Daily Mashriq

اپنے خرچ پر قید ہم پاکستانی

اپنے خرچ پر قید ہم پاکستانی

آج مجھے 1960میں ریلیز ہوئی پاکستانی فلم ''سہیلی'' کا ایک سین یاد آ رہا ہے کہ جس میں فلم کی ہیروئین جمیلہ یعنی شمیم آرا صاحبہ بیمار ہونے کا بہانہ کرتی ہیں۔ جب ڈاکٹر دیکھنے آتا ہے تو اسے اپنی نبض دکھاتے ہوئے ایک رقہ پکڑاتی ہیں کہ ڈاکٹر صاحب میں بیمار کچھ نہیں بس میری امی کو کہئے کہ مجھے آب و ہوا کی تبدیلی کے لئے کچھ دن راولپنڈی سے حیدرآباد بھیج دیں کیونکہ مجھے وہاں اپنی سہیلی سے ملنا ہے۔ خلاف توقع ڈاکٹر صاحب نے ایسا نہیں کیا بلکہ نسخے میں بھوک بڑھانے کی دوائی لکھ دی اور تاکید کی کہ جمیلہ کو کھانے میں پھیکے دلیے کے علاوہ کچھ بھی نہ دیا جائے۔بس پھر کیا تھا۔ جمیلہ سہیلی کے بارے میں بالکل بھول گئی اور اس کی زبان پر صرف بھوک بھوک اور کھانا کھانا کے الفاظ تھے۔ کچھ ایسا ہی حال آج کی پاکستانی عوام کا ہے۔ ہمارے عوام کی فکر روزی روٹی اور بنیادی معاش تک اتنی محدود کردی گئی ہے کہ ایک غریب کو دو وقت کی روٹی کے علاوہ کچھ یاد نہیں۔ اس کی فکر معاشی حصول میں اتنی الجھ گئی ہے کہ وہ اپنے مسائل کے حل کیلئے آسان اور فوری مدد چاہتے ہیں۔ عوام کے معاشی مسائل اتنی طوالت اور شدت اختیار کرتے جا رہے ہیں کہ اب ان کے حل کے لئے عام آدمی غلط یا صحیح کی تمیز تک بھول بیٹھا ہے۔ ہر کوئی یہی سوچتا ہے کہ بس میرا کام ہوجائے باقی سب بھاڑ میں جائیں۔ بقول حبیب جالب ''عوام کی فکر جب سو جائے تو امید کی کرنیں ظلمتوں میں کھو جاتی ہیں اور لوگ اپنے خرچ پر ہی قید کی زندگی گزارتے ہیں''۔عام پاکستانی کو سفارش، اوپر تک رسائی، تعلقات اور رشوت بازاری کی ایسی دوائی دی گئی ہے کہ اس کا قانون، انصاف اور سسٹم جیسے ناموں سے اعتبار اٹھتا جا رہا ہے۔ آج کل کے دور میں بھی اور آنے والے وقتوں میں پارٹیوں سے وفاداری اور نظریوں سے لگاؤ ناپید ہوتا جائے گا۔ نمائندے اقتدار کے لالچ میں اپنی دہائیوں اور پشتوں پر محیط وفاداریاں تبدیل کر رہے ہیں اور کریںگے پھر چاہے اقتدار والی قوت کتنی ہی کرپٹ، بد دیانت اور بدنام کیوں نہ ہو کیونکہ ان نمائندوں کو زیادہ تر ان کے ووٹر ہی ایسا کرنے پر اکساتے ہیں۔ اقتدار کی کرسی والی کمائی اور پروٹوکول کیساتھ ایسے نمائندوں کو اگلے انتخابات کی تیاری کیلئے بھی حکومت وقت کے سامنے گھٹنے ٹیکنے پڑجائیںگے۔
نوکریاں نہ بانٹیں تو ووٹ نہیں ملیںگے، تبادلے اور ترقیاں نہ کرائیں توووٹ نہیں ملیںگے، بجلی اور گیس کے کنکشن نہیں دلواتے تو ووٹ نہیں ملیںگے، سڑکیں اور پل نہ بنائیں تو ووٹ نہیں ملیںگے، پولیس اور افسر شاہی پر جائز نا جائز اثر نہ ڈالا تو ووٹ نہیں ملیںگے۔ ٹھیکے اور پرمٹ نہ بانٹے تو ووٹ نہیں ملیںگے، امداد نہ بانٹی یا بانٹ کر تصویریں نہ کھنچوائیں تو ووٹ نہیں ملیںگے، پارٹی کے لیڈر، وزیراعظم یا وزیراعلیٰ کیساتھ تصویر نہ وائرل کی تو ووٹ نہیں ملیںگے، وغیرہ وغیرہ۔ یہ وہ تمام اجزاء ہیں جو آج کل عوامی مقبولیت اور ووٹوں کے حصول کی ترکیب سے مل کر حکومتی پکوان بنانے کیلئے درکار ہوتے ہیں۔ چونکہ سیاسی پارٹیاں اور عوامی نمائندے بھی اس معاشرے کا حصہ ہیں سوسوائے چند ایک کے باقی سب مادہ پرست اور مصلحتی سوچ کیساتھ اپنے خرچ پر ہی قید ہیں۔ بیشتر سیاسی لیڈران اور نمائندوں کو بھی پتہ ہے کہ یہ عوام جتنا زیادہ بھوک، ڈر اور تفرقہ بازی جیسے مسائل میں الجھے رہیں گے اتنا ہی زیادہ حکمرانوں کے مرہون منت ہوگی۔ جو ووٹر لالچ سے راضی نہ ہو اسکو ڈر اور تکلیف دو اور جو ان دونوں اجزاء سے بالاتر ہوں ان کو آپس میں لڑادو، خود ہی آکر گھٹنے ٹیکیںگے۔ اور کیونکہ عوام بیچارے کا تو پہلے ہی ''سہیلی'' فلم والی جمیلہ کی طرح بھوک میں برا حال ہے تو وہ ان بڑی فکروں کے بارے میں نہ تو سوچ سکتے ہیں اور نہ ہی پچھلے ستر سالوں میں ہم نے ایسی فکر کی آبیاری کی ہے۔ اب بھی وقت ہے کہ ہم اپنی بنیادی اکائیاں ٹھیک کریں۔ اس ملک میں قانون، انصاف اور برابری کو یقینی بنائیں۔ اپنی ذات اور برادری کی بجائے پاکستانیت کیلئے ووٹ دیں۔ ملک میں قانون اور انصاف کی حکمرانی ہوگی تو عوام کو بنیادی سہولتیں ایک احسان کے طور پر نہیں بلکہ بنیادی حقوق کے طور پر ملا کریںگی۔ اور پھر کسی بھی نمائندے کی اشرفیوں سے بھری تھیلی کام نہ آئے گی۔ اب بھی وقت ہے کہ ہم عوام اپنے نمائندوں کو سمجھائیں کہ لالچ یا ڈر میں لیا گیا اور دیا گیا ووٹ بھی ایک کرپشن ہے۔ ہم سمجھائیں کہ ان کے اس عمل سے ظلمتیں بڑھتی ہیں، عوام کو سمجھائیں کہ بادشاہ اور رعایا والے دور چلے گئے اور ان نمائندوں کو جس کام کا لالچ یا جس ظلم کے ڈر سے آپ ووٹ دیتے ہیں اس سے پاکستان کے آئین اور قانون نے آپ کو پہلے ہی محفوظ کر دیا ہے۔ ان کو آگاہی دیں کہ وہ کس طرح اپنا جائز حق لے سکتے ہیں۔ آگاہی دیں کہ آپ ووٹ دیں تو اس آئین اور قانون کی پاسداری کا ووٹ دیں، جس میں ایک اربوں روپے کی کرپشن کا ملزم بھی اسی صف میں کھڑا ہو کہ جس میں دو روٹی چرانے والا غریب کا بچہ۔ آپ اس بجٹ کیلئے ووٹ دیں کہ جو غریب موچی اور اسمبلی ممبر کے بچے کو ایک ساتھ، ایک ہی اسکول میں، ایک ہی نظام تعلیم میں پڑھائے۔ آپ اس ادارہ سازی کو ووٹ دیں کہ جو بنا کسی اثرورسوخ کے وسائل کی منصفانہ تقسیم اور روزگار کے یکساں مواقعوں کو یقینی بنائے۔ آپ اس اسمبلی کے لئے ووٹ دیں کہ جو مقابلہ تقریربازی اور باکسنگ'' رنگ'' کی بجائے حسن کارکردگی کا ممبر ہو۔ اور نہیں تو آپ اپنے ٹیکس کے پیسوں کے ناجائز استعمال کو روکنے کیلئے ووٹ دیں۔ وہ ٹیکس جو آپ تنخواہ، ڈیزل، پیٹرول، موبائل فون اور بنیادی اشیاء کے استعمال پر بھرتے ہیں۔ اگر ہم نے ایسا نہیں کیا توہمیشہ کی طرح ہمارے ہی ٹیکس کہ پیسوں سے ہم پر حکمرانی کرنے والے ہمیں لالچ، ڈر اور تفرقہ بازی کے ذریعے اپنے دروازوں پر قید رکھیںگے۔

اداریہ