماسٹر چھڑی اٹھاتا ہے اور جنگل کا بادشاہ سہم جاتا ہے پرائمری سکول کا چھوٹا بچہ کس شمار میں ہے۔ یورپ میں جسمانی سزائوں پر مکمل پابندی ہے استاد شاگرد کو جسمانی سزا نہیں دے سکتا یہی وجہ ہے کہ وہ سوچوں کی پگڈنڈیوں پر آگے ہی آگے بڑھتے چلے جارہے ہیں کولمبس تو آگے بڑھتے بڑھتے امریکہ دریافت کر بیٹھا جو آج ساری دنیا کو آنکھیں دکھا رہا ہے آنکھیں دکھانے پر پطرس بخاری مرحوم یاد آگئے ان کو یہ گلہ تھا کہ رات کے وقت آوارہ کتے انہیں آنکھیں دکھاتے ہیں اس لیے وہ ایک عدد چھڑی ہاتھ میں رکھنا بہت ضروری سمجھتے تھے یہ الگ بات ہے کہ انہیں چھڑی کے استعمال کی سعادت کبھی نصیب نہ ہوئی کیونکہ کتے کو دیکھتے ہی ان کے ہاتھ پائوں پھول جایا کرتے تھے لیکن وہ پھر بھی چھڑی کو باعث نجات سمجھتے تھے چاہے وہ نجات کتوں سے ہی کیوں نہ ہوویسے ہمارے ذاتی خیال میں چھڑی سوچ کو جلا بخشے تو باعث نجات ورنہ سراپا شرہے اس میں تو کوئی شک نہیں ہے کہ مار پیٹ سے بچہ اپنا اعتماد کھو دیتا ہے ویسے خوبیاں اور خامیاں کہاں نہیں ہوتیں مغرب بھی خامیوں اور خوبیوں سے بھرا ہوا ہے وہا ں بھی کند ذہن او ر غبی بچوں کی کثرت ہے ہمارے بچوں کی صلاحیتوں سے کون انکار کرسکتا ہے بس ضرورت اس بات کی ہے کہ سزا دینے والا سزا پیار سے دے اصلاح کی غرض سے دے۔

اداریہ