سرکاری حج کوٹہ میں اضافہ کیاجائے

سرکاری حج کوٹہ میں اضافہ کیاجائے

حج پر جانے والوں کی قرعہ اندازی کے مبارک عمل کی تکمیل کے بعد عازمین حج کو حجاز مقدس بھجوانے اور دوران حج ان کے لئے بہتر انتظامات پر زیادہ سے زیادہ توجہ کی ضرورت ہے۔ گزشتہ تین چار سالوں سے حجاج کرام کی اکثریت کا سرکاری حج انتظامات پر اظہار اطمینان حکومت اور منتظمین حج سبھی کے لئے سعادت کی بات ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ عازمین حج کو حکومت کی طرف سے جتنی بھی سہولتیں اور مراعات ممکن ہوں کی فراہمی میں بخل کا مظاہرہ نہیں کیاجانا چاہئے۔ وزیر اعظم کی جانب سے نوے سال سے زائد العمر بزرگوں کو بغیر قرعہ اندازی منتخب کرنے کے احکامات پر عملدرآمد سے کئی خوش نصیبوں کی آرزو پوری ہوگی۔ ہمارے تئیں نوے سال کی عمر کی حد مناسب نہیں اسے اگلے سال اسی سال مقرر کرکے دیکھا جائے اور اگر گنجائش نکل آئے تو اسے ستر سال تک لانے کی ضرورت ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ زائد العمر بزرگوں کو حج کی سعادت حاصل کرنے کا موقع ملے۔ جن افراد کو عدالتی فیصلہ آنے تک انتظار کی فہرست میں ڈال دیاگیا ہے۔ توقع کی جانی چاہئے کہ معزز عدالت جلد ہی کوئی فیصلہ صادر کرے گی تاکہ یکسوئی کے ساتھ یہ افراد تیاری کرسکیں یا بصورت دیگر وہ لوگ متبادل ذریعے سے حج پر جانے کا راستہ اختیار کرسکیں گے۔ گو کہ نجی کمپنیوں کی جانب سے عازمین حج کے لئے انتظامات ہوتے ہیں لیکن عازمین سے جتنی رقم وصول کی جاتی ہے اور جو وعدے یہاں کئے جاتے ہیں اس پر سمجھوتہ کرنے کی شکایات آتی ہیں۔ حکومت کو سرکاری حج کوٹے میں اضافے پر توجہ دینی چاہئے نیز نجی حج کمپنیوں کے لئے ایک ریٹ مقرر کیا جاسکے تو موزوں ہوگا یا پھر کم از کم جن کمپنیوں کے بارے میں سنگین نوعیت کی شکایات سامنے آئیں ان کو بلیک لسٹ کرنے سے گریز نہ کیاجائے۔

اداریہ