نا مناسب سیاست

نا مناسب سیاست


پی ٹی آئی چیئرمین نے اسلام آباد میں پارٹی کے جلسے سے خطاب کے دوران اس امر کا اعادہ کیا ہے کہ وہ اب بھی 10ارب روپے کی پیش کش کے دعوے پر قائم ہیں۔انہوں نے کہا کہ وہ اس شخص کا نام عدالت میں پیش کریں گے اور اس کے تحفظ کیلئے عدالت سے درخواست بھی کریں گے تاکہ اس کے خلاف جھوٹے مقدمے قائم کرکے اس کا کاروبار تباہ نہ کیا جاسکے۔عمران خان کا کہنا تھا کہ میں عدالت کے سامنے دبئی میں بیٹھے اس شخص کا نام بھی بتائوں گا جس نے مجھے رقم کی پیش کش تھی، جس کے بعد شریف خاندان کے مزید لوگ اس معاملے میں پھنس جائیں گے۔ان کا کہنا تھا کہ 10 ارب کی آفر لانے والے کو بھی 2 ارب دینے کی پیشکش کی گئی تھی۔خیال رہے کہ پاناما لیکس کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے جیسے ہی سپریم کورٹ نے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) کی تشکیل کا حکم دیا، اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے جے آئی ٹی پر اعتراض اور وزیراعظم نواز شریف سے استعفیٰ کا مطالبہ زور پکڑتا گیا۔اس سلسلے میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی)سب سے پیش پیش ہے۔ گزشتہ ہفتے ایک تقریب سے خطاب کے دوران چیئرمین پی ٹی آئی کی جانب سے کیا گیا یہ انکشاف خصوصی اہمیت اختیار کرگیا تھاجس میں اس معاملے پر خاموشی کے لئے حکمران خاندان مجموعی طور پر مبینہ طور پر بارہ ارب روپے کی خطیر رقم دینے کو تیار تھا۔ چیئرمین پی ٹی آئی کے مطابق اب وزیراعظم اس معاملے سے نکل نہیں سکتے تاہم اگر ہم چپ کرکے بیٹھ جائیں تو ان کے پاس بہت وسائل ہیں، جب مجھے چپ کرنے کے لیے 10 ارب روپے آفر کرسکتے ہیں تو یہ اداروں کو کتنا آفر کرسکتے ہیں؟ ۔جس کے بعد وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا تھا کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی)کے چیئرمین عمران خان کا 10 ارب روپے کی پیشکش کا دعویٰ جھوٹا ہے۔مریم اورنگزیب نے اداروں کو دبائو میں لانے کی روایت کو غیر سنجیدہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ججوں کو متنازع بنانے کی مہم جاری ہے۔وزیرمملکت برائے اطلاعات و نشریات کا کہنا تھا کہ عمران خان کے الزامات کو اعلیٰ عدلیہ نے مسترد کیا جس کے بعد انہوں نے عدلیہ کے فیصلے کی تضحیک کا آغاز کردیا۔وزیر اعظم نواز شریف کی جانب سے بھی عمران خان کے دعوے کو مسترد کرتے ہوئے عدالت جانے کا عندیہ د یاگیا تھا۔ مگر تاحال اس ضمن میں کسی پیشرفت کی اطلاع نہیں شاید حکمران جماعت کو اس امر کا انتظار ہو کہ بجائے اس کے کہ اس معاملے کو ابھی عدالت لے جایا جائے سپریم کورٹ میں عمران خان سمیت پی ٹی آئی رہنمائوں کی آف شور کمپنیوں سے متعلق بدھ سے سپریم کورٹ میں سماعت کاانتظار کیا جائے اور ایک نیا عدالتی باب کھولنے کی بجائے اس سماعت میں وکلاء کے موقف ججوں کے ریمارکس اور فیصلے کا منتظر ہوا جائے۔ قانونی معاملات سے قطع نظر سیاستدانوں اور میڈیا نے عدالتی امور کو جس طرح زیر بحث لاکر مچھلی بازار سجانے کا رواج اپنا رکھا ہے دیکھا جائے تو اس سے ملک میں عدالتی نظام اور عدلیہ کی توقیر پر حرف آنے لگا ہے اور اگر ایسا نہ بھی ہو تب بھی عدالتی معاملات کو اس طرح زیر بحث لانا اور سیاست چمکانے کی کوئی گنجائش نہیں۔ حکمران جماعت مسلم لیگ(ن) کے عدالت جانے سے باقی تو کچھ ہو نہ ہو کم از کم اس الزام کی صدائے باز گشت دم توڑ دے گی۔ دوسری جانب یہ ایک ایسا الزام ہے جسے میڈیا سمیت کم ہی لوگ ماننے کو تیار ہیں اور اگر یہ الزام سچ ہے تو عمران خان کو اپنے خلاف ہتک عزت اور ہرجانے کے ممکنہ مقدمے میں عدالت میں دفاع کی بجائے اپنے الزام کو عدالت میں ثابت کرکے تخت کو تختہ کردینے میں تامل نہیں ہونا چاہئے۔ عمران خان نے پانامہ لیکس کیس کی سماعت کے دوران اس الزام کو چھپائے کیوں رکھا اور اب اس الزام کو خود ثابت کرنے کی بجائے مخالفین کو عدالت جانے کا موقع کیوں دینا چاہتے ہیں۔ ان سوالات کے ممکنہ جوابات سے الزام کی حقیقت دھند لاتی دکھائی دیتی ہے۔ قطع نظر اس معاملے کے پاکستان میں ہر کسی پر الزام لگا دینا اب معمول کا عمل بن چکاہے۔ ہر کس و نا کس دوسرے پر بدعنوانی کا الزام لگاتا ہے۔ خاص طور پر سیاستدانوں کی تو سیاست ہی اسی سے چلتی ہے۔ لوگوں کا اس طرح کے معاملات میں عدالتوں سے رجوع نہ کرنے کی بھی ایک بڑی وجہ ہے کہ اس طرح کے مقدمات دیوانی مقدمات کی طرح سالوں سال چلتے ہیں مگر کوئی فیصلہ ہو نہیں پاتا۔ اسے بد قسمتی ہی قرار دیا جائے گا کہ خود عدلیہ پر بھی الزامات لگتے رہے ہیں۔ اس طرح کے ایک کیس کی پیروی سابق چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ریٹائرڈ افتخار محمد چوہدری نے عمران خان کے خلاف کی تھی لیکن دو برس کی سماعت کے بعد بھی اس بات کی امید کم ہی ہے کہ مقدمے کا جلد کوئی فیصلہ ہوگا۔ تحریک انصاف کے چیئر مین عمران خان نے جو دعویٰ کیا ہے اگر واقعی ان کے پاس اس کو عدالت میں ثابت کرنے کے لئے شواہد موجود ہیں تو ان کو پانامہ لیکس کے فیصلے کا نہ تو قلق ہونا چاہئے اور نہ ہی تحقیقاتی ٹیم کی تحقیقات کے نتائج کا انتظار کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ اگر عمران خان وزیر اعظم نواز شریف کی جانب سے مبینہ طور پر پانامہ کیس میں چپ رہنے کے لئے دس ارب روپے کی پیشکش کرنے کو ثابت کرتے ہیں تو وزیر اعظم صادق اور امین نہیں رہتے اور آئین کے آرٹیکل 62'63 کے تحت نہ صرف وہ وزیر اعظم کے عہدے پر نہیں رہ سکیں گے بلکہ ان کی رکنیت بھی منسوخ ہو جائے گی۔ ایک عمودی نظر ڈالنے سے تو یہ سیدھا سادا کیس لگتا ہے جس میں تحریک انصاف کے قائد کو یہ ثابت کرنا ہے کہ نواز شریف کی جانب سے ان کو یہ پیشکش کی گئی تھی اور وہ اس رابطہ کار شخص کا نام بھی بتانے پر تیار ہیں۔ تحریک انصاف کے چیئر مین عدالت کے سامنے حلفیہ بیان دے کر اپنی ذمہ داری پوری کرسکتے ہیں اور قوم کو اپنی صداقت کا یقین دلایا جاسکتا ہے باقی عدالت کو یہ قابل قبول ہوتا ہے یا نہیں یہ متعلقہ سوال نہیں۔ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کم از کم الزام کی حقیقت اور صداقت کی کچھ تو وقعت ہو گی جس کا انہیں سیاسی فائدہ ہوگا۔ لیکن اگر عمران خان ایسا نہ کرسکے تو یہ ان کو ایک مرتبہ پھر عدالت میں معذرت کرنی پڑے گی جس پر نہ صرف پی ٹی آئی کو خفت کا سامنا ہوگا بلکہ ان کی راست گفتاری پر بھی سوال اٹھے گا۔

اداریہ