Daily Mashriq


بجٹ سیاپا

بجٹ سیاپا

اس دعوے کیساتھ کہ پاکستان دنیا کی 24ویں بڑی معیشت بن چکا ایک پارلیمان کیلئے اجنبی (مقرر کردہ وزیر خزانہ پارلیمان کے رکن نہیں ہیں) وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے سال 2018-2019 کیلئے وفاقی بجٹ پیش کر دیا۔ 5932.5ارب روپے کے بجٹ میں 11کھرب روپے دفاعی بجٹ کیلئے مختص ہیں۔ یہ پچھلے سال کے مقابلہ میں 103 ارب روپے زیادہ ہیں۔ چوروں کیلئے بنائی گئی ٹیکس ایمنسٹی سکیم بجٹ کا حصہ قرار دے دی گئی۔ کم ازکم پنشن 10ہزار روپے مقرر کی گئی۔ سرکاری ملازمین کے ہاؤس رینٹ میں 50فیصد اضافے کی جبکہ تنخواہوں اور پنشن میں 10فیصد اضافے کی تجویز ہے۔ آئندہ الیکشن کے 2ارب 53کروڑ اور 10لاکھ کے اخراجات کی رقم مختص ہیں۔ عسکری اداروں کے سابقین کی پنشن حسب سابق سول بجٹ کا حصہ رہے گی۔ پارلیمانی اجنبی نے بہت سارے دعوے کئے ان دعوؤں کی وجہ وہ اعداد وشمار ہیں جو بجٹ بناتے وقت مدنظر رکھے گئے۔ ایک ایسی حکومت جس کی رختصی میں 31 دن باقی ہیں اس نے 365 دنوں کا بجٹ کیسے پیش کر دیا۔ یہ بذات خود ایک قانونی سوال ہے۔ کیا آنے والی حکومت اس مالیاتی تخمینے پر نظر ثانی کرے گی یا برقرار رکھے گی یہ بھی سوال ہے کہ کیا موجودہ حکومت بحث کے بعد بجٹ منظور کروالے گی؟ یہ سوال بنیادی طور پر اہم ہے۔ تنخواہوں اور پنشن میں 10فیصد اضافہ اونٹ کے منہ میں زیرے کے مترادف ہے۔ پی ایس ڈی پی کیلئے رکھی گئی 1650ارب کی رقم کے حوالے سے سوال یہ ہے کہ جب چار میں سے تین صوبوں کے وزرائے اعلیٰ قومی اقتصادی کونسل کے اجلاس سے بائیکاٹ کر گئے تو کیسے یہ رقم مختص کردی گئی۔ 75 سال کی عمر کے پنشنرز کیلئے پنشن کی کم سے کم حد 15ہزار روپے مقرر کرتے وقت اگر آمدنی اور اخراجات کے عدم تعاون کو دیکھ لیا جاتا تو زیادہ مناسب تھا۔ پارلیمانی اجنبی کا دعویٰ ہے کہ بجٹ متوازن ہے آئی ایم ایف سے نیا قرضہ نہیں لیں گے۔ دوسری طرف قومی اسمبلی میں بجٹ پیش کرنے سے ایک دن قبل کے اقتصادی جائزے کے مطابق فی کس قرضہ ایک لاکھ پچیس ہزار روپے ہے۔ 2013ء میں جب پیپلز پارٹی کی حکومت رخصت ہوئی تو قرضہ کی فی کس شرح 58 ہزار روپے تھی جو اب ایک لاکھ پچیس ہزار روپے ہے یعنی نون لیگ کے پانچ برسوں میں 67 ہزار روپے فی کس قرضے کا اضافہ ہوا تقریباً ساڑھے 12ہزار روپے سالانہ۔

