بھارت کی اشتعال انگیزی اور عالمی رائے عامہ

بھارت کی اشتعال انگیزی اور عالمی رائے عامہ

پاکستان اور بھارت کے ملٹری آپریشنز کے ڈائریکٹرز جنرل کے ٹیلی فونی رابطہ کے دوران پاکستان کی طرف سے بھارت کو متنبہ کیا گیا ہے کہ وہ لائن آف کنٹرول او رورکنگ باؤنڈری کی خلاف ورزی کے الزامات پاکستان پر عائد کرنے کی بجائے اشتعال انگیزی سے باز آ جائے کیونکہ بھارت کی اشتعال انگیزیوں کی وجہ سے خطے کے امن کو خطرہ لاحق ہونے کے امکان بڑھ رہے ہیں۔ توقع کی جانی چاہیے کہ بھارت کے حکمران اس تنبیہ پر سنجیدگی سے غور کریں گے اور اشتعال انگیزی میں اضافے کے خطرات کا حقیقت پسندی کے ساتھ جائزہ لیں گے۔ لیکن بھارت کا ماضی میں جو رویہ رہا ہے اس کی بنا پر یہ توقع پوری ہوتی نظر نہیں آتی۔ بھارت اب لائن آف کنٹرول اور ورکنگ باؤنڈری کے اس پار سویلین آبادی پر حملے کرنے کے لیے بھاری اور خود کار اسلحہ بھی استعمال کر رہا ہے۔ اقوام متحدہ کے مبصرین کو پاکستان نے کئی بار ان حملوں کے شواہد دکھلائے ہیں ۔ انہوں نے کیا رپورٹ اقوام متحدہ کو ارسال کی اور وہاں اس پر کیا ردعمل ہوا اس کے بارے میں میڈیا خاموش ہے۔ یہ خاموشی اقوام متحدہ اور عالمی برادری کی خاموشی پر ہی مبنی ہو سکتی ہے۔ بھارت کئی وجوہ کی بنا پر اس اشتعال انگیزی میں ناعاقبت اندیشی پر مبنی اضافہ کرتا جا رہا ہے ۔ بھارت کی حکمران بھاتیہ جنتا پارٹی کی ہندوتوا شدت پسندی کی پالیسی بھارت میں ناکام ہو رہی ہے اور اس کی عوامی پذیرائی کم ہو رہی ہے لیکن بی جے پی انتخابات میں پسپائی کے باوجود اسی شدت پسند پالیسی کے بل پر بھارتی عوام کے ہندو شاونزم کو ابھارنے کے ذریعے کامیابی حاصل کرنے پر مصر ہے۔ بھارت اقوام متحدہ کے مبصر گروپ کو مقبوضہ کشمیر کے ورکنگ باؤنڈری اور کنٹرول لائن کے سرحدی علاقے میں آنے کی اجازت نہیں دیتا۔ بھارت غیر ملکی مبصروں کو مقبوضہ کشمیر میں بھی داخل ہونے کی اجازت نہیں دیتا۔ بھارت کشمیری عوام پر ایسے مظالم ڈھا رہا ہے جن کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی۔ آج کی مہذب دنیا میں بھارت کو ایسے انسان دشمن رویہ کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ پاکستان سے کشمیری عوام کی سیاسی ‘ اخلاقی اور سفارتی امداد کی جو توقع تھی وہ پوری نہیں ہوئی۔ اگر یہ حمایت توقع کے مطابق ہوتی اور بین الاقوامی کمیونٹی کو بھارت کے انسانیت دشمن رویہ سے کماحقہ آگاہ رکھا جاتا تو نوبت یہاں تک نہ آتی۔ نتیجہ یہ ہے کہ بھارت پاکستان کے دفاع کو روز بروز حملوں کے ذریعے دیمک کی طرح کمزور کرنے پر تلا ہوا ہے۔ بھارتی فوجوں کی بلا اشتعال فائرنگ سے اب تک کے حالیہ حملوں میں بیس بچوں اور 112خواتین سمیت 219 افراد شہید ہو چکے ہیں۔ ان حملوں کو برداشت نہیں کیا جا سکتا۔ پاکستان کے ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز نے بھارتی ہم منصب کو انتباہ کر دیا ہے کہ اگر ایسی کارروائیاں جاری رہیں تو خطے کا امن خطرہ میں پڑ سکتا ہے۔ اس انتباہ کے ساتھ ہی سویلین حکومت کو اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے پر بھرپور توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ آج کے زمانے کی جنگ میں متحارب ملکوں کی فوجوں کیساتھ ساتھ عوام بھی شامل ہوتے ہیں اور کیونکہ آج ہر جنگ بین الاقوامی صورت حال پر اثر انداز ہوتی ہے اسلئے عالمی برادری بھی اس سے لاتعلق نہیں رہ سکتی۔ اس لئے بین الاقوامی برادری کو موجودہ پاکستان بھارت تعلقات کی موجودہ صورت حال سے آگاہ رکھنا ضروری ہونا چاہئے۔ سابق وزیراعظم نواز شریف نے متعدد ملکوں میں پاکستان کے ارکان پارلیمنٹ پر مبنی وفود بھیجے جنہیں مناسب بریفنگ نہیں دی گئی تھی۔ ان وفود نے کیا رپورٹ پیش کی یہ معلوم نہیں ہو سکا اور نہ ان کے دوروں کے باعث بھارت کے رویہ میں کوئی فرق نظر آیا۔ اب وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے پچھلے دنوں ایسے ہی ارادے کا اظہار کیا تھا لیکن اس کے بعد اس ضمن میں کیا پیش رفت ہوئی اس کی تفصیل دستیاب نہیں۔ سوال یہ ہے کہ آیا پاکستان کے ایک سوبیس سے زیادہ سفارت خانے کیا کر رہے ہیں۔ مسئلہ کشمیر اسی وقت پیدا ہو گیا تھا جب پاکستان آزاد ہوا تھا۔ دفتر خارجہ میں اقوام متحدہ کی قراردادوں سمیت ایک ایک تفصیل موجود ہے۔ کشمیریوں پر بھارت کے انسانیت دشمن مظالم اور پاکستان کے مؤقف کے حق میں اقوا م متحدہ کی قراردادوں کی بنا پر پاکستان کا موقف انسانی حقوق اور اخلاق کے اصولوں پر مبنی ہے۔ ہمارے سفارت خانوں کو چاہیے کہ وہ عالمی رائے عامہ کو اس مسئلہ کی حساسیت سے کماحقہ آگاہ کریں اور اس ذمہ داری کا احساس دلائیں کہ دو ایٹمی طاقتوں کو مجرمانہ خاموشی کے ذریعے تصادم کی طرف دھکیلنے سے عالمی امن خطرے میں پڑ سکتا ہے۔

اداریہ