Daily Mashriq


بدلتے ہوئے حالات میں ہم کہاں کھڑے ہیں

بدلتے ہوئے حالات میں ہم کہاں کھڑے ہیں

امریکی صدر ٹرمپ کے ایران پر نومبر میں مزید پابندیوں کا عندیہ دیتے ہوئے اسے تنہا کردینے کے عزم کے جواب میں روس‘ چین‘ برطانیہ‘ جرمنی اور فرانس نے امریکی پابندیوں سے بچ کر ایران سے تجارت کا طریقہ کار طے کرلیا۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں صدر ٹرمپ کا خطاب کسی بھی طرح ایک سپر طاقت کے سربراہ کے شایان شان نہیں تھا۔ ایسا لگ رہا تھا کہ وہ اقتصادی و سیاسی بالا دستی کے امریکی ایجنڈے کو زبردستی اقوام عالم پر مسلط کرنے کی سوچ کے ساتھ خطاب کر رہے تھے۔ ٹرمپ نے گلوبل نظریہ مسترد کرتے ہوئے امریکہ کا احترام کرنے والوں کو امداد دینے کا اعلان کیا۔ چین سے تجارت میں عدم توازن کو مسترد کردیا جبکہ مصر‘ اردن اور خلیجی ممالک کے ساتھ نیا اسٹریٹجک اتحاد بنانے کی بات بھی کی۔ اپنی انسانیت کش پالیسیوں اور دنیا کے مختلف خطوں میں جنگ مسلط کرنے کے ماضی پر امریکیوں کو کوئی افسوس نہیں۔ پریشانی نئے سیاسی و معاشی اتحادوں پر ہے یا پھر اپنی قیادت میں بنے امریکہ عرب عالمی اتحاد کی بقا پر جس کا دامن مظلوموں کے خون سے سرخ ہوچکا۔

تیزی سے بدلتے ہوئے حالات میں پاکستان کے لئے غور طلب امر یہ ہے کہ امریکی ہمارے خطے میں بھارت کی ناز برداریوں کے ساتھ ایران سے کھلی نفرت اور چین کے ساتھ سیاسی و معاشی تصادم کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ خود پاکستان کو بھی متعدد معاملات میں امریکہ کے نا مناسب اقدامات اور فیصلوں کا سامنا ہے۔ ان حالات میں خارجہ پالیسی مرتب کرنے والوں کو سنبھل کر ایک ایک قدم اٹھانا ہوگا۔ جنوبی ایشیاء میں عدم توازن پیدا کرنے کی امریکی پالیسی پر جذباتی رد عمل کی ضرورت ہے نہ امریکہ کے دوستوں کو دوست اور مخالفین کو اپنا دشمن سمجھنے کی۔ امریکی جنگوں میں بنا سوچے سمجھے شرکت کے شخصی فیصلوں کے نتائج پاکستانی قیادت اور عوام کے سامنے ہیں۔ ضروری نہیں کہ ہم اب بھی ماضی کی تابع فرمان روش پر چلنے کی آرزوئیں پالتے رہیں۔ دنیا کے دوسرے ممالک کی طرح پاکستان کو بھی یہ حق ہے کہ وہ اپنے قومی مفادات اور طویل المدتی ضرورتوں کے مطابق سیاسی و خارجی حکمت عملیاں وضع کرے۔ یہ شواہد بھی ہمارے سامنے ہیں کہ عراق پر امریکی حملے سے قبل کا پروپیگنڈہ جھوٹ کے سوا کچھ نہیں تھا۔ بلاد عرب میں پچھلے پچاس ساٹھ سال کی امریکی پالیسیوں کا نتیجہ صرف اسرائیل کو تحفظ دیتا رہا۔ آج بھی امریکہ کو اسرائیل ہی عزیز تو ہے۔ حال ہی میں فلسطینیوں کے لئے امریکی امداد کو منسوخ کردینے کا فیصلہ سامنے آیا۔ امریکہ عرب اتحاد نے یمن میں جو کچھ کیا یا امریکہ کی تخلیق کردہ داعش نے شام و عراق میں جو مظالم ڈھائے وہ کسی سے مخفی نہیں۔ افسوس کہ جنرل اسمبلی میں کسی نے امریکہ سے یہ سوال نہیں کیا کہ پر امن خطوں میں بربادیاں ہونے کے سوا اس عالمی طاقت نے پچھلے 70برسوں کے دوران کیا کیا۔ ویت نام‘ افغانستان‘ یمن‘ عراق و شام کس کی جارحیت سے برباد ہوئے۔

