Daily Mashriq


خوف سا اک درمیاں ہوتا ہے ترے شہر میں

خوف سا اک درمیاں ہوتا ہے ترے شہر میں

انسان اور درندے میں پائے جانے والے فرق یا تفاوت کے متعلق پوچھا جائے تو بڑی آسانی سے جواب دیا جاسکتا ہے کہ انسان میں انسانیت پائی جاتی ہے جب کہ درندہ اپنی درندگی کی وجہ سے درندہ کہلاتا ہے۔ اس کا کام حملہ کرنا اور چیر پھاڑ کر رکھ دینا ہے۔ اور پھر ستم یہ ہے کہ کسی درندے میں انسانیت اتر نہیں سکتی جب کہ اس کے برعکس بعض اوقات کسی انسان میں درندگی در آتی ہے اور وہ انسان نہیں رہتا سچ مچ درندہ بن کر چیرنا پھاڑنا او ر کھا جانا شروع کردیتا ہے اور خلق خدا اس سے پناہ مانگنے لگتی ہے۔ مگر اس کا کیا کیا جائے جب ہم اپنے چاروں اور نظر دوڑا تے ہیں تو ہمیں انسان اور انسانیت کا وجود ڈھونڈے سے نہیں ملتا اور اپنے آپ کو درندوں کے درمیان گھرا محسوس کرتے ہیں ۔ بقول شاعر

ختم ہو گیا انسان کا وجود

رہنا پڑا ہے ہم کو درندوں کے درمیاں

ناانصافی، لوٹ مار، چور بازاری، ذخیرہ اندوزی، ظلم زیادتی اور اس قسم کی کتنی قباحتیں ہیں جو انسانیت کے دائرہ معنویت سے خارج ہیں۔ یہ معاشرے کے وجود میں پھیلا ہوا وہ زہر ہے جس کا تریاق نظر نہیں آتا۔ یہ ملک و ملت کی اخلاقی تعمیر اور اس کی ترقی کی راہ کی بہت بڑی رکاوٹیں ہیں ۔ ایک دیمک ہے جو چاٹے کھا رہا ہے پوری قوم کے وجود کو۔ اس کا علاج یا چارہ گری بھلا کیسے کی جائے جس کے بارے میں پرانے اور سیانے لوگ دو ٹوک الفاظ میں کہہ گئے ہیں کہ’ خود کردہ را علاج نیست‘۔ یہ آگ ہم نے خود بھڑکائی ہے۔ آگ لگانے والوں سے آگ کو بجھانے کی بھلا کیسے توقع کی جاسکتی ہے۔ آہ کہ ان حالات کے پیش نظر کسی نے کتنا سچ کہہ دیا کہ

دھجیاں اڑنے لگیں انسانیت کی چار سو

دل درندہ ہو گیا انسان پتھریلے ہوئے

انسان اگر درندہ نہیں ہوا تو وہ پتھریلا ضرور ہوگیا۔ اور اس کا دل دل نہیں رہا درندہ ہوگیا۔ درندہ یا وحشی کے سینے میں دل ہوتا ہے پر درد دل نہیں ہوتا، اس میں خوف خدا نام کی کوئی چیز نہیں ہوتی۔ اگر درندہ بننے سے پہلے وہ انسان ہو تب بھی اسے انسان سے درندہ بننے میں دیر نہ لگتی، کیونکہ وہ اپنے غصے پر قابو نہیں پا سکتا۔ غصہ جسے ام الفساد کہا جاتا ہے۔ غصہ جسے تھوک دینے کی تلقین کی جاتی ہے۔ غصہ جسے حرام گردانا جاتا ہے اور سمجھ بوجھ والے اس حرام چیز کو زہر کے گھونٹ سمجھ کر پی جانا جائز سمجھتے ہیں۔ غصہ یا تیش جب اور جہاں کسی کے چڑھ جائے تو اس کے چہرے کی رنگت بدل جاتی ہے ، سانسیں پھولنے لگتی ہے۔ آواز اور لب و لہجے میں درندگی عود کرجاتی ہے اور یوں اچھے اچھے دل والے اس سے پناہ مانگنے لگتے ہیں ، غصہ کی حالت میں انسان ایسی حرکت کر بیٹھتا ہے جس کا کسی ہوش مند اور درد دل رکھنے والے انسان کا کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ یہ ساری باتیں ، یہ سب کچھ میں حال ہی میںایک آٹھ سالہ معصومہ یاسمین کو پے در پے چھریوں کے وار کرکے بہیمانہ قتل کر دینے کی خبر پڑھ کر لکھنے لگا ہوں ۔ وہ گھر سے ٹماٹر خریدنے نکلی تھی ، اس کی امی ابو یا کسی رشتہ دار نے اسے درندوں کے جنگل میں ٹماٹر خریدنے بھیجا تھا، مگر یہ کیا دکاندار چاچا نے اس سے پیسے لیکراسے گندے ٹماٹر تھما دئیے۔ اس نے دکاندار کی اس عیاری مکاری اور ناانصافی کے خلاف آواز بلند کرنا چاہی لیکن غصہ در آیا اس کی آواز میں ، اور اس معصومہ کا غصہ اس درندہ صفت دکاندار کو آپے سے باہر کرنے کا باعث بن گیا ۔ شاید وہ پہلے سے غصے میں بھرابیٹھا ہوا تھا اپنی دکان پر۔ شاید وہ اس بات پر رنجور تھا کہ تھوک فروش اس سے ہاتھ کر گیا ، جس نے اس کی آنکھوں میں دھول جھونک کر اس پر گندے ٹماٹر بیچ دئیے۔ یاسمین نے جب ٹماٹروں کے شاپر میں گندے ٹماٹر دیکھے تو وہ چیخ پڑی اس کی اس چیخ نے دکاندار کے غصے یا تیش کو درندگی میں بدل دیا۔ اس نے چھری اٹھائی اور یاسمین کی ننھی سی جان پر پے در پے وار کرکے اس کی احتجاج بھری چیخوں کو ابدی نیند سلا دیا۔ کتنی درد ناک تھی کل کے اخبار میں چھپنے والی یہ خبر، مگر اس کا کیا کیا جائے کہ لمحہ لمحہ کی خبر سے اپنے آپ کو باخبر رکھنے والے ایسی خبریں پڑھنے یا سننے کے اس قدر عادی ہوچکے ہیں کہ ایسی خبر کو وہ خاطر ہی میں نہیں لاتے ۔ وہ اگر جاننا چاہتے ہیں تو صرف اتنا کہ ملک کی سیاست کس نہج پر رواں ہے۔ ملک کی کرکٹ ٹیم بھارت سے میچ ہارنے کے بعد بنگلہ دیش سے کیوں ہار گئی۔وزیر اعظم عمران خان نے کونسا بیان داغا ہے اور اس کے جواب میں بلاول بھٹو نے کیا کہا۔ کون بھلا کسی غریب آباد کی ننھی اور معصوم یاسمین کی بے دردانہ ہلاکت کی خبر کو اہم سمجھتا ہے۔ بہت مصروف ہیں ہم سب لوگ دونوں ہاتھوں سے حلال اور حرام کی تمیز کئے بنا سمیٹ رہے ہیں جہنم کے انگارے۔ اقتدار والے اپنے اقتدار کو رہتی دنیا تک قائم رکھنے کی فکر میں ہیں۔ کم تولنے والوں کو زیادہ تول کر نہ دے دینے کی فکر لاحق ہے۔ چور ڈاکو رہزن اپنے اپنے انداز میں لوٹ کھسوٹ کا بازار گرم کئے ہوئے ہیں۔ پولیس نے سبزی فروش دکاندار اور اس کے کم عمر بیٹے کو آلہ قتل سمیت گرفتار کرکے مقدمہ درج کرلیا ، مقدمہ درج ہوگیا ، مقدمے درج ہوتے رہتے ہیں ، تاریخ در تاریخ پیشیاں ہوتی رہتی ہیں ، مقدمے چلتے رہتے ہیں لیکن سر بازار ذبح ہونے والی کوئی بھی ننھی یاسمین لوٹ کر نہیں آتی ، اور یوں آئے روز درندوں کی کھیپ میں اضافہ ہوتا رہتا ہے ،

کون جانے کس گھڑی یاں کیا سے کیا ہوکر رہے

خوف سا اک درمیاں ہوتا ہے ترے شہر میں

متعلقہ خبریں