سیاست میں حساس جذبات چھیڑنے کی روش

سیاست میں حساس جذبات چھیڑنے کی روش

سیاست اور کاروبار میں عوام کے مذہبی جذبات کو بھڑکانا ،اشتعال دلانا جانے کب سے مروج اور مستعمل ہے مگر ہمارے ہاں اس کے لئے ایک محاورہ بہت مشہور ہے ۔وہ ہے ''گنڈا سنگھ وہابی ہوگیا''۔قیام پاکستان سے پہلے کی ہی بات ہوگی جب ایک مقروض مولانا صاحب نے گنڈا سنگھ نامی ساہو کار پر اس بنا پر وہابی ہوجانے کا الزام عائد کیا کہ وہ ان سے رقم کی واپسی کی تکرار کر رہا تھا ۔کچھ ایسا ہی آزادکشمیر قانون ساز اسمبلی کے گزشتہ اجلاس میں ہنگامہ آرائی کے بعد ہوا جب وزیراعظم پاکستان میاں محمدنوازشریف کی حمایت میں ایک قرارداد ایجنڈے کا حصہ بنی تھی ۔اس سے ایک روز قبل انتظامیہ نے پانامہ کیس کے حوالے سے ہی مظفر آبا د میں ہونے والے پی ٹی آئی کے ایک مظاہرے پر لاٹھی چارج کرکے گرفتاریاں کی تھیں اور اس دوران بھگدڑ کے باعث سابق وزیر صدر خواجہ فاروق احمد کی طبیعت بگڑ گئی اور انہیں انجائنا کی تکلیف ہوئی اور ہسپتال داخل کیا گیا جبکہ گرفتار ہونے والوں میں ایک رکن اسمبلی عبدالماجد خان بھی شامل تھے جنہیں کچھ ہی دیر میں رہا کردیا گیا تھا ۔اس ناخوش گوار واقعے کے سائے قانون سازا سمبلی کے اجلاس پر پہلے ہی منڈلا رہے تھے کہ حکومت نے میاں نوازشریف کی حمایت میں قرار داد لانے کا فیصلہ کیا ۔اس قراردا د کے علاوہ کئی اور قراردادیں بھی ایجنڈے کا حصہ تھیں جس میں دوکا تعلق ناموس رسالت کے حوالے سے تھا ۔اپوزیشن ارکان اسمبلی نے میاں نوازشریف کی حمایت والی قرارداد دیکھ کر ایجنڈا کی کاپیاں ریزہ ریزہ کرکے سپیکر کے سامنے پھینک دیں۔جس پر حکومتی ارکان نے اپوزیشن ارکان کو توہین رسالت کا مرتکب قراردے ڈالا۔اپوزیشن ارکان کا موقف تھا کہ انہوں نے میاںنوازشریف کی حمایت والی قرارداد پھاڑکر پھینکی ہے جبکہ حکومتی ارکان کا مسلسل اصرار تھا کہ دراصل یہ ناموس رسالت سے متعلق قرارداد پھاڑی گئی ۔جب یہ الزام خبر کی صورت اختیار کر گیا تو ملک کے کئی ٹی وی چینلز نے اسے بریکنگ نیوز بنایا اور اخبارات نے یہی سرخی جمائی کہ اپوزیشن نے ناموس رسالت سے متعلق قرارداد پھاڑ دی ہے۔حکومت اور اپوزیشن کے درمیان سیاسی اختلافات ہونا کوئی نئی بات نہیں اور ا ن اختلافات کے اظہار کے لئے اسمبلی کا فورم اختیار کرنا عین جمہوری رویہ ہے ۔سپیکر نے ایجنڈا پھاڑنے والے ارکان کی رکنیت ایک دن کے لئے معطل کردی اور اس واقعے کی تفصیل جانچنے کے لئے ایک کمیٹی بھی قائم کردی ۔اپوزیشن نے اسمبلی اجلاس کا بائیکاٹ کرکے اسمبلی کے باہر دھرنا دیا ۔اپوزیشن نے الزام لگایا کہ اجلاس ناموس رسالت اور کشمیر کی صورت حال پر بحث کی خاطر بلایا گیا تھا مگر جب ایجنڈا تقسیم ہوا تو اس میں نوازشریف کی حمایت میں ایک ہی متن کی چار قراردادیں شامل تھیں جس پر ردعمل ظاہر کرنا ان کا حق تھا ۔آزادکشمیر کی اپوزیشن جماعتوں سے پچھلے کچھ عرصے سے عوام کو یہی گلہ ہے کہ بطور اپوزیشن اپنا کردار ادا کرنے کی بجائے ''انجمن امداد باہمی'' کا کردار ادا کرتی ہے ۔دونوں باہمی معاملات پر اتحاد ویک جہتی کا مظاہر ہ کرتے ہیں اور اپوزیشن کسی پبلک ایشو پر کھڑا ہو کر حکومت کے لئے مشکلات پیدا نہیں کرتی ۔یہی وجہ ہے کہ حکومتیں غلطی در غلطی کی راہ پر لڑھکتی رہتی ہیں۔ماضی میں یہی ہوا اور اس بار بھی یہی کچھ ہوتا دکھائی دے رہا ہے ۔اس وقت بھی حکومت اور اپوزیشن میں جوتھوڑی بہت '' کھٹ پھٹ '' چل رہی ہے اس کا تعلق کسی پبلک ایشو کی بجائے فنڈز وغیرہ کے کچھ اور معاملات سے ہے ۔ایسے میں اپوزیشن نے'' انجمن امداد باہمی '' کا ٹھپہ اتارنے کے لئے ہی سہی ایوان میں کچھ جاندار کردار ادا کرنا شروع کیا تو حکومت اس معاملے میں''گنڈا سنگھ وہابی ہوگیا ''کے انداز میں مذہب کا ہتھیار لے کر کود پڑی ۔کوئی ذی ہوش مسلمان توہین رسالت کا تصور بھی نہیں کر سکتا ۔جوں جوں مغربی لابی نے مسلمانوں کونام نہاد برداشت سکھانے کے نام پر توہین رسالت کامنظم سلسلہ شروع کیا ہے اسی رفتار سے مسلمان شان ِ رسالت کے حوالے حساس ہوتے جا رہے ہیں ۔لوگ عدالتوں کے دروازے کھٹکھٹانے اور مقدموں کے جھنجٹ میں پڑنے اور تحقیق میں وقت لگانے کی بجائے ہجوم کے انصاف کا راستہ اختیار کر نے لگے ہیں۔اس راہ میں جان دینا اور جان لینا قابل فخر سمجھتے ہیں۔حال ہی میں مردان کی ولی خان یونیورسٹی میں ایک طالب علم مشال خان کو ہجوم نے اسی الزام میں قتل کیا ۔واقعے کے بعد اب اس معاملے کی تحقیقات ہو رہی ہے۔اس لئے ایک سیاسی معاملے اور کوہالہ پار اپنی اپنی سیاسی قیادتوں کو خوش کرنے کی اس کوشش میں مذہب کا استعمال قطعی غیر ضروری عمل ہے۔یہ معاشرے کے حساس جذبات کو چھیڑکراسے ا شتعال دلانے کی کوشش ہے ۔سیاست میں اس طرح کی کوشش صحت مند رجحان نہیں ۔سیاست کا مقابلہ سیاسی طور طریقوں سے ہونا چاہئے ۔نوازشریف کی حمایت میں قرارداد لانا حکومتی جماعت کا حق تھا اورماضی کی حکمران جماعتیں بھی اپنے ممدوحین کی حمایت میںایسی قراردادیں منظورکر تی رہی ہیں اور اس قرارداد کو مسترد کرنا اپوزیشن کا حق تھی ۔ساری سیاسی جنگ صرف اتنی ہے اور اسے غیر ضروری رنگ دینا معاشرے کو نئی انارکی کے سپرد کرنے کے مترادف ہے۔خدا خدا کرکے اپوزیشن نے کچھ سرگرمی دکھانا شروع کر دی ہے اگرحساس مذہبی معاملات کا سہارا لینے کے اس انداز سے اپوزیشن کی زباں بندی کر دی گئی تو پھر حکومت ہی حکومت رہے گی اپوزیشن تو دبک کر بیٹھ جائے گی جو جمہوری سسٹم کے لئے کسی طور اچھا نہیں ہوگا۔

اداریہ