مشرقیات

مشرقیات


حضرت عمران بن الحصین جلیل القدر صحابی ہیں۔ ایک مرتبہ بیمار ہوئے اور کمر میں پھوڑا نکلا اور اتنا شدید کہ 32برس تک وہ پھوڑا رہا اور کیفیت یہ تھی کہ کروٹ نہیں لیتے تھے' چت لیٹے ہوتے۔ کھانا بھی کھا رہے ہیں تو چت لیٹ کر اور وضو بھی کر رہے ہیں تو چت لیٹ کر' نماز بھی پڑھتے ہیں تو اشاروں سے چت لیٹ کر پڑھتے ہیں۔ نہ اٹھ سکتے نہ بیٹھ سکتے ' نہ کروٹ بدل سکتے اور تیس برس کامل اس حالت میں گزرے ۔ اندازہ کیجئے کتنی عظیم تکلیف ہوگی؟ کتنی عظیم ا ذیت ہوگی؟۔مگر اس تکلیف کے باوجود چہرہ دیکھا جاتا تھا تو نہایت ہشاش بشاش کہ تندرستوں کے چہروں پر وہ رونق نہ ہو جو حضرت عمران بن الحصین کے چہرہ مبارک پر تھی۔ نہایت ہشاش بشاش اور کھلا ہوا چہرہ۔ لوگوں نے عرض کیا کہ: '' حضرت! بیماری تو اتنی شدید کہ اذیت کی کوئی انتہا نہیں۔ بیٹھ نہیں سکتے' اٹھ نہیں سکتے اور آپ کی بشاشت کی کیفیت یہ کہ کسی تندرست کا چہرہ بھی اتنا شاداب نہیں ہوسکتا جتنا آپ کاہے ؟''آپ نے فرمایا: '' ہاں! اور اس کی وجہ یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے مجھے یہ تکلیف دی تو میں نے بجائے جزع فزع کرنے کے اور بجائے خدا عز و جل سے شکوہ کرنے کے صبر اور تحمل سے کام لیا اور کہا : '' یا الٰہی! تیرا شکر ہے جس حالت میں تو رکھے' میں اس حالت پر راضی ہوں' تو میں نے اس تکلیف پر رضا اور تسلیم کا اظہار کیا اور اپنے آپ کو خدا کے حوالے کردیا اور صبر سے کام لیا' نہ صرف صبر بلکہ شکر بھی کیا۔
(وعظ جوہر انسانی جلد7:)
حضرت ابو قزاعہ کا بیان ہے کہ ہم بعض چشموں سے جو ہمارے بصرہ کے راستے میں پڑتے تھے گزرے تو گدھے کی آواز سنی۔ ہم نے لوگوں سے پوچھا' یہ گدھے کی آواز کہاں سے آرہی ہے؟ اور کس کی ہے؟ لوگوں نے کہا کہ ایک شخص ہمارے قریب رہا کرتا تھا جب اس کی ماں اس سے بات کرتی تو وہ اسے کہہ دیا کرتا تھا کیوں گدھی کی طرح چیختی ہے؟ اس کے مرنے کے بعد اس کی قبر سے روزانہ گدھے کی سی آواز آتی ے۔ حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ میں کسی ضرورت سے کہیں جا رہا تھا' اچانک راستے میں ایک گدھا دیکھا جو زمین سے اپنی گردن نکال کر میرے سامنے ڈھینچوں ڈھینچوں کی آواز نکال کر دوبارہ زمین کے اندر چلا گیا۔ میں اپنے ضروری کام کی جگہ پہنچا تو وہاں کے لوگوں کو راستے کا واقعہ بتایا تو انہوں نے کہا' کیا آپ کو اس واقعہ کا علم ہے؟ میں نے کہا نہیں۔ انہوں نے کہا' در اصل یہ اس محلے کا لڑکا تھا اس کی ماں یہاں سے قریب ہی ایک خیمہ میں رہتی ہے۔ زندگی میں جب اس کی ماں اس کو کسی بات کی فرمائش کرتی تو وہ اس کو برا بھلا کہتا اور کہتا تم سوائے گدھی کے کچھ نہیں ہو' یہ کہہ کر اس (ماں) کے منہ پر جا کر تین مرتبہ رینگتا اور پھر زور دار قہقہہ لگاتا' مرنے کے بعد جب سے ہم نے اس کو دفنایا روزانہ اس (دفن ک) وقت سے وہ اپنا سر باہر نکال کر اپنے خیمے کی جانب رخ کرکے تین مرتبہ اس طرح رینگتا ہے' اس کے بعد قبر میں چلا جاتا ہے۔ (عبرت آموز واقعات)

متعلقہ خبریں