Daily Mashriq


آصف زرداری کی سرگرمی

آصف زرداری کی سرگرمی

پیپلز پارٹی کے شریک چیئرپرسن آصف علی زرداری کی سیاسی سرگرمیاں بالآخر خیبر پختونخوا تک پہنچ گئی ہیں اور انہوں نے گزشتہ دنوں مردان اور ملاکنڈ میں جلسوں سے خطاب کیا۔ پیپلز پارٹی کے یہ جلسے ماضی کے مقابلے میں بہت چھوٹے تھے۔ جلسوں میں عوام کی شرکت بھی مایوس کن رہی اور شاید یہی وجہ تھی کہ آصف علی زرداری کی تقریر میں روایتی چاشنی محسوس ہوئی اور نہ ان کے لہجے میں وہ کھنک سننے کو ملی جو ان کاخاصہ ہے بلکہ کئی مواقع پر محسوس ہوا کہ شاید وہ بھی جلسہ میں شرکاء کی مایوس کن تعداد دیکھ کر کنفیوژن کاشکار ہیں۔ تصور کیا جائے کہ آج اگر محترمہ بے نظیر بھٹو زندہ ہوتیں اور ان جلسوں سے وہ خطاب کرتیں تو یقیناً جلسہ گاہ تو کیا ارد گرد کے میدان اس ہجوم کے لیے کم پڑ جاتے۔ مگر آصف علی زرداری کے لئے عوام اس طرح سے نہیں نکلے۔ اس میں شک نہیں کہ موجودہ قیادت کے مقابلے میں بی بی مرحومہ سے پیپلز پارٹی کے کارکن بھی عقیدت رکھتے تھے اور جلسوں میں انہیں سننے کے لئے عام لوگ بھی بڑی تعداد میں پہنچ جاتے تھے اور یہ ان کی جادوئی شخصیت کا کرشمہ تھا۔

اب جبکہ پارٹی قیادت آصف علی زرداری کے ہاتھ میں ہے اور انہیں بھی یہ احساس ضرور ہے کہ وہ بے نظیر بھٹو یا ذوالفقار علی بھٹو کے پائے کے قائد نہیں ہیں۔ کرشماتی شخصیت کی غیر موجودگی بہر حال اپنی جگہ ایک عنصر ہے۔ مگر گزشتہ کئی سالوں کے دوران خیبر پختونخوا میں پیپلز پارٹی کا تنظیمی عمل بھی متاثر رہا۔ کئی بار صوبائی قیادت تبدیل کی گئی اور نچلی سطح پر کارکنوں کو متحرک کرنے کے لئے کوئی پلاننگ نہیں ہوئی۔ اس میں یہ نکتہ بھی توجہ طلب ہے کہ پارٹی قیادت نے بھی اس صوبے میں کارکنوں کو منظم کرانے میں کسی قسم کی دلچسپی نہیں دکھائی۔ حالانکہ اس صوبے میں پیپلز پارٹی دوبار حکومت بنا چکی ہے۔ یہ حقیقت بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ محترمہ بے نظیر بھٹو کی شہادت کے بعد پیپلز پارٹی کو کئی بحرانوں کا سامنا رہا او ر یہ بھی آصف علی زرداری کی صلاحیت ہے کہ کرپشن' بدعنوانی اور دیگر سنگین الزامات کے باوجود انہوں نے سندھ میں پارٹی کو زندہ رکھا ہوا ہے اور اب انہوں نے پنجاب میں ڈیرے ڈال کر پختونخوا پر بھی توجہ دی ہے اور مردان اور ملاکنڈ میں جلسوں سے خطاب کیا۔ جہاں تک مردان کے جلسے کا تعلق ہے یہ ون مین شو تھا اور اس کے لئے پارٹی میں دوبارہ شمولیت اختیار کرنے والے خواجہ محمد خان نے ہی تیاری کی شاید ان کا خیال تھا کہ پارٹی کے شریک چیئر مین اور سابق صدر کو دعوت دے کر وہ ملحقہ اضلاع کے کارکنوں کو بھی متحرک کرکے یہ جلسہ کامیاب کرادیں گے۔ مگر ایسا کچھ نہیں ہوا اور صرف ان کے حلقے یا کچھ دیگر علاقوں کے پارٹی کارکن ہی جلسے میں نظر آئے۔ یہی حال ملاکنڈ میں منعقدہ جلسے کا بھی ہوا۔ اگرچہ ملاکنڈ ماضی میں پیپلز پارٹی کا گڑھ رہا ہے اور اس وقت ضلعی حکومت بھی پارٹی کے پاس ہے۔ اس طرح ایک رکن اسمبلی محمد علی شاہ باچا بھی اس علاقے سے منتخب ہوئے ہیں جبکہ اب پارٹی کی صوبائی صدارت بھی ملاکنڈ کے پاس ہے۔ مگرجلسہ میں عوامی شرکت توقعات کے مطابق نہیں تھی۔ آصف علی زرداری کا خیبر پختونخوا میں یہ پہلا سیاسی دورہ تھا اور اب انہوں نے اعلان کیا ہے کہ وہ دیگر اضلاع کے ساتھ ساتھ فاٹا کا بھی دورہ کریں گے۔ اپنے خطاب میں انہوں نے سی پیک میں صوبے کے ساتھ زیادتی اور بلاک شناختی کارڈز کے ایشو کا خصوصی تذکرہ کیا اور ملاکنڈ میں عسکریت پسندوں کے خلاف کامیاب آپریشن کا کریڈٹ لینے کی بھی کوشش کی۔ اس کے علاوہ انہوں نے آئندہ انتخابات میں کامیابی کے لئے پارٹی کی ترجیحات کا بھی اعلان کیا۔

