Daily Mashriq


دوڑپیچھے کی طرف اے گردش ایام تو

دوڑپیچھے کی طرف اے گردش ایام تو

بات اس قدر سادہ بھی نہیں بلکہ اس اندھی تقلید کی ہے بعض اوقات جس کے مقدر میں گہری کھائی ہوتی ہے، وہ جو کہتے ہیں کہ گھوڑوں کو نعلیں لگتے دیکھ کر مینڈک نے بھی پائوں آگے کر دیئے تھے، کچھ ایسی ہی صورتحال ہمارے ہاں پنجاب حکومت کی تقلید میں بی آر ٹی کی تعمیر کی ہے، پہلے تین سال تک میاں شہباز شریف کے لاہور میں تعمیر کئے جانے والے اسی قسم کے منصوبے پر اعتراضات کئے جاتے رہے اور اقتدار کے آخری سال اچانک پشاور میں بھی وہی منصوبہ شروع کر کے عوام کو حیرت میں مبتلاکردیا گیا۔ منصوبہ بروقت مکمل نہ ہونے کا رونا روتے ہوئے یہ تاویل پیش کی گئی کہ مرکزی حکومت سے اجازت میں لیت ولعل کے رویئے کی وجہ سے ایسا ہوگیا۔ سوال مگر یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر بی آرٹی کیلئے اس وقت وفاقی حکومت سے اجازت کا مسئلہ تھا تو پھر پنجاب حکومت کے منصوبوں کو کیوں بلاوجہ تنقید بلکہ تنقیص کی سان پر رکھتے ہوئے اٹھتے بیٹھتے تبرے تولے جارہے تھے ۔ بات کہنا کچھ اور مقصود ہے مگر اس کا پس منظر واضح کرنا ضروری تھا، خبراتنی سی ہے اور یہ بھی کوئی نئی خبر نہیں ہے کہ پشاور میں آئے روز کے بد ترین ٹریفک جام سے شہریوں کے اعصاب شل ہوگئے ہیں،یہ بے چارہ شہر ٹریفک کے مسائل کے حوالے سے پہلے ہی سے کیا کم مشکل میں تھا کہ اب گزشتہ کئی مہینوں سے بی آرٹی نے حد ہی کر دی ہے۔ شہرمیں ٹریفک کے نظام کو درست کرنے کیلئے کئی برس سے مختلف تجربوں سے شہر کو گزارا جارہا ہے، جب ابھی یہ مسئلہ زیادہ گمبھیر صورت اختیار نہیں کر گیا تھا تب ایک سابق صوبائی وزیر تعمیرات حاجی محمد جاوید نے جو خود بھی انجینئر ہیں اوربیرونی ملک اہم منصوبوں سے وابستہ رہے ہیں، پشاور میں ٹریفک کے مسئلے کے حوالے سے مرکزی مقام یعنی سورے پل کے پار جو تب رحمن بابا چوک کہلاتا تھا، پرغیر ملکی ماہرین کی نگرانی میں کئی ہفتوں تک مختلف طریقوں سے ٹریفک کے بہائو کو درست رکھنے کے تجربات کئے اور بالآخر ایسے گھمن پھیر کو حتمی صورت دیکر اس چوک میں مفید تعمیرات کرائیں جس سے ٹریفک کنٹرول کرنے میں بڑی حد تک مدد ملی، تاہم یہ ٹریفک نظام کو رواں رکھنے کا کوئی مستقل حل نہیں تھا اور غیر ملکی ماہرین نے اس کا حل شہر کے گرد رنگ روڈ تعمیر کر کے دوسرے علاقوں سے آنے والی ٹریفک کو شہر میں داخل ہونے کی اجازت دینے کے بجائے براہ راست متبادل روٹس پرڈالنے کا منصوبہ بنا کر دیا اور آج یہ جو ناردرن اور سدرن بائی پاس والی سڑکیں حیات آباد اور یونیورسٹی کے علاقوں کو ملا رہی ہیں یہ اسی منصوبہ بندی ہی کا حصہ ہے ، مگر ان کی تعمیر میں بوجوہ تاخیر سے اندرون شہر