کسب کمال کن کہ عزیز جہاں شوی

کسب کمال کن کہ عزیز جہاں شوی

؎کسب کمال کن کہ عزیز جہاں شوی۔ فارسی زبان کے اس مقولے یا ضرب المثل میں جو پتے کی بات چھپی ہونے کے باوجود بڑی نمایاں اور واضح الفاظ میں ہم تک پہنچتی نظر آرہی ہے وہ یہی ہے کہ ہمیں کوئی ایسا کسب یا ہنر سیکھنا چاہئے جس میں ہم کمال حاصل کرسکیں یا ہم نے جو کام، کسب یا ہنر سیکھا ہوا ہے اس میں کمال حاصل کر لیں۔ یعنی ہم اس کسب یا ہنر میں مشاق یا ماہر بن جائیں اور یوں دنیا والوں کی نظر میں مقبول ہوکر ان کے عزیز جانے جائیں جو لوگ کسب کمال کر کے عزیز جہاں بننے کی سند حاصل کر لیتے ہیں، دنیا والوں کی نظر میں قدر ومنزلت کے مالک بن جاتے ہیں۔ ایسے لوگ رزق کی تلاش میں مارے مارے نہیں پھرتے بلکہ رزق ان کو تلاش کرتا پھرتا ہے۔ بات یہیں پر ختم نہیں ہوتی۔ عزت شہرت اور نیک نامیاں بھی اس کی جھولی میں پکے ہوئے پھل کی طرح آن گرتی ہیں اور اس طرح وہ ایک اچھی شہرت رکھنے والا انسان بن کر ملک قوم اور معاشرے کا اچھا فرد یا اچھا شہری بن جاتا ہے۔ اچھا فرد اور اچھا شہری بننے کیلئے صرف کسب کمال کا حامل ہونا ضروری نہیں اس کیلئے کچھ شرطیں اور بھی ہیں۔ یہی کہ وہ ناجائز منافع خور نہ ہو، ذخیرہ اندوزی، چور بازاری اور اس قسم کی دیگر درجنوں قباحتوں سے پاک اور صاف ہو۔ اگر آپ نے کسی بھی فن یا ہنر میں مہارت حاصل کر لی ہے تو آپ ان لوگوں کیلئے ایک ضرورت بن جائیں گے جن کو زندگی کے اس شعبے میں کوئی کام کروانا ہوگا جس میں آپ نے کمال حاصل کر لیا ہے۔ فرض کیا اگر آپ ایک اچھے ڈرامہ نگار بن جاتے ہیں تو آپ اپنی صلاحیتوں کے بل بوتے پر متعلقہ شعبہ سے وابستہ لوگوں پر اپنی اہلیت ثابت کر دیں گے، تو ظاہر ہے اچھا ڈرامہ لکھوانے کیلئے، ڈرامہ ریکارڈ کرکے پیش کرنیوالے پروڈیوسر یا ان کے ادارے آپ سے رابطہ کریں گے لیکن خدا نخواستہ آپ نے اس فن میں مہارت حاصل نہیں کی تو اس فیلڈ سے تعلق رکھنے والی کمپنیاں نہ صرف آپ سے کترانے اور پہلو بچانے لگیں گی بلکہ بڑی صفائی سے ٹال مٹول کرتے ہوئے آپ سے پیچھا چھڑانے کی کوشش کریں گی یا آپ کو کھری کھری سنا کر آپ کا یوں دل توڑ دیں گی کہ آپ آئندہ کبھی بھی اس جانب آنے کا سوچ بھی نہ پائیں گے۔دنیا میں جتنے بھی کاروبار چل رہے ہیں وہ اپنے اپنے پیشوں میں مہارت حاصل کرنیوالوں کے دم قدم سے رواں دواں ہیں۔ بقول شکیل اعظمی
ہر گھڑی چشم خریدار میں رہنے کیلئے
کچھ ہنر چاہئے بازار میں رہنے کیلئے
ایک اچھے اور مشاق پائلٹ کے بغیر جہاز اڑان نہیں بھر سکتا۔ اچھے ڈرائیور کے بغیر گاڑی چلانے والا نہیں ملتا۔ یہ جو نانبائی کی دکان پر تندور میں روٹیاں پکانے والا ہوتا ہے نا اسے نان پس کہتے ہیں۔ آٹا گوندھنے والے کا اپنا کوئی نام ہوگا اور آٹے کے پیڑے بنانے والے کو شاید پیڑچی کے نام سے یاد کرتے ہوں۔ نان فروشوں کے ہاں اپنے اپنے شعبے میں مہارت حاصل کرنے والوں کی پوری ٹیم کام کرتی ہے، تب جاکر نان، کلچہ، پھلکا، روغنی، پراٹھا اور معلوم نہیں اس قبیل کی کتنی قسم کی روٹیاں تیار ہوکر ’دانے دانے پر لکھا ہے کھانے والے کا نام‘ کے مقولہ سچ ثابت کرنے لگتی ہیں اور جب کسی کو بھوک ستانے لگتی ہے تو وہ روٹی نامی کسب کمال کے اس شہکار کو خریدنے اور اپنانے کیلئے جیب سے رقم نکال کر کشاں کشاں نانبائیوں کی دکان پر پہنچ جاتے ہیں۔ ہم جو ٹھہرے معاشرتی یا سماجی جانور۔ ایک دوسرے کے بغیر رہ ہی نہیں سکتے۔ ہمارے ہجرے بیٹھکیں تھڑے گلیاں محلے قصبے گاؤں شہر اور ان کی نوآبادیاں سب ایک لگے بندھے اصول کے تحت چل رہی ہیں۔ یہ جو پنساری بیٹھا ہوا ہے نا آپ کی گلی میں آپ تک اشیائے صرف پہنچانے میں کتنی محنت کرتا ہے اس کا آپ کو اندازہ ہی نہیں۔ آپ اس کی دکان پر جاکر گھر کیلئے سودا سلف لے آتے ہیں۔ یہ چیز مہنگی ملی یہ چیز اس کی دکان میں تھی ہی نہیں۔ اگر اس قسم کی باتیں آپ کی زبان پر آنے لگیں تو سمجھئے کہ دکاندار بے چارہ کسب کمال کا مالک ہی نہیں۔ اگر ہوتا تو اپنی دکان کو اپ ٹو ڈیٹ یا مکمل رکھتا۔ مٹی کا گھڑا کچا تھا جو لے ڈوبا مہینوال کی سوہنی کو لیکن شاعر بھی سوہنی کی اس ادا کو جان دینے کا ہنر سمجھ بیٹھا
جان دینے کا ہنر ہر شخص کو آتا نہیں
سوہنی کے ہاتھ میں کچا گھڑا تھا دیکھتے
اور یہ جو پکے گھڑے ہوتے ہیں نا، گاؤں کی مٹیاریں ان کو اپنے سیمی بدن سے چمٹا لیتی ہیں کہ ان میں پنہاں ہوتا ہے کمہار کے ہنر کا کمال۔ یہ جو سیاستدان ہیں بڑے گھاک ہوتے ہیں اپنے ہنر میں، لوٹ کھسوٹ کے ماہر، جھوٹ بولنے کے ماہر، سبز باغ دکھانے کے ماہر، ہر کس وناکس کا اعتبار حاصل کرنے کے دھنی۔ صرف سیاستدان ہی نہیں، ہم سب ہی باکمال لوگ ہیں، سیانے کہتے ہیں کہ جو کچھ نہیں کرتا کمال کرتا ہے، اے کاش کہ ہم کسب کمال بھی کرتے اور عزیز جہاں شوی کی منزلوں پر پہنچنے کیلئے مخلص حساس اور انصاف دار بھی ہوتے۔ آہ کہ ہنرمند تو سب ہی ہوتے ہیں مگر مخلص، سچا اور ایماندار کوئی کوئی ہوتا ہے۔ ہنر ہنر ہوتا ہے اور ہنر ہنر کے سوا ہنر ہی ہوتا جو ہنرمند کو ہردلعزیز بنانے کا موجب ہوتا ہے چاہے وہ ہنر کسی کی جانب دیکھ کر مسکرا دینے کا ہی ہنر کیوں نہ ہو۔ اور وہ کس کمال کی مسکراہٹ کا ہنر تھا جسے دیکھ کر احمد فراز سے یہ کہے بغیر رہا نہ گیا کہ
دیکھا مجھے تو ترک تعلق کے باوجود
وہ مسکرا دیا یہ ہنر بھی اسی کا تھا

اداریہ