جنرل اسمبلی میں صدر ٹرمپ کی تقریر تیسری دنیا کے کسی ملک کے انتخابی جلسہ میں کی گئی ایک مقرر کی تقریر سے زیادہ ہر گز نہیں تھی۔ ہم مکرر یہ عرض کریں گے کہ امریکی قیادت میں ہوتی نئی صف بندیوں کو دور سے تین سلام کرنے میں ہی بھلائی ہے۔ دوسروں کے جھگڑوں یا امریکہ کی خوشنودی کے لئے کسی اتحاد کا حصہ بننے یا پھر کسی پڑوسی ملک کے خلاف کوئی قدم اٹھانے سے گریز کیا جائے۔ امریکہ پر دو ٹوک انداز میں واضح کیا جائے کہ پاکستان خطے میں عدم توازن یا کسی پڑوسی ملک کے خلاف جارحیت کا حامی ہے نہ ایسی کسی پالیسی کا شراکت دار ہوگا۔ ہماری دانست میں ایران پر امریکی پابندیوں کے جواب میں پانچ بڑی عالمی طاقتوں نے جو حکمت عملی اپنائی ہے وہ درست ہے۔ امریکیوں کو بھی سمجھنا ہوگا کہ وہ دنیا کی سپریم اتھارٹی نہیں ہیں۔ ہماری قیادت کو بھی یہ مد نظر رکھنا ہوگا کہ پاکستانی عوام امریکہ سے زیادہ اپنے پڑوسیوں کے لئے محبت و تعاون کے جذبات رکھتے ہیں۔امریکہ کے بین الاقوامی تنازعات میں بلا وجہ گردن پھنسانے کے شوقوں نے ہمیں کہاں کھڑا کیا ہے یہ کسی سے مخفی نہیں۔ ثانیاً یہ کہ کیا محض امریکہ کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنی عالمی بالادستی کو ناقابل تسخیر سمجھتے ہوئے اتحادوں‘ مدد گاروں اور ترقی پذیر ممالک کو احکامات جاری کرتا رہے؟ ہماری دانست میں مدد گاری اور اطاعت گزاری کی روش کو اب ترک کرنا ہوگا۔ ہمارے اپنے داخلی و خارجی اور ان دونوں سے بڑھ کر مالیاتی مسائل بہت زیادہ ہیں۔ سو ضرورت اس امر کی ہے کہ ہماری قیادت اپنے داخلی‘ علاقائی اور بین الاقوامی مفادات کو مد نظر رکھ کر مستقبل کے لئے پالیسیاں وضع کرے۔ ثالثاً یہ کہ اس امر کا بطور خاص خیال رکھنا ہوگا کہ ہم کسی بھی پڑوسی ملک کے خلاف امریکہ کی عسکری‘ سفارتی اور مالیاتی کارروائیوں میں کسی بھی طور شریک نہ ہوں۔ اپنے ملکی مفاد کو مد نظر رکھتے ہوئے ہمیں چین‘ روس‘ فرانس‘ ایران اور دیگر دوستوں سے تعاون بڑھانا چاہئے۔

بہت احترام کے ساتھ عرض ہے ماضی میں جو ہوا اور جس نے کیا تاریخ کی عدالت سے وہ بچ نہیں پائیں گے۔ موجودہ قیادت کے سامنے ہمارا آج اور ہماری اگلی نسلوں کامستقبل ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ایک غیر جانبدارانہ اور حقیقت پسند خارجہ پالیسی تشکیل دی جائے۔ قرضوں‘ امدادوں اور دیگر مدوں کی عادت ترک کرکے خود انحصاری کی عادت ڈالی جائے۔ داخلی طور پر ایسی انقلابی اصلاحات کی جائیں جن سے طبقاتی خلیج کم ہو۔ علاقائی حوالے سے پڑوسی ملکوں کو یہ باور کروایا جائے کہ کوئی بھی کرائے کے مکان میں نہیں رہتا کہ کالونی تبدیل کرلی جائے گی۔ ایک دوسرے کی جغرافیائی حدود اور قومی وقار کا احترام کرکے باہمی تعاون کی پالیسی کے فروغ سے ہم خطے میں دیرپا امن و سلامتی کے ساتھ تعمیر و ترقی کو یقینی بنا سکتے ہیں۔

متعلقہ خبریں