ٹریفک کے نظام پر دبائو بڑھتاہی چلا گیا جبکہ بعد میں آنے والے ادوار میں ایک طرف سورے پل پر تعمیر کئے جانے والے متبادل فلائی اوور کیساتھ کھلواڑ کرنے سے مسائل نے ایک ایسی صورت اختیار کرلی کہ ایک جانب ارباب سکندر خان فلائی اوور اور دوسری جانب مفتی محمود فلائی اوور کے منصوبوں کی مدد سے بھی یہ مسئلہ حل نہیں ہو سکا حالانکہ اگر ارباب سکندر خان فلائی اوور کی جگہ گل بہار تھا نے کے عین سامنے شمالاً جنوباً دو چھوٹے فلائی اوور تعمیر کر دیئے جاتے تو نہ اتنا خرچہ آتا نہ ہی اس فلائی اوور کی ضرورت رہتی اور ٹریفک بھی رواں دواں رہتی۔ اسی طرح اگر سورے پل کے پاس اصل منصوبے کے مطابق قلعہ بالاحصار کی جانب سے جہاں سے اسی مقصد کیلئے ایف سی پٹرول پمپ ہٹا دیا گیا تھا، فلائی اوور شروع کر کے سورے پل کے اوپر لیجاتے ہوئے تین اطراف یعنی سامنے خیبرروڈ، دائیں جانب باچاخان چوک اور بائیں جانب نشترہال کے سامنے سے گزارتے ہوئے جیل کی سمت رکھا جاتا تو نہ صرف ٹریفک کا سارا نظام درست ہوجاتا بلکہ مفتی محمود فلائی اوور کی ضرورت بھی نہ رہتی ۔ مگر اس وقت اس منصوبے کو صوبائی حکومت نے ضلعی حکومت کیساتھ مل کر پہلے دو سال تک معطل کئے رکھا کہ اس کیلئے مختص فنڈز کہیں اور منتقل کر دیئے گئے تھے تو دوسال بعد عوام کے شدید احتجاج پراس کا نقشہ ہی بدل کر ایک بے ضرر (جس کا کوئی فائدہ نہ تھا) قسم کے فلائی اوور میں تبدیل کر کے اس کا رخ ہی الٹا دیا گیا اور خیبر بازار کی سمت سے اسے انٹری پوائنٹ دے کر جناح پارک کے متصل اتاردیا گیا۔ اب بی آر ٹی کیلئے اسے بھی قربان کردیا گیا ہے جبکہ اس دوران پلوں کے نیچے سے اتنا پانی گزرگیا ہے کہ شہر میں ٹریفک کو کنٹرول کرنے کی کوئی تد بیر کار گرنہیں ہورہی ہے۔ اس کی بھی کئی وجوہات ہیں اور سب سے بڑی وجہ جہاں ایک طرف بنکوں کے طفیل قسطوں پر فروخت کی جانے والی گاڑیوں کے ریوڑ کے ریوڑ روز سڑک پر آجاتے ہیں اور ٹریفک کے مسائل میں اضافہ کرتے رہتے ہیں، وہیں رکشوں کی بھر مار ہے جن میں دوسرے اضلاع کے رجسٹرڈ رکشوں کی پشاور کی سڑکوں پر دندنانا ہے ۔اسی طرح بی آر ٹی شروع ہونے سے پہلے اعلان کیا گیا تھا کہ حیات آباد، کارخانوں جانے والی بسوں کو رنگ روڈ اور سرکلر روڈ پر منتقل کر دیا جائے گا مگر اسے بھی بوجوہ بھاری پتھر سمجھ کر چومنے کی ہمت نہیں کی گئی۔ اب تو بس یہی دعا کی جاسکتی ہے کہ حضرت سلیمانؑ کا زمانہ لوٹ آئے اور وہ جنات کو حکم دے کر راتوں رات بی آرٹی منصوبے کی تکمیل کروائیں اور شہر کے لوگ اگلی صبح بیدار ہوں تو منصوبہ مکمل ہو چکا ہو ، ٹریفک کا نظام درست ہوچکا ہو اور عوام خوشی سے پھولے نہیں سما رہے ہوں۔ یعنی دوڑ پیچھے کی طرف اے گردش ایام تو۔

متعلقہ خبریں