پولیو ویکسین ، ٹیسٹنگ کی ضرورت

پولیو ویکسین ، ٹیسٹنگ کی ضرورت

پاکستان میں پولیوکے خاتمے کے لئے ایک عر صے سے مہم چلائی جارہی ہے اس مہم کو چلانے میں جب چندعلاقوں کے عوام کی طرف سے مزاحمت سامنے آئی تو حکومت نے مختلف مکتبہ فکر کے جید علماء کو اس بات پہ قائل کیا کہ وہ منبر پر عوام کو سمجھانے کے ساتھ ساتھ میڈیا پر آکر بھی بتائیں کہ پولیو ویکسین کا استعمال کس قدر ضروری ہے سو علماء کے ترغیب دلانے پر اور اس مہلک مرض کی تباہی کو مدنظر رکھتے ہوئے پاکستان کے عوام نے پولیوکے قطرے اپنے بچوں کو پلانے شروع کئے لیکن آج ایک عرصہ کے بعد یہ انکشاف ہو رہا ہے کہ پولیوکی جو ویکسین ہم اپنے بچوں کو پولیوکے خاتمے کے نام پر دیتے رہے ہیں اس ویکسین کو جانچنے کے لئے پاکستان میں کوئی ایک لیبارٹری بھی ایسی نہیں ہے جو یہ بتاسکے کہ اس ویکسین میں کس طرح کے اجزاء ہیں ۔حقیقت یہ ہے کہ پوری دنیامیںکوئی بھی دوائی اگر بنتی ہے تو اس کو دنیا بھر میں ٹیسٹ کیا جاتا ہے اور پھر اس کے فائدوں اور مضمرات پر بحث ہوتی ہے اور آخر میں ایک متفقہ فیصلہ کیاجاتا ہے، ایسا بھی ہوا کہ اگر کسی دوائی پر کسی نے تجربہ کیا اور قابل استعمال ہونے کاسر ٹیفکیٹ دیا لیکن دس سال بعد کسی تجربہ کی روشنی میں اس دوائی میں تبدیلی کی گئی تو اس کو خوش دلی سے قبول کیاگیا کیونکہ یہ انسانی صحت کا معاملہ ہے۔ پاکستان میں بھی ڈرگ ایکٹ 1967ء میں بنا ہوا ہے لیکن اس ڈرگ ایکٹ پر عمل کم ہی ہوتا ہے۔شاید اس ایکٹ کے تحت اب تک کسی ایک بھی دوائی کو ٹیسٹ نہیں کیاگیا۔پاکستان میں المیہ یہ ہے کہ ڈرگ ایکٹ تو بنا ہوا ہے لیکن اس کے لیے ملک بھر میں کوئی ایک بھی اپ گریڈڈ لیبارٹری موجود نہیں ہے۔ ہمارے حکمرانوں کا بھلا کیا جاتا ہے ان کو نزلہ بھی ہو تو وہ امریکا یا برطانیہ میں علاج کرانے چلے جاتے ہیں، ان کے بچے بیرون ملک سے نہ صرف تعلیم حاصل کرتے ہیں بلکہ وہ بیرون ملک میں اپنا علاج بھی کراتے ہیں۔پاکستان میں پولیو کی مہم کو اس وقت مشکوک سمجھاگیا جب خیبرپختونخوا کے ایک سرکاری ڈاکٹر شکیل آفریدی نے جعلی پولیو مہم چلائی اور پھر یکم مئی کی شب امریکی طیاروں نے رات کی تاریکی میں ایبٹ آباد کے اس گھر پر حملہ کرکے مبینہ طور پر اسامہ بن لادن کو مارنے کا دعویٰ کیا۔ ڈاکٹرشکیل آفریدی کے اس اقدام کے بعد ملک بھر میں پولیو ورکرز پر230حملے ہوئے اور اب تک اس میں280افراد جان سے ہاتھ دھوبیٹھے ہیں۔ وفاقی اور صوبائی حکومتیں عوام سے اپیل کررہی ہیں کہ وہ بچوں کو پولیو کے قطرے پلائیں، محترمہ بینظیربھٹو کی صاحبزادی آصفہ بھٹو زرداری پولیومہم کی نگران چیئرپرسن اور سفیر ہیں۔ سیاسی پارٹیاں بھی عوام سے اپیل کررہی ہیں کہ وہ اپنے بچوں کو پولیو کے قطرے پلائیں اور ان کو معذور ہونے سے بچائیں۔ یہ بات کسی حد تک ٹھیک بھی ہے کیونکہ جس طرح چکن پاکس اور دیگر بیماریوں کا جڑ سے خاتمہ ہوا ہے اسی طرح پولیو کا بھی خاتمہ ضروری ہے۔ پولیس' رینجرز' پاک فوج نے اس پر سکیورٹی پلان بنائے ہیں اور اب ان کی سکیورٹی ایس او پی میں پولیو بھی شامل ہے لیکن کسی کو بھی پتہ نہیں ہے کہ پولیو کے قطروں میں کیا ہے؟ یہ اس ملک کے18کروڑ عوام کے ساتھ عجب تماشا ہے۔ پولیو کے قطروں کی آج تک اس ملک میں کوئی تحقیقات نہیں ہوئی ہے۔پاکستان کو90فیصد پولیو کی ویکسین اور قطرے ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن فراہم کرتی ہے اور10فیصد ویکسین اور قطرے حکومت پاکستان خریدتی ہے لیکن آج تک کسی حکومتی ادارے نے عالمی ادارہ صحت کے فراہم کردہ قطروں اور ویکسین کا لیبارٹری سے ٹیسٹ کرایا ہے اور نہ ہی پاکستان کی حکومت نے جو دس فیصد ویکسین اور قطرے خریدتی ہے اس کی کسی لیبارٹری سے ٹیسٹ تصدیق کرائی ہے جس سے واضح ہوتا ہے کہ حکومت پاکستان ہمارے لاکھوںبچوں کی زندگیوں کے ساتھ یا تو کھیل رہی ہے یا پھروہ اس کے لیے اپنی بنیادی ذمہ داریاں پوری کرنے میں مکمل ناکام ہے۔ہم یہاں واضح کرنا چاہتے ہیں کہ بیماری کوئی بھی ہو اس کا علاج کرانا ضروری ہے اور پولیو ایک مہلک بیماری ہے جس کا علاج کرانا لازم ہے، لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جو ادویات بچوں کو دی جارہی ہیں اس کے بارے میں کسی حکومتی ادارے کو پتہ نہیں ہے ہم یہاں حکمرانوں کے سوئے ہوئے ضمیر کو جھنجھوڑ کر پوچھ رہے ہیں کہ اگر ہم کوئی دوائی تیار کریں اور یورپ کو فروخت کریں، کیا یورپ کے لوگ اس دوائی کو بغیر ٹیسٹ کیے استعمال کرسکیں گے؟ پہلی جنگ عظیم سے پہلے ہی یورپ نے یہ فیصلہ کرلیا تھاکہ غریب اور پسماندہ ممالک میں وہ ادویات فراہم کی جائیں گی جو وہاں بیماریاں کم کرنے کے بجائے بیماریوں میں اضافہ کریں گی اور آج سائنسی تحقیقات سے یہ بات ثابت ہوئی ہے کہ اکثر ادویات جن بیماریوں کے خاتمہ کے لیے فروخت کی جاتی ہیں اصل میں وہی ادویات ان بیماریوں میں اضافے کا سبب بن رہی ہیں۔حکومت پاکستان کا فرض ہے کہ وہ ملک کے نونہالوں پر رحم کرے اور فوری طور پرملک کے اندر عالمی معیار کی جدید لیبارٹری قائم کرے اور اس لیبارٹری میں ایسی تمام ادویات کو ٹیسٹ کرے تاکہ پتہ چل سکے کہ ہم جو ادویات بیماریوں کے خاتمہ کے لیے استعمال کررہے ہیں وہ واقعی ان بیماریوں کے خاتمہ کے لیے ہیں یاان بیماریوں میںاضافہ کا سبب بن رہی ہیں؟ پولیو جیسی بیماری کے خاتمہ کی ادویات کو بھی ٹیسٹ کرایاجائے ،کہیں ایسا نہ ہوکہ یہ دوائی بیماریوں کی محرک بن جائے اور ہمیں کانوں کان خبر بھی نہ ہو۔

متعلقہ خبریں