97 ارب روپے تعلیم اور بنیادی صحت کیلئے 37 ارب روپے مختص کئے گئے۔ 97 ارب اور 37 ارب ملاکر 134 ارب روپے بنتے ہیں اب حساب کر لیجئے کہ 22کروڑ کی آبادی والے ملک میں فی خاندان کیا نکلے گا۔ آئندہ مالی سال کے بجٹ پر نرم سے نرم الفاظ میں تبصرہ یہ ہوگا کہ بنیادی طور پر یہ بجٹ عوام کے نہیں بلکہ مراعات یافتہ طبقات کیلئے ہے۔ وہی مراعات یافتہ طبقات جو پچھلے پانچ وفاقی بجٹس سے بھرپور فیض پاتے رہے۔ دیہی آبادی کا معیار زندگی بہتر بنانے کیلئے کوئی منصوبہ نہیں۔ لوگوں کو فقیر بنائے رکھنے کے خیراتی پروگرام میں اضافہ ایک بار پھر اس سوال کو جنم دیتا ہے کہ اربوں روپے خیرات کرنے سے زیادہ بہتر نہیں کہ کاٹیج انڈسٹری کیلئے بلاسود قرضے دئیے جائیں تاکہ غربت و بیروزگاری کی شرح میں کمی کی جاسکے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ وفاقی حکومت دعویٰ کر رہی ہے کہ غربت کی شرح میں 5فیصد کمی سے اب یہ شرح 29 کی بجائے 24فیصد ہوگئی ہے۔ المیہ یہ ہے کہ پچھلے پانچ سال کے دوران 2فیصد سالانہ کے حساب سے غربت کی شرح میں اضافہ ہوا اور فی الوقت 59فیصد آبادی خط غربت کے نیچے زندگی بسر کر رہی ہے۔ روزگار کے نئے مواقع دستیاب نہیں۔ فنی تعلیم کیلئے انقلابی خطوط پر جن اقدامات کی ضرورت تھی ان پر توجہ نہیں دی گئی۔ یہ بھی نہیں بتایا گیا کہ گردشی قرضوں کی صورت کیا ہے۔ ادائیگی کیسے ہوگی۔ اصولی طور پر یہ بھی بتایا جانا چاہئے کہ سی پیک روٹ کے مختلف منصوبوں کیلئے چین سے لئے گئے قرضوں پر سود کی شرح کیا ہے۔ بظاہر یہ دعویٰ ہے کہ 8فیصد شرح سود ہے لیکن دستاویزات سے تاثر اُبھرتا ہے کہ 47ارب ڈالر کے قرضوں کی 93 ارب ڈالر کی صورت میں واپسی ہوگی۔ اس حوالے سے اگر پارلیمان کو صحیح صورتحال بتا دی جائے تو زیادہ مناسب ہوگا۔

وفاقی بجٹ پر ابھی صوبائی حکومتوں کا ردعمل آنا ہے فی الوقت ایک بات کی نشاندہی ضروری ہے کہ قومی اقتصادی کونسل سے تین صوبوں کے وزرائے اعلیٰ کے بائیکاٹ کے بعد ضروری تھا کہ مالی سال کا بجٹ پیش کرنے کی بجائے تین ماہ کا عبوری تخمینہ پیش کیا جاتا تاکہ آنیوالی حکومت اس مدت کے دوران اپنا بجٹ بنا کر پیش کرتی۔ بہرطور ایک عوام دشمن اور سرمایہ دار دوست بجٹ نون لیگ اور اس کے اتحادیوں کو مبارک ہو۔ پچھلے پانچ سالوں کے دوران 13فیصد سالانہ کے حساب سے مہنگائی کی شرح میں مجموعی اضافہ ہوا جبکہ دعویٰ یہ ہے کہ مہنگائی میں 3فیصد کمی ہوئی ہے۔ سبزیوں‘ دالوں اور دوسری ضروریات کی قیمتوں میں اضافہ غالباً نون لیگ کے نزدیک مہنگائی نہیں ہے۔ بجٹ دستاویزات کی بنیاد پر کی گئی تقریر اور دعوے ریت کے گھروندوں سے زیادہ کچھ بھی نہیں۔ صوبوں کیلئے قومی مالیاتی ایوارڈ میں اضافہ خوش آئند ہے لیکن یہ صوبوں کی ضرورتوں سے کہیں کم ہے زیادہ بہتر ہوتا اگر اصلاح احوال کیلئے قومی اقتصادی کونسل کا دوبارہ سے اجلاس بلا لیا جاتا۔ آئندہ مالی سال کے وفاقی بجٹ پر حزب اختلاف اور قانونی واقتصادی ماہرین کے اعتراضات کا بھی ٹھنڈے دل سے جواب دیا جانا چاہئے۔ وفاقی حکومت بتائے کہ بجلی پیدا کرنے والی کتنی کمپنیاں مقررہ پیداوار دے رہی ہیں ‘ کتنے یونٹ خسارے میں ہیں اور کتنے بھرپور دعوؤں کے باوجود ابھی کام شروع نہیں کر پائے اور ان پر کھربوں روپے کے اخراجات ہوگئے۔ نندی پور اور بھکی پاور پلانٹ بارے بھی صحیح صورتحال بتائی جانی چاہئے تھی۔

متعلقہ خبریں