Daily Mashriq


افسوس صد افسوس

افسوس صد افسوس

ایک جاہل معاشرے کا سب سے بڑا المیہ یہ ہوتا ہے کہ اسے اپنی ترجیحات معلوم ہی نہیں ہوتیں۔ یہ جہالت ان کے کونے کونے میں سیاہی پھیلا دیتی ہے۔ کون کب کیا کرے گا اور کسی کا کیا کردار ہونا چاہئے اسی جہالت کے اندھیرے میں خاموشی سے گم ہو جاتا ہے۔ اسی اندھیرے کے پیٹ سے کبھی کبھار معاشرے کا میڈیا شوشوں کی چنگاریاں چھوڑتا ہے۔ ان چنگاریوں سے کب کوئی آگ کہاں بھڑکتی ہے انہیں اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ وہ نہیں سمجھتے کہ ان کی اس معاشرے سے وابستہ کچھ ذمہ داریاں ہیں۔ وہ نہیں جانتے کہ انہیں ذریعہ ابلاغ بننا ہے۔ لوگوں کی فہم میں اضافہ کرنا ہے‘ سمت فراہم کرنی ہے‘ وہ بس سنسنی خیزی کے علم بلند کرتے ہیں اور انہیں ایسے چیختے چنگھاڑتے رنگوں سے مزین کردینا چاہتے ہیں کہ ان کے سامنے کسی دوسرے کی آواز نہ سنائی دے۔ آج صبح سے میں ایک افسردگی‘ ایک افسوس‘ اک احساس زیاں میں مبتلا ہوں جو مسلسل میرے دامن سے لپٹا ہوا ہے۔ میرے دل کو دھیرے دھیرے دو چٹکیوں میں مسل رہا ہے۔ میں ایک ایسے معاشرے میں شامل ہوں جو مسلسل انحطاط کا شکار ہے اور کسی امید نے اس انحطاط کی رفتار میں کوئی کمی پیدا نہیں کی۔ یہ معاشرہ پہلے ان پڑھوں کا معاشرہ تھا لیکن تب ان لوگوں کے دامن میں اقدار و روایات کی روشنی تھی۔ وہ اسی روشنی میں اپنا راستہ دیکھ لیا کرتے تھے۔ معاشرے کے بچے بھی پرسکون تھے کیونکہ ماں باپ اسی بات کی تربیت دیا کرتے تھے۔ اب ہم ایک ایسے معاشرے میں رہتے ہیں جہاں ہر بات جرم بن جاتی ہے کیونکہ جرم میں سنسنی خیزی دکھائی دینے لگی ہے۔ مٹھی بھر سالوں میں یہ تبدیلی کیسے آئی اس کا کبھی بیٹھ کر اس معاشرے کو حساب کرنا چاہئے کیونکہ اسی خواہش کی منہ زوری نے کئی خاموش دروازوں کو وا کیا جن سے کئی ایسی چھوٹی برائیاں نہایت خاموشی سے داخل ہوئیں جنہیں دیکھا بھی گیا تو نظر انداز کیاگیا کیونکہ یہ سوچا گیا کہ آخر اتنی چھوٹی بات سے کیا اثر ہو سکتا ہے۔ ابھی بڑی بلائوں کا مقابلہ کرنا ضروری ہے۔ انہی چھوٹی برائیوں میں یہ سنسنی خیزی پیدا کرنے کی خواہش بھی شامل تھی۔ اس کو نظر انداز تو ہم مسلسل ہی کرتے رہے لیکن یہ ہمارے رویوں کے بگاڑ کی اصل وجہ بنتی رہی اور آج بھی کچھ ایسا ہی ہے جس سے میرا دل جل رہا ہے۔صبح ہی ایک نجی ٹیلی ویژن علاقے کے نام اور سکول کے نام کے ساتھ ایک خبر انتہائی دکھ سے دکھا رہا تھا کہ اس سکول کے بچوں سے ان کے سکول کے کمروں کی صفائی کروائی جا رہی ہے۔ وہ بچے اپنے سکول کے کمرے سے کچرا اٹھا رہے تھے۔ کچھ پرانے کاغذ تھے‘ ایک بچہ جھاڑو لے کر کمرا صاف کر رہا تھا۔ چند بچے کلاس کی کرسیاں اٹھا کر ادھر سے ادھر رکھ رہے تھے اور خبر سنانے والی محترمہ رپورٹر اپنی آواز میں دنیا جہان کا تاسف بھر کر یہ اعلان کر رہی تھیں کہ اس سکول میں بچوں سے خاکروب کا کام کروایا جا رہا ہے اور میرا حلق تک کڑوا ہوگیا۔ ہماری ترجیحات کو جہالت نے اس حد تک چاٹ لیا ہے کہ ہمیں اچھائی اور برائی کا فرق ہی معلوم نہیں رہ گیا۔ اس محترمہ سے کوئی یہ تو پوچھے کہ آخر اس میں برائی کیا ہے۔ ہم اس دین کے پیروکار ہیں جس میں صفائی نصف ایمان ہے۔ اپنے مدرسے کو صاف کرنے میں کیا برائی ہے۔ ان کمروں کو جہاں بیٹھ کر یہ بچے تعلیم حاصل کرتے ہیں اگر وہ جھاڑو سے صاف کریں تو اس میں کیا غلط ہے۔ یہ بچے اپنے آپ کو بھلا خاکروب کیوں سمجھیں اور اس سے بھی اہم سوال یہ ہے کہ صفائی میں ہتک محسوس کیوں کریں۔ کیا ہم اس معاشرے میں رہتے ہیں جہاں صفائی کا کام کرنے والے شودر تصور ہوتے ہیں اور شودر ’’ ملیچھ‘‘ ہوتے ہیں۔ خاکروب ہونا کب سے تذلیل کی علامت بن گیا۔ کیا وہ خاتون واقف نہیں کہ اس کی ایک خبر اس معاشرے کے ذہن پر کیسے منفی اثرات مرتب کرے گی۔ کیا جہالت میں ہم یہ بھی بھول گئے کہ جاپان جیسے ترقی یافتہ ملک میں بچے اپنے سکولوں کی صفائی خود کرتے ہیں اور یہ نظام نافذ کرنے والے سمجھتے ہیں کہ اس سے ان کے کردار میں بہتری پیدا ہوتی ہے۔ بڑی تضحیک سے اس نے کہا یہ ہے ہائی سکول اعوان ٹائون جہاں بچے صفائی کر رہے ہیں اور کسی متعلقہ وزیر نے تحقیقات کا حکم دے دیا۔ وزیر صاحب کو چاہئے تھا کہ محترمہ کو اپنے پاس بلواتے یا کم از کم اسے فون پر ہی کہتے کہ خدارا اپنی ترجیحات درست کریں۔ ادھر میڈیا نے خبر نشر کی اور صاحب بہادر دبائو میں آکر تحقیقات کاحکم دینے لگے۔ افسوس ہے صد افسوس ہم اس معاشرے میں اپنے بچوں کو اس ایک خبر میں جانے کیاکیا سبق دے رہے ہیں۔ اپنی درسگاہ سے محبت نہ کرنے کے اہل ہونے کا درس تو بہت معمولی بات رہ گئی ہے۔ گندگی کو صاف نہ کرنے کی بات بھی الگ‘ طبقاتی فرق سے وابستہ نفرت کا سبق کیسا گھنائونا جرم ہے۔ صفائی کرنے والے کمتر ذات کے ہیں۔ یہ ہی تو سکھایا جا رہا ہے۔ اس معاشرے میں کیا تبدیلی آئے گی جہاں جرم کی تعریف ہی بدل گئی ہے۔ اس معاشرے میں کیا تبدیلی آئے گی جہاں صرف ایک ہی حقیقت ہے سنسنی خیزی اور معیشت۔ افسوس ہے صد افسوس نہ ہماری ترجیحات درست ہیں اور نہ دلائل اور اس اندھیرے میں رہتے رہتے ہمارے بچوں کی بصارتیں سلب ہو رہی ہیں اور ہم اسی حال میں خوش ہیں۔

متعلقہ خبریں