Daily Mashriq


حکومت اور پارٹی مفاد کے برعکس تجویز

حکومت اور پارٹی مفاد کے برعکس تجویز

پختونخوا حکومت کی جانب سے بلدیاتی حکومتوں کو آئینی مدت پوری کرنے سے قبل تحلیل کرنے کی تجویز کے پس پردہ وجوہات اور مصلحت سے تجویز کنندگان ہی بخوبی واقف ہیں لیکن اس سے صوبے میں تحریک انصاف کی مقبولیت کے گراف کے نیچے آنے کے احساس کی بو آتی ہے جسے جھٹلانے کی تو گنجائش ہے مگر قائل نہیں کیاجاسکتا۔ہمارے نمائندے کے مطابق محکمہ بلدیات کے حکام نے صوبائی حکومت پر واضح کر دیا ہے کہ بلدیاتی نظام قبل ازوقت لپیٹنے سے فائدہ کی بجائے نقصان ہوگا اوراتنے قلیل عرصہ میں ایسا ممکن بھی نہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اس قسم کی عاجلانہ تجویز دینا صوبے میں تحریک انصاف کی مقبولیت کو دائو پر لگانے کے مترادف ہوگا۔ یہ اس امر کا از خود اعتراف بھی سمجھا جائے گا کہ صوبائی حکومت عوام کے مسائل کے حل میں ناکام ہوچکی ہے حالانکہ ایسا نہیں بلکہ اس وقت صوبے میں دو بڑے منصوبے پایہ تکمیل کو پہنچنے کے قریب ہیں۔ صوبائی دارالحکومت پشاور میں بی آر ٹی کی تکمیل اور سوات ایکسپریس وے کی تعمیر کے ثمرات جب عوام کو ملنا شروع ہو جائیں گے تو عوام کو عملی طور پر تبدیلی کا احساس ہوگا۔ صرف یہی نہیں بجلی کے خالص منافع کے اربوں روپے کی جس رقم کی ادائیگی کا وزیر اعظم نے وعدہ کیا ہے اور صوبے کا قرضہ ختم کرنے کاعندیہ دیا ہے ان وعدوں کی تکمیل کے بعد صوبائی حکومت باآسانی اس پوزیشن میں ہوگی کہ عوام کو صحت اور تعلیم خصوصاً سیاحت کے شعبے میں اصلاحات متوقع ہیں جن کے مثبت نتائج سامنے آئیں گے اس قسم کی متوقع فضا میں بجائے اس کے کہ قبائلی اضلاع میں انتخابات کاانعقاد کرنے کی ضرورت پوری کرکے وہاں کے عوام کو عملی طورپر قومی دھارے میں لایا جائے اور کامیابی کا نیا ریکارڈ قائم کیاجائے۔ ایک کمزوراپوزیشن کا حامل ہونے کے تاثر پر مبنی تجویز کا سامنے آناسمجھ سے بالا تر ہے۔

ایٹا ٹیسٹ‘ جعلی تحقیقات کیوں؟

میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالجز میں داخلوں کیلئے19اگست کو منعقدہ انٹری ٹیسٹ کے حوالے سے ہونے والی نئی پیشرفت سے تحقیقات کا بھانڈا بیچ چوراہے پھوٹ جانا فطری امر ہے۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ انٹری ٹیسٹ میں پرچے آئوٹ ہونے کی شکایات پر انکوائری میں ایٹا کے نچلی سطح کے ملازمین پر سارا ملبہ ڈالا گیا تھا تازہ معلومات کے مطابق ایک ڈاکٹر نے مبینہ طور پر انٹری ٹیسٹ کا پرچہ آئوٹ کرنے کیلئے تیس لاکھ روپے وصول کئے ۔ذرائع کے مطابق اس معاملے کی چھان بین کیلئے ہیلتھ ڈائریکٹوریٹ کو تحریری شکایت کارروائی کیلئے ارسال کردی گئی ہے۔ایٹا ٹیسٹ میں گھپلے اور پرچہ آئوٹ ہونے کا معاملہ اتنا سادہ نہیں تھا جتنا اس کی تحقیقات کرنے والوں نے سمجھا یا پھر تحقیقاتی ٹیم کسی لالچ یا عین ممکن ہے سخت دبائو میں آگئی ہو گی کیونکہ ایٹا پرچے آئوٹ کرنے میں ایک طاقتور مافیا کے ملوث ہونے کی چہ میگوئیاں عرصے سے جاری تھیں اس گروہ سے وابستہ افراد کے قرابت داروں کے بچوں کی ہر بار میڈیکل کالج تک رسائی یقینی ہونے کی مثالوں کی بھی شنید تھی مگر کبھی بھی سنجیدگی سے یہ سامنے نہیں آیا اس سال بھی اگر سوشل میڈیا پر پرچہ ڈالنے کی غلطی نہ ہوتی تو معاملہ تو تقریباً نمٹ گیا تھا۔ تحقیقاتی ٹیم کی دو پست درجے کے ملازمین کو ذمہ دار ٹھہرا کر معاملہ طے کرنے کی سعی اوراس پر حکام کا صاد کرنا بھی بلا وجہ نہیں گردانا جاسکتاجس کی تازہ معلومات سے بخوبی تصدیق ہوتی ہے۔ بہر حال اس ضمن میں یہی تجویز دی جاسکتی ہے کہ حکومت معاملے کو دبانے اور نمٹانے کی بجائے پوری تحقیقات کرائے۔ میڈیکل میں داخلے کے لئے بچے اپنے کھیل کود کے دنوں کی قربانی دے کر جس طرح شب و روز سے بے نیاز سخت محنت کرتے ہیں ان کے حق پر ڈاکہ مارنے والے کسی رو رعایت کے مستحق نہیں۔ توقع کی جانی چاہئے کہ اس معاملے کی تہہ تک پہنچنے کے بعد با اثر سے با اثر افراد کو بھی معاف نہیں کیاجائے گا اور آئندہ اس قسم کی کوشش کی روک تھام کا پورا بندوبست کیاجائے گا۔

متعلقہ خبریں