پیپلز پارٹی کے بعض عہدیدار یہ تاثر دے رہے تھے کہ صوبے کے چند بڑے سیاسی مہرے ان کے ہاتھ آرہے ہیں لیکن ان جلسوں میں قابل ذکر شخصیت نے پارٹی میں شمولیت کا اعلان نہیں کیا۔ تاہم ان کے ساتھ رابطے اب بھی جاری ہیں اور شاید اگلے مرحلے میں انہیں شمولیت پر آمادہ کیاجاسکے۔

اس وقت پیپلز پارٹی کو اپنی صف بندی پر توجہ دینے کی ضرورت ہے کیونکہ اگلے الیکشن میں بہتر نتائج کا انحصار پارٹی کی کامیاب حکمت عملی پر ہے اور یہ پارٹی کی نئی صوبائی قیادت کے لئے ایک چیلنج بھی ہے۔ حالیہ جلسوں میں عوامی شرکت کی کمی یا عدم دلچسپی کے باوجود آصف زرداری کے دورے کو ناکام قرارنہیں دیا جاسکتا ہے کیونکہ انہوں نے صوبے کے سیاسی ماحول میں ارتعاش پیدا کردیا ہے اور اب اگر اگلے مرحلے کے لئے مردان اور ملاکنڈ کے جلسوں کی غلطیوں اور کوتاہیوں کا جائزہ لے کر منصوبہ بندی کی جائے تو کم از کم پرانے کارکنوں کو بیدار کیا جاسکتا ہے اور یہ ایک حقیقت ہے کہ پیپلز پارٹی کے جیالے صورتحال کو تبدیل کرنا جانتے ہیں۔ اب توقع کی جا رہی ہے کہ آصف علی زرداری کا اگلا دورہ پشاور کا ہوگا اور اس کے لئے پشاور میں پارٹی رہنمائوں نے ابھی سے عندیہ دے دیا ہے۔ اگر آنے والے دنوں میں صوبائی قیادت پشاور میں موجود رہنمائوں کے ساتھ مل کر تیاری کرے تو کوئی مشکل نہیں کہ پیپلز پارٹی اپنا کھویا ہوا مقام دوباہ حاصل کرسکے مگر اس کا دار و مدار مناسب منصوبہ بندی اور اہم رہنمائوں کو متحرک کرنے پر ہے۔

متعلقہ خبریں