Daily Mashriq


ابھی سٹیڈیمز کی زیادہ ضرورت نہیں

ابھی سٹیڈیمز کی زیادہ ضرورت نہیں

گورنر خیبر پختونخوا انجینئر اقبال ظفر جھگڑا کی جانب سے تیراہ' شمالی اور جنوبی وزیرستان میں سٹیڈیم قائم کرنے اور فاٹا میں الیکٹرانکس سروس سسٹم کے قیام سے ایک ہی چھت تلے تمام خدمات اور سہولتوں کی دستیابی جیسے اقدامات پر اظہار اطمینان نہ کرنے کی کوئی وجہ نہیں۔ فاٹا میں شدت پسندی و انتہا پسندی کے رجحان کو صحت مند سرگرمیوں اور بہتر سہولتوں کی فراہمی سے ہی تبدیل کیا جاسکتا ہے لیکن ترجیحات کے تعین میں تعلیم' صحت ' پینے کا صاف پانی' آمد و رفت وغیرہ جیسی بنیادی ضروریات سر فہرست ہونی چاہئیں جن کی فراہمی کے بعد ہی سپورٹس سٹیڈیم اور ایک چھت تلے سہولتوں اور خدمات کی فراہمی موزوں ہوگا۔ اس وقت صورتحال تمام تر حکومتی دعوئوں کے برعکس ہے ۔بر سرزمین حقیقت یہ ہے کہ یہاں لوگوں کا ان سرگرمیوں میں حصہ لینے کاموقع ہی نہیں جن لوگوں کو اپنے آبائی علاقوں تک آسانی سے رسائی حاصل نہ ہو جہاں زندگی کی بنیادی سہولتیں ہی نا پید ہو ں وہاں پرنوجوانوں سے یہ توقع نہیں کی جاسکتی کہ وہ ٹریک سوٹ پہن کر سٹیڈیم میں کھیلنے جائیں۔ قبائلی علاقوں کے عوام کو ابھی دہشت گردی کے خلاف جنگ کے نتائج اور اثرات کو ابھی کئی سال مزید بھگتنا ہے اور جب تک وہ اس مشکل وقت سے نکل کر معمول کی زندگی شروع نہیں کرتے ان کے کاروبار و روزگار بحال نہیں ہوتے اس وقت تک وسائل کا استعمال سوچ سمجھ کر کرنے کی ضرورت ہے۔توقع کی جانی چاہئے کہ قبائلی علاقوںکے عوام کے مسائل اور مشکلات کے حل کے لئے حقیقت پسندانہ طرز عمل اختیار کیاجائے گا۔ اور قبائلی عوام کے مسائل و مشکلات کے حل کے لئے ترجیحی بنیادوں پر وسائل بروئے کار لائے جائیں گے اور وہ جلد ہی خود کو بندوبستی علاقوں کے ہم پلہ محسوس کرنے لگیں گے۔

متعلقہ خبریں