Daily Mashriq

مہنگائی کا تحفہ

مہنگائی کا تحفہ

بجٹ پیش ہونے سے چند گھنٹے پہلے وزیر خزانہ کے عہدے پر فائز ہونے والے مفتاح اسماعیل نے بجٹ کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ بجٹ متوازن اور حقیقت پسندانہ ہے جب کہ مبصرین کہہ رہے ہیں کہ یہ تاجروں کا بجٹ ہے۔ یہ بھی سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ بجٹ میں جو کچھ دیا جا رہا ہے اس کے لیے فنڈز کہاں سے آئیں گے ۔ حکومت کی آئینی مدت ایک ماہ کے قریب رہ گئی ہے لیکن بجٹ پورے سال کا پیش کیا گیا ہے۔ مفتاح اسماعیل نے ان سوالوں کا جواب دینے کی بجائے اعلان کیا ہے کہ آئی ایم ایف کو مدد کے لیے پکارنے کی ضرورت پیش نہیں آئے گی ۔ اس دعوے کے ساتھ ہی انہوں نے چین کے ایک بینک سے ایک ارب ڈالر کے قرضے کا بھی بندوبست کر لیا ہے جو دو ایک روز میں سٹیٹ بینک میں پہنچ جائے گا۔ لیکن وزیر خزانہ نے اس بینک کا نام بتایا ہے اور نہ ہی قرضے کی شرائط بیان کی ہیں۔ یہ قرضہ زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافے کے لیے لیا گیا ہے جو چند ماہ پہلے تک صرف دس ارب ڈالر رہ گئے تھے ۔ چینی بینک کے قرضے پر انحصار سے یہ اندازہ کرنا مشکل نہیں کہ وزیر خزانہ نے چند ہفتے پہلے جس ایمنسٹی سکیم کا اجراء کیا تھا اسے کچھ خاص پذیرائی نہیںملی ہے ورنہ وہ بڑے طمطراق سے یہ کہہ سکتے تھے کہ ایمنسٹی سکیم سے قومی خزانے میں اتنا زرِمبادلہ آ چکا ہے اور مزید کی توقع ہے اس لیے ہمیں آئی ایم ایف کے پاس جانے کی ضرورت نہیں۔ امید کی جانی چاہیے کہ وہ زرِمبادلہ کے ذخائر کے بارے میں تفصیل بھی آئندہ کسی پریس کانفرنس میں بتائیں گے اور اس میں ایمنسٹی سکیم سے جو کچھ حاصل ہو گا اس کے بارے میں بھی بتائیں گے۔ وزیر خزانہ نے اگرچہ بجٹ کو حقیقت پسندانہ اور متوازن قرار دیا ہے لیکن جاتے جاتے عوام پر پیٹرول بم گرا دیا ہے۔ پیٹرولیم لیوی کی مد میں اضافے کے ذریعے انہوں نے عام آدمی کے لیے مہنگائی کے ایک طوفان کا راستہ کھول دیا ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ پیٹرولیم لیوی میں اضافے کے باعث پیٹرول کی قیمت میں بیس روپے فی لیٹر تک اضافہ ہو جائے گا ۔ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے اثرات سے پاکستان کے عوام واقف ہیں کیوں کہ کئی بار وہ یہ برداشت کر چکے ہیں لیکن اس بار جب پیٹرول کی قیمت میں کمر توڑ اضافہ ہو گا تو بازار کی ہر چیز کی قیمت میں اضافہ ہو جائے گا کیونکہ حمل و نقل کے مصارف میں اضافہ ہو جائے گا۔ کرایوں میں اضافہ ہو گا‘ لوکل ٹرانسپورٹ اور شہروں کے درمیان چلنے والی ٹرانسپورٹ کے کرائے میں بھی اضافہ ہو گا۔ اس کے ساتھ ہرقسم کے خوردہ فروش بھی قیمتوں میں اضافہ کریں گے کیونکہ ان کے پاس جواز ہو گا کہ رسل و رسائل کی لاگت میں اضافہ ہو چکا ہے۔ بچوں کے سکول جانے سے لے کر آٹے دال کے بھاؤ ، حتیٰ کہ تمام مصارف زندگی کی لاگت بڑھ جائے گی۔ مفتاح اسماعیل کی حکومت کی مدت تو ایک ڈیڑھ ماہ میں اپنے انجام کو پہنچ جائے گی لیکن نگران حکومت اور اس کے بعد آنے والی حکومت کے لیے مسائل پیدا ہوں گے ۔ سوال یہ ہے کہ آیا یہ کسی حکمت عملی کا نتیجہ ہے۔
میاں نوا زشریف اور ان کا نظریہ
سابق وزیر اعظم آج کل خصوصاً پنجاب کے لیگی نمائندوں سے ذاتی ملاقاتیںکر رہے ہیں، اس سے پہلے وہ ملک بھر میں جگہ جگہ پبلک جلسے کر رہے تھے لیکن اب وہ منتخب لوگوں سے ذاتی مراسم کو مضبوط کر رہے ہیں جن میں سے اکثر کو یہ شکایت رہی ہے کہ اپنے دور وزارت عظمیٰ میں کبھی میاں نواز شریف نے ان کی بات بھی نہیں سنی۔ گزشتہ روز فیصل آباد اور گوجرانوالہ ڈویژن کے لیگی نمائندوں سے گفتگو کے دوران انہوں نے کہا کہ دس یا بیس دن کے بعد وہ کہاں ہوں گے یہ نہیں کہہ سکتے تاہم ان کا نظریہ نہیں بدلے گا۔ ان کا اشارہ احتساب عدالت سے ممکنہ طور پر سزا پانے کے بارے میں ہے جس کا فیصلہ ابھی آنا ہے۔ تاہم میاں صاحب اس حوالے سے ہمدردی کا ووٹ حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہ ان کی سیاسی حکمت عملی ہے جن پر ان کا اختیار ہے ۔ پاکستان میں تعلق نبھانے اور گھر آنے والوں کا احترام کرنے کی روایت مضبوط ہے۔ شاید اسی بنا پر کسی نے انہیں مشورہ دیا ہے کہ وہ خود جا کر نمائندوں سے ملاقاتیں کریں لیکن ان ملاقاتوں میں میاں نواز شریف جو کہہ رہے ہیں کہ ان کا نظریہ برقرار رہے گا ، اس نظریے کی وضاحت وہ کرتے نظر نہیں آتے۔ ’’ووٹ کو عزت دو‘‘ کے جس بیانیہ کو وہ عام کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اس سے تاثر ابھرتا ہے کہ اکثریت کا ووٹ حاصل کرنے والا آئین اور قانون سے بالاتر ہو جاتا ہے جب کہ پاکستان کا آئین قوم کا متفقہ آئین ہے اور قانون کی بالادستی پر سب یقین رکھتے ہیں ماسوائے ان عناصر کے جو قانون میں موجود گنجائشوں کا فائدہ اٹھانے کو جائزہ سمجھتے ہیں۔ میاں صاحب کو اپنے نظریے کی وضاحت کرنی چاہیے ۔ اس سے پہلے وہ جمہوریت کی سربلندی کا علم اٹھائے ہوئے تھے۔ لیکن جمہوریت ملک میں اب بھی ہے ، وہی اسمبلیاں ہیں جو میاں صاحب کے دورِ وزارت عظمیٰ میں تھیں۔ ان کی پارٹی کی وفاق میں بھی حکومت ہے اور سب سے بڑے صوبے پنجاب میں بھی۔ پنجاب کے وزیر اعلیٰ شہباز شریف کو انہوں نے خود اپنی پارٹی کا صدر نامزد کیا اور وفاق میں وزیراعظم شاہد خاقان عباسی بھی انہی کے نامزد ہیں۔ دونوں میاں صاحب سے وفاداری کا دم بھرتے ہیں۔ ووٹ کو عزت دینے کا مطلب بھی جمہوریت کی پاسداری ہے لیکن اب میاں صاحب کہہ رہے ہیں کہ جب سے وہ وزارت عظمیٰ سے الگ ہوئے ہیں معیشت کا برا حال ہو گیا حالانکہ وفاقی بجٹ کے پیش کئے جانے سے پہلے انہوں نے ہدایت کی کہ کوئی نیا ٹیکس نہ لگایا جائے اور نئے ٹیکس نہیں لگائے گئے لیکن انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ شاہد خاقان عباسی اور شہباز شریف کی کوئی وقعت نہیں ہے۔ میاں نواز شریف اگر مسلم لیگ ن کو کوئی نظریاتی جماعت بنانا چاہتے ہیں تو انہیں اپنے نظرئیے کی وضاحت کرنی چاہئے۔

اداریہ