Daily Mashriq

موت سے پہلے آدمی، غم سے نجات پائے کیوں؟

موت سے پہلے آدمی، غم سے نجات پائے کیوں؟

اس بجٹ کے حوالے سے اب کئی روز مسلسل بات کی جائے گی کیونکہ اس ملک کا ہر ایک شخص یہ سمجھتا ہے کہ ہم اس بجٹ سے متاثر ہونیوالے ہیں حالانکہ ایک ایسا ملک جہاں بیک وقت کئی قسم کی معیشتیں زندہ ہوں اور ان معیشتوں میں سے کئی حکومتی ریڈار پر موجود ہی نہ ہوں حکومت کا بجٹ مکمل صورتحال کا احاطہ ہی نہیں کر سکتا۔ ہم میں سے اکثریت اس امر سے بخوبی واقف ہے کہ ہمارے ملک میں بجٹ کے دائرہ کار میں انتہائی نیک زندگی بسر کرنیوالی سفید معیشت کے علاوہ، سیاہ معیشت بھی موجود ہے، سلیٹی معیشت بھی اور جانے کس کس رنگ میں معیشت جلوہ افروز ہے لیکن بہرحال یہ سارے حقائق ہمارے لئے قابل غور نہیں۔ شاید اسلئے بھی کہ ہم اس بجٹ سے شاید اس قدر متاثر بھی نہیں جس قدر اس بجٹ سے خود یہ مرتی ہوئی حکومت متاثر ہورہی ہے۔ وہ حکومت جو اس وقت آخری دنوں پر ہے اور ا س بجٹ کی صورت میں اپنے بعد آنے والوں سے اپنا بدلہ لے لینا چاہتی ہے۔ اس بجٹ کو دیکھ کر جانے کیوں اس مرتے ہوئے شخص کا بار بار خیال آتا ہے جو اپنی اولاد، اپنے رشتہ داروں سے انتہائی ناخوش ہے اور مرنے سے پہلے یہ طے کر دینا چاہتا ہے کہ اس کی بے پناہ دولت ان میں سے کسی کے بھی ہاتھ نہ آسکے۔ اگر کسی طور انہیں کوئی حصہ وصول بھی ہو تو اسے خرچ کرنا، اس سے بھی زیادہ اذیت ناک ہو۔ حکومت کو اپنے ختم ہو جانے کا بھی علم ہے اور یہ بھی وہ بخوبی جانتے ہیں کہ اب ان کی حکومت نہ آسکے گی۔ میاں نوازشریف اور خواجہ آصف کیساتھ جو ہوچکا، اسحاق ڈار، شہباز شریف، سعد رفیق اور دیگرکئی مسلم لیگی لیڈران وہ مستقبل اپنے لئے واضح دیکھ رہے ہیں۔ اس کی وجہ وہ کچھ بھی بیان کرنے کی کوشش کریں حقیقت یہی ہے کہ مسلم لیگی سیاستدانوں نے کوئی کسر نہیں اُٹھا رکھی تھی۔ مسلم لیگ ن کا خاصا ہے کہ یہ اپنے اردگرد چاپلوس بیوروکریسی کوجمع کرتی ہے چنانچہ جب عدالت عالیہ نیب کی مدد سے ان میں سے ہر ایک کی وزارتوں کے چہیتے افسران کی چھان بین کروائے گی، کمال کہانیاں سامنے آئینگی۔ یہ بیچارے تو ایسے ہی حیران رہینگے، ایسے ہی پوچھتے رہینگے کہ ’’مجھے کیوں نکالا‘‘ اور ’’میر ا کیا قصور‘‘ لیکن حقیقت یہ ہے کہ بس انہیں اپنی ہی بدعنوانی کا ادراک نہیں یہ تو نہایت ایمانداری سے کیبنٹ ڈویژن سے کئی کئی گاڑیاں مستعار لیتے ہیں اور ان کے تعین کردہ پسندیدہ بیوروکریٹس monetization کے باوجود کئی کئی گاڑیاں زیر استعمال رکھتے ہیں، سرکاری ڈرائیور بھی ہوتے ہیں اور اس سب میں انہیں کوئی قباحت محسوس نہیں ہوتی۔ ایسی کئی چھوٹی چھوٹی اور بڑی بڑی باتیں ملکر وہ بدعنوانی بنتی ہے جس سے ملک کا سسٹم برباد ہوجاتا ہے اور یہ بیچارے سمجھ ہی نہیں پاتے کہ انہوں نے غلط کیا کیا ہے۔یہ بجٹ جس کے بارے میں ہم مسلسل بات کرنا چاہتے ہیں اس کے تکنیکی تجزیئے سے بڑھ کر تو یہ بات اہم ہے کہ اس بجٹ کو پیش کرنیوالوں کا نفسیاتی تجزیہ کر لیا جائے۔ وہ بیچارے اس اذیت اور دباؤ کا شکار ہیں کہ حکومت ان کے ہاتھوں سے جا رہی ہے اور ان کی ’’کرنیاں‘‘ بھی کھل رہی ہیں۔ اب جانے کبھی یہ دوبارہ انتخابات لڑنے کے اہل بھی ہونگے یا نہیں۔ دوسری جانب جس قوتوں کو کمزور سمجھ کر انہوں نے ہمیشہ مضحکہ اُڑایا، وہ طاقتور ترین بن کر ان کے سامنے آرہی ہیں۔ مینار پاکستان کا جلسہ مسلم لیگ ن کی سیاست کے منہ پر ایک طمانچہ ہے۔ عمران خان مسلم لیگ ن کے گڑھ لاہور میں اتنا بڑا جلسہ کر رہے ہیں، اس سے زیادہ پریشان کن بات اور کیا ہو سکتی ہے۔ اسمبلی میں پیش کیا گیا بجٹ، اسمبلی میں ہی مخالفت دیکھ چکا۔ جناب خورشید شاہ نے تو مفتاح اسماعیل کے بجٹ پیش کر سکنے کی اہلیت پر بھی بڑا اہم سوال اُٹھایا تھا۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر اپنے بلند وبانگ دعوؤں کے باوجود، کیا واقعی حکومت دباؤ کا شکار ہے؟ اس بجٹ سے تو لگتا ہے کہ شاید معاملہ دباؤ سے بھی کچھ آگے بڑھ چکا ہے کیونکہ حکومت اس دباؤ میں ایسی حرکتیں کر رہی ہے کہ ان کی پریشانی کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ ایسے لگتا ہے کہ سیاسی نابالغین اپنے وجود، اپنی بقاء کی لڑائی لڑ رہے ہیں۔ ان کی حرکات وسکنات میں اتنا ہی اُتھلاپن اور ایسا ہی بچپنا موجود ہے۔ دباؤ نے انہیں سوچنے سمجھنے کی صلاحیتوں سے بھی عاری کردیا ہے۔ سمجھ نہیں آتی کہ آخر وہ اس قدر بے پرکی کیوں اڑا رہے ہیں اور آخر سارے ہی اس قدر حواس باختہ کیوں ہوئے جاتے ہیں کہ انہیں کوئی سمت دکھائی نہیں دیتی، مسائل کے حل کا کوئی سرا نہیں ملتا۔ اس بجٹ دستاویز کو دیکھتے ہوئے مجھے مسلم لیگ ن کی حکومت پر کئی بار ترس آیا ۔ بے چارے کس اذیت کا شکار ہیں ’’موت سے پہلے آدمی غم سے نجات پائے کیوں؟‘‘ اور پھر خیال آتا ہے کہ وہ ٹھیک ہی تو کہتے ہی کہ
دل ہی تو ہے نہ سنگ وخشت، درد سے بھر نہ آئے کیوں؟
روئیں گے ہم ہزار بار، کوئی ہمیں ستائے کیوں؟
وہ رو رہے ہیں اور ہم انہیں ٹھیک سے رونے بھی نہیںدیتے۔ کیسا ظالمانہ سلوک روا رکھا ہے۔

اداریہ