Daily Mashriq


مشیر تعلیم کا اقدام احسن‘ مگر کافی نہیں

مشیر تعلیم کا اقدام احسن‘ مگر کافی نہیں

خیبر پختونخوا کی حکومت اس امر کے لئے کوشاں ہے کہ اب سرکاری سکولوں کے اساتذہ کے بچے نجی سکولوں میں نہیں پڑھیں گے، بلکہ انہیں بھی سرکاری سکولوں میں پڑھنا ہو گا۔صوبائی حکومت نے اس حوالے سے کام شروع کر دیا ہے جبکہ اساتذہ کا کہنا ہے کہ حکومت کا یہ اقدام بنیادی حقوق کے خلاف ہے۔وزیراعلیٰ کے مشیر برائے تعلیم ضیا اللہ بنگش کے مطابق انہوں نے اس بارے میں ایک کمیٹی قائم کی ہے جو یہ معلوم کرے گی کہ ایسے کتنے اساتذہ ہیں جن کے بچے نجی تعلیمی اداروں میں پڑھ رہے ہیں اور یہ اساتذہ کے بارے میں تمام اعداد و شمار حاصل کرے گی۔مشیر تعلیم کا کہنا ہے کہ اب اساتذہ کو خود پر اعتماد کرنا ہو گا کیونکہ جب والدین ان اساتذہ پر اعتماد کرتے ہوئے اپنے بچوں کو سرکاری سکولوں میں تعلیم حاصل کرنے کے لیے بھیجتے ہیں تو اساتذہ خود اپنے بچوں کو سرکاری سکولوں میں داخل کیوں نہیں کراتے۔ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے سابق دور میں سرکاری تعلیمی اداروں کے معیار کو بہتر کرنے کے لیے متعدد اقدامات کیے تھے جن کے نتیجے میں یہ کہا گیا تھا کہ بڑی تعداد میں نجی تعلیمی اداروں سے طلبا اور طالبات اب سرکاری سکولوں میں داخل ہو رہے ہیں لیکن اس حوالے سے حکومت نے کوئی با ثبوت اعداد و شمار جاری نہیں کئے اور نہ ہی اس پر ذرائع ابلاغ میں اتفاق پایاگیا نہ ہی عوام نے اس دعوے کو سچ مانا۔ بہر حال اب چونکہ مشیر تعلیم کے بقول انہوں نے خود اپنی بیٹی کو نجی تعلیمی ادارے سے اب سرکاری سکول میں داخل کرکے مثال قائم کی ہے تو وہ اخلاقی طور پر اپنے محکمے کے افسران اور اساتذہ پر دبائو ڈال سکیں گے کہ ہ بھی ان کی تقلید کریں۔ ایک اندازے کے مطابق خیبر پختونخوا میں اس وقت کوئی ڈیڑھ لاکھ کے لگ بھگ اساتذہ ہیں۔ حکام کے مطابق اب تک یہ معلوم نہیں ہے کہ کتنے اساتذہ کے بچے سرکاری اور کتنے اساتذہ کے بچے نجی تعلیمی اداروں میں پڑھ رہے ہیں۔اس بارے میں تنظیم اساتذہ کے سربراہ خیراللہ حواری نے بی بی سی کو بتایا کہ اگر اساتذہ کے بچوں کو سرکاری تعلیمی اداروں میں تعلیم حاصل کرنے کا پابند کیا جاتا ہے تو یہ اقدام بنیادی حقوق کے خلاف ہے اور طالب علم حکومت کے اس اقدام کے خلاف عدالتوں میں جائیں گے۔ان کا کہنا تھا کہ کسی بھی انسان کا یہ بنیادی حق ہے کہ وہ جہاں چاہے تعلیم حاصل کرے۔ان سے جب کہا گیا کہ سرکاری سکولوں کے اساتذہ کو خود پر اعتماد نہیں ہے تو ان کا کہنا تھا کہ اس کے لیے تمام حکمرانوں، وزراء، سیکریٹریز اور ڈائریکٹرز سمیت تمام اعلیٰ افسران کو بھی اپنے بچے سرکاری تعلیمی اداروں میں پڑھنے کے لیے بھیجنے ہوں گے۔سرکاری سکول کے استاد سے استفسار پر معلوم ہوا کہ اعلیٰ افسران کی جانب سے زبانی احکامات ملے ہیں کہ اساتذہ کی تعداد اور ان کے بچوں کے اعداد و شمار بھیجے جائیں لیکن انہوں نے اس پر اب تک عمل درآمد نہیں کیا کیونکہ انہیں اب تک تحریری طور پر کوئی حکم نامہ موصول نہیں ہوا۔قبل اس کے کہ اس معاملے پر بات کی جائے ہم مستند ذرائع سے دستیاب صوبہ کے تین مختلف علاقوں کے پرائمری سکولوں کے طلبہ کے اعداد و شمار پیش کرتے ہیں جس میں از خود مشیر تعلیم کے اس سوال کاجواب موجود ہے کہ اساتذہ اپنے بچوں کو سرکاری سکولوں میں کیوں داخل نہیں کرتے۔ صوبائی دارالحکومت پشاور شہر کے جوگیواڑہ پرائمری سکول برائے طلبہ میں پندرہ سو بچے زیر تعلیم ہیں۔ گورنمنٹ گرلز پرائمری سکول رضا کورونہ نزوکلے ضلع چارسدہ میں ایک سو پینتیس بچے تعلیم حاصل کر رہے ہیں اور گزشتہ دو سالوں سے ایک ہی استانی بچوں کو پڑھا رہی ہے۔ گورنمنٹ پرائمری سکول پیرائی سوات میں طلبہ کی تعداد پانچ سو پچپن ہے۔ سکول میں چھ کمرے ہیں جس میں پانچ سو پچپن بچے بمشکل بیٹھ پاتے ہیں۔ سکول میں جماعت پنجم میں ایک سو سات ‘چہارم میں ایک سو آٹھ ‘تیسری میں بانوے ‘دوم میں چھیاسی ‘ پہلی میں چھیانوے اور نرسری میں ترانوے بچے زیر تعلیم ہیں۔ سوات وزیر اعلیٰ محمود خان کا آبائی علاقہ ہے‘ مشیر تعلیم کے اپنے علاقے کوہاٹ میں بھی صورتحال مختلف نہ ہوگی جس سرکاری سکول میں ان کی صاحبزادی زیر تعلیم ہیں اس سکول کی تفصیلات کا علم ہوتا تو زیادہ بہتر تھا۔ بہر حال مشیر تعلیم اپنی صاحبزادی سے سکول کے حالات بخوبی معلوم کرسکتے ہیں۔ ایک نجی ٹی وی کی سوشل میڈیا پروائرل رپورٹ کے مطابق سرکاری سکولوں میں زیر تعلیم بچوں کے والدین کے پیشے کے بارے میں پوچھا گیا تو کسی ایک بچے نے بھی والد کے سرکاری ملازم ہونے کا ذکر نہیں کیا۔ ہم سمجھتے ہیں کہ یقینا ہر شخص کو اس بات کی آزادی ہے کہ وہ اپنے وسائل اور منشا کے مطابق سکول کا انتخاب کرے بعض والدین سکولوں کے بارے میں باقاعدہ مفصل معلومات کے حصول کے بعد ہی اپنے بچے کے داخلے کا فیصلہ کرتے ہیں اور بعض والدین کسی اچھے سکول سے بھی مطمئن نہ ہونے پر بچے کو دوسرے سکول میں داخل کرنے سے گریز نہیں کرتے۔ جو لوگ سرکار کی ملازمت سرکاری گھر سرکاری ٹرانسپورٹ استعمال کرتے ہیں ان کا سرکاری سکولوں پر اعتماد نہ ہونے کی وجوہات سے تو قطعی انکار ممکن نہیں لیکن سوال یہ ہے کہ سرکار سے ہرسہولت حاصل کرنے والوں کے بچے ہی اگر ان سکولوں میں نہیں پڑھیں گے تو ان کا معیار کیسے بہتر ہوگا۔ ان سکولوں کے مسائل کیسے سامنے آئیں گے اور حکومت پر دبائو کیسے بڑھے گا بالخصوص اساتذہ کرام کا اپنے بچوں کو نجی تعلیمی اداروں میں بھیجنا تو سرے سے سرکاری نظام تعلیم پر ایک ایسا عدم اعتماد ہے جس کی گنجائش نہیں ہونی چاہئے۔ مسائل پیچیدہ اور بے شمارہیں اس تکون کے ایک سرے پر حکومت دوسرے پر اساتذہ اور تیسرے پر عوام ہیں۔ تکون کا پہلا اور دوسرا فریق جب اپنی ذمہ داریاں نبھائے گا اور بہتر نتائج سامنے آئیں گے اس کے بعد ہی عوام اور طلبہ اس طرف متوجہ ہوں گے۔ حکومت سرکاری ملازمین بالخصوص اساتذہ کرام پر اپنی اپنی جگہ بھاری ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں کہ وہ ایسے عملی اقدامات یقینی بنائیں کہ سرکاری تعلیمی اداروں کو وقعت ملے۔

متعلقہ